ڈوبتے کو تنکے کا سہارا

   

اگر زندگی کا کوئی اشارہ چاہیئے
ڈوبتے کو تنکے کا سہارا چاہیئے
یہ ایک کہا وت ہے کہ ’ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ‘ اس کامطلب یہ ہوتا ہے کہ کوئی بھی جب مشکل حالات کا شکار ہوتا ہے اور پریشانیوں میں گھرا ہوتا ہے تو وہ تنکے کا سہارا لینے سے بھی گریز نہیں کرتا ۔ آج ملک میں بی جے پی کی حالت اسی طرح کی ہوگئی ہے ۔ بی جے پی کو ملک کے کئی طبقات کی ناراضگی کا سامنا ہے ۔ پارٹی اپنے آپ کو مشکلات میں گھرا ہوا محسوس کر رہی ہے ۔ ایک طرف ملک کے بیروزگار نوجوان روزگار اور ملازمتوں کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں تو دوسری طرف طلباء برادری کی جانب سے تعلیم کے شعبہ میں اصلاحات اور بہتری کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا جا رہا ہے ۔ طلباء کے احتجاج کی وجہ سے ہی مرکزی وزارت سے دھرمیندر پردھان کو مستعفی ہونا پڑا تھا ۔ بی جے پی اور اس کے تلوے چاٹنے والے اینکروں کی جانب سے ساری صورتحال کو سدھارنے کی کوشش کی گئی تاہم اس کوشش میں حالات کو مزید بگاڑدیا گیا ہے ۔ کہیں اس احتجاج کو قوم مخالف قرار دیا گیا ۔ کہیں ہندو ۔ مسلم نعرے لگائے جانے کے بے بنیاد دعوے کئے گئے ۔ کہیں بیرونی فنڈنگ کی بات کہی گئی ۔ کہیں ان احتجاجی نوجوانوں اور طلباء کو دہشت گردوں کی بی ٹیم قرار دیا گیا تو کہیں انہیں وائرس قرار دینے سے بھی گریز نہیں کیا گیا ۔ پارلیمنٹ مارچ پر پولیس کی زیادتیوں اور پیلٹ گنس کے استعمال کی وجہ سے الگ حکومت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ پارلیمنٹ میں اکثریت رکھنے کے باوجود حکومت ایوان میں برہم اور جارحانہ تیور والی اپوزیشن کا سامنا نہیں کرپائی اور وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے ایوان کی کارروائی سے دور ہی رہنے کو ترحیح دی ۔ اپوزیشن لگاتار وزیر داخلہ سے سوال کرتی رہی لیکن وزیر داخلہ نے 20 دن تک ایوان میں آکر کوئی جواب نہیں دیا ۔ ملک بھر میں طلباء اور نوجوانوں میں ناراضگی کی لہر چل رہی ہے ۔ اس کا اثر سماج کے دوسرے طبقات پر بھی پڑنے لگا ہے ۔ اب حکومت کی مدح سرائی کو طرہ امتیاز سمجھنے والے عناصر بھی حکومت کے خلاف ہلکی سی لب کشائی کرنے ہی میں عافیت محسوس کرنے لگے ہیں ۔
اس صورتحال میں بی جے پی لگاتار صورتحال کے استحصال کی کوشش میں مصروف ہوگئی ہے اور اسے کوئی مسئلہ ہاتھ نہیں آ رہا ہے ۔ یوم آزادی تقریب کے دوران سونیا گاندھی کے ایک اشارے کو اب مسئلہ بناتے ہوئے اسے حب الوطنی سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ اب نہ صرف بی جے پی کے مرکزی قائدین بلکہ کئی ریاستی قائدین ‘ا س کے تلوے چاٹنے والے پالتو اینکرس اور کئی گوشوں سے سونیا گاندھی کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے ۔ ایک مہینے تک طلباء کے احتجاج کو نظر انداز کرنے والے اینکرس بھی اسی کوشش میں مصروف ہوگئے ہیں اور طلباء کے احتجاج کو کچل دینے کا دعوی کرنے والے قائدین بھی اس پر بیان بازیاں کرنے لگے ہیں۔ یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ سونیا گاندھی نے یوم آزادی تقریب کے دوران وندے ماترم کو روکنے کی کوشش کی تھی ۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ حقیقت اس کے برعکس ہے اور سونیا گاندھی نے ایک کرسی کیلئے اشارہ کیا تھا اور بی جے پی کی جانب سے اس کو ایک بڑا مسئلہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ ملک کا کوئی سیاسی لیڈر شائد ہی ایسا ہو جو کسی قومی گیت یا ترانے کی مخالفت کرے یا اسے روکنے کی کوشش کی جائے ۔ سیاسی نظریات ایک دوسرے کے مختلف ہوسکتے ہیں لیکن حب الوطنی اور قوم پرستی پر کسی کو بھی بے بنیاد طور پر نشانہ بنانے کی کوشش در اصل بی جے پی کی جانب سے حالات کو بدلنے کی جدوجہد ہی کہی جاسکتی ہے ۔
چونکہ بی جے پی کو کئی طبقات کی ناراضگی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اپوزیشن اب جارحانہ تیور کے ساتھ حکومت کو جواب دے رہی ہے ایسے میں بی جے پی ان حالات کو بدلنے اور حب الوطنی پر سوال کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو شائد کامیاب نہیں ہو پائے گی ۔ اب ملک کے نوجوان‘ طلباء اور کئی طبقات حکومت کے جھانسے میں اور اس کے پروپگنڈہ کا شکار ہونے کو تیار نہیں ہیں ۔ وہ اپنے حق کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں اور انہیں ان کے بنیادی مسائل اور مطالبات سے بھٹکانا شائد ممکن نہیں ہوگا ۔