ڈی ایل ایف فوڈ اسٹریٹ آئندہ چند ہفتوں میں مصروف ترین سڑک میں تبدیل

   

سڑک کی توسیع کا فیصلہ، ٹھیلہ بنڈی رانوں اور فٹ پاتھ کاروباریوں کو متبادل جگہ فراہم کرنے کی تجویز
حیدرآباد۔27اپریل(سیاست نیوز) رات دیر دگئے کھانے کے شیدائیوں کا پسندیدہ مرکز ڈی ایل ایف فوڈ اسٹریٹ چند ہفتوں کے بعد مصروف ترین راستہ میں تبدیل ہوجائے گی کیونکہ ڈی ایل ایف فوڈ اسٹریٹ کی سڑک کی توسیع کا فیصلہ کرتے ہوئے اس راہداری پر موجود تمام ٹھیلہ بنڈی رانوں اور فٹ پاتھ کے کاروباریوں کو ہٹانے کا فیصلہ کیاگیا ہے اور کہا جا رہاکہ ریاستی حکومت کی جانب سے کئے گئے اس فیصلہ کے بعد اندرون ایک ماہ ان کاروباریوں کو یہاں سے ہٹاتے ہوئے سڑک کی توسیع کے لئے انہدامی کاروائی کی جائے گی ۔ بتایاجاتا ہے کہ اس علاقہ میں کاروبار کرنے والوں کو بلدیہ کی جانب سے متبادل جگہ کی فراہمی کو یقینی بناتے ہوئے انہیں ماہانہ کرایہ کے اساس پر جگہ فراہم کرنے کے علاوہ انہیں شناختی کارڈ کے ساتھ جگہ دی جائے گی تاکہ انہیں بیروزگار ہونے سے بچایا جاسکے۔ برسوں سے ڈی ایل ایف کی یہ راہداری اطراف واکناف کے علاقوں میں موجود انفارمیشن ٹکنالوجی دفاتر میں خدمات انجام دینے والوں کو رات دیر گئے کھانے کی اشیاء کی فراہمی کرنے والی ان چھوٹی ریستوران اور ٹھیلہ بنڈی رانوں کو چند ہفتوں کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بتایاجاتا ہے کہ 200 سے زائد کھانے پینے کے ان مراکز کو متبادل جگہ کی فراہمی کے سلسلہ میں اقدامات کا آغاز کردیا گیا ہے اور آئندہ ماہ کے اواخر تک عہدیداروں کی جانب سے ان ٹھیلہ بنڈی رانوں اور دکانداروں کی منتقلی کے اقدامات کو مکمل کرنے کے فوری بعد اس سڑک کی توسیع کے کاموں کا آغاز کردیا جائے گا ۔ ذرائع کے مطابق شام کے اوقات میں شروع ہونے کے بعد صبح کی اولین ساعتوں تک جاری رہنے والے اس اشیائے خورد و نوش کے بازار کو منتقل کرنے کے اقدامات کی کئی گوشوں سے مخالفت کی جار ہی ہے لیکن بازار میں تجارت کرنے والے تاجرین کا کہناہے کہ جب خود بلدیہ کی جانب سے انہیں متبادل جگہ کی فراہمی کے اقدامات کئے جا رہے ہیں وہ اس سہولت سے استفادہ حاصل کرنے کے لئے تیار ہیں کیونکہ انہیں بلدیہ کی جانب سے کرایہ پر شناختی کارڈ کے ساتھ اگر جگہ حاصل ہوجاتی ہے تو ایسی صورت میں انہیں من مانی رقومات ادا کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی بلکہ وہ اپنی مرضی کے مطابق کرایہ ادا کرتے ہوئے بلدیہ کے کرایہ دار بن جائیں گے اور بغیر کسی بھی طرح کی ہراسانی کے کاروبار کرنے کی انہیں سہولت حاصل ہوجائے گی اور انہیں کسی کو معمول دینے کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔3