ایران اور امریکہ کا جنگ بندی میں مزید دو ہفتوں کی توسیع پر غور، امریکی جریدہ کی رپورٹ
واشنگٹن ۔ 15 اپریل (ایجنسیز) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ چین ان سے خوش ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کھلوا رہے ہیں۔ امریکہ اور چین آبنائے ہرمز کیلئے مل کر کام کررہے ہیںسوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنے بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ وہ مستقل طور پر آبنائے ہرمز کو کھول رہے ہیں، جو نہ صرف چین بلکہ پوری دنیا کے مفاد میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال دوبارہ کبھی پیدا نہیں ہوگی۔انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ چین نے ایران کو اسلحہ فراہم نہ کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ وہ مئی میں بیجنگ کے دورے کے دوران چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے اور توقع ظاہر کی کہ انہیں وہاں پرتپاک استقبال ملے گا۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکہ اور چین مل کر ’سمجھداری اور اچھے انداز‘ میں کام کر رہے ہیں، جو لڑائی سے بہتر ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکہ جنگ لڑنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکی چینل کو انٹرویو میں مزید دعویٰ کرتے ہوئے کہا امریکہ، ایک گھنٹے کے اندر ایران کے پلانٹس اور پلوں کو ختم کرسکتا ہے۔اس دوران ایران اور امریکہ نے جنگ بندی میں مزید دو ہفتوں کی توسیع پر غور شروع کردیا۔امریکی جریدے بلومبرگ کے مطابق اس حساس معاملے سے واقف شخص نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کی اور بتایا کہ جنگ بندی میں توسیع کا مقصد مذاکرات کیلئے مزید وقت حاصل کرنا ہے۔امریکی جریدے کے مطابق ثالث ممالک انتہائی متنازعہ مسائل کے حل کیلئے تکنیکی بات چیت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان مسائل میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور ایران کی جوہری افزودگی شامل ہیں۔جریدے کے مطابق تکنیکی مذاکرات کامیاب ہوئے تو اگلے مرحلے کے مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ایک امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ جنگ بندی میں توسیع ہوگی۔اس سے قبل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ بندی میں توسیع پر غور نہیں کر رہے، شاید اس کی ضرورت ہی نہ پڑے۔امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ جنگ ختم ہونے کے قریب ہے ، ایران بہت شدت سے معاہدہ کرنا چاہتا ہے، آنے والے دو دنوں میں ایک حیرت انگیز منظر دیکھنے کو ملے گا ، امریکہ کی ترجیح معاہدہ کرنا ہے۔صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کے حملوں پر خلیجی ملکوں کو شدید دھچکا پہنچا۔ انہیں ہرگز توقع نہیں تھی کہ ایران اْن پر حملہ کردے گا۔H/I