چیف منسٹر سے ملاقات کیلئے گاڑی میں ’ بیٹھنے ‘ اور ’ گیسٹ ہاوز‘ آنے کی دعوت

   

ریونت ریڈی کے قریبی شخص پر خاتون صنعتکار کا الزام ۔ سوشیل میڈیا پر تفصیلی پوسٹ ۔ ثبوت و شواہد پیش کرنے کیلئے تیار رہنے کا بھی دعوی

حیدرآباد 20 ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں ابھی ’مس انگلینڈ‘ کا مسئلہ حل نہیں ہوا کہ ایک نیا معاملہ طول پکڑنے لگا ہے۔ شوبھا ریڈی نامی خاتون صنعت کار نے اپنے X کھاتہ پر چیف منسٹر ریونت ریڈی کے قریبی شخص پر سنگین الزامات عائد کرکے کی گئی پوسٹ میں انہیں ’گیسٹ ہاؤز‘ مدعو کئے جانے کا الزام عائد کیا ہے۔ شوبھا ریڈی نے اپنی طویل سوشل میڈیا پوسٹ میں چیف منسٹر ریونت ریڈی سے ملاقات اور انصاف طلب کرنے رجوع ہونے پر انہیں چیف منسٹر کے قریبی شخص کی جانب سے اپنی BMW گاڑی میں بٹھانے اور چند منٹ ساتھ گذارنے کی بات کہی گئی ۔ خاتون کی سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر پوسٹ کے ساتھ ہی انٹلیجنس اور میڈیا ادارے سرگرم ہوگئے اور میڈیا نمائندوں سے بات چیت کے دوران بھی شوبھا ریڈی نے بتایا کہ وہ چیف منسٹر ریونت ریڈی تک رسائی حاصل کرکے ان کے پاس موجود ثبوت و شواہد پیش کرنے تیار ہیں اور اسی لئے وہ چیف منسٹر سے رابطہ کرنا چاہتی تھیں ۔ انہو ںنے بتایا کہ چیف منسٹر کے قریبی سمجھے جانے والے شخص نے جی او 68 کے سبب مسائل کو حل کروانے اور ان کے استدلال کی سماعت کیلئے ’گیسٹ ہاؤز‘ میں ملاقات کی پیشکش کی جس سے وہ ذہنی اذیت کا شکار ہوچکی ہیں۔ متھونا ایڈورٹائزنگ نامی کمپنی کی مالک شوبھا ریڈی نے چیف منسٹر ریونت ریڈی کے نام لکھے گئے ’کھلے مکتوب‘ میں بتایا کہ وہ گذشتہ تین برس سے آؤٹ ڈور اڈورٹائزنگ کے شعبہ میں کام کرنے ایک قانونی اور منصفانہ موقع کی طلبگار ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں ریونیو شیئرنگ اساس پر کاروبار کی تجاویز پیش کی تھیں اورجب تک باقاعدہ ٹنڈر جاری نہیں کئے جاتے اس وقت تک عارضی خدمات کی انجام دہی کا موقع طلب کیا تھا۔شوبھا ریڈی نے اس پوسٹ میں جی او ایم ایس 68 کا حوالہ دینے کے علاوہ اس میں رعایتوں اور نرمی کا بھی تذکرہ کیا۔ انہو ںنے شکایت کی کہ جب وہ اپنی جائز شکایت حکومت کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کر رہی تھیں اس دوران ایک ایسے شخص سے رابطہ کیا جسے میں چیف منسٹر کا قریبی سمجھتی تھی۔ مذکورہ شخص نے شوبھا ریڈی کو راست ایک ’گیسٹ ہاؤز‘ آنے کہا تاکہ اس معاملہ پر بات کی جاسکے۔ انہوں نے پوسٹ میں کہا کہ وہ کسی کا نام لیتے ہوئے کسی پر ذاتی الزام برسرعام عائد کرنا نہیں چاہتی لیکن ان کے پاس تمام شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے ایک خاتون صنعتکار کے ساتھ ایسے سلوک پر حیرت کا اظہار کرکے کہا کہ وہ ذہنی اذیت میں مبتلاء ہیں ۔ انہوں نے دوبارہ واضح کیا کہ وہ کسی کا احسان لینے یا رعایت حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہی ہیں بلکہ وہ اپنے قانونی حق اور مساوی موقع و سلوک کے ساتھ باوقار انداز میں کاروبار کی خواہشمند ہیں۔ بتایا گیا کہ شوبھا ریڈی 3بچوں کی ماں ہیں اور ان کی جانب سے عائد ان الزامات کی خفیہ ایجنسیوں سے تحقیقات بھی شروع کی جاچکی ہیں۔ سوشل میڈیا پر اس پوسٹ کے وائرل ہونے کے ساتھ ہی کئی گوشوں سے اس معاملہ کو ’مس انگلینڈ‘ سے جوڑ کر کہا جارہا ہے کہ چیف منسٹر کے قریبی افراد جو ’گفٹ‘ دینے پر یقین رکھتے ہیں اب انہیں ’یادگار‘ گفٹ ملنے لگے ہیں۔واضح رہے کہ شہر میں 2025 میں ہوئے ’مس ورلڈ‘ مقابلوں سے اچانک واپس ’مس انگلینڈ‘ نے پروگرامس کے دوران ہراسانی کی برطانیہ پہنچ کر شکایت کی تھی اور معاملہ سیاسی طور پر کافی گرم ہوا تھا لیکن اس کی تحقیقاتی رپورٹ اب تک بھی منظر عام پر نہیں آئی اور اب اس نئے سنگین الزام نے تلنگانہ کی سیاست کو دوبارہ گرما دیا ہے۔3