کیف کے ایک اور اہم پل پر روسی حملہ

   

کیف ۔ 3 اکتوبر (ایجنسیز) روس نے یوکرینی دارالحکومت کییف میں ایک اور اہم پل کو نشانہ بنایا ہے۔ مسلسل حملوں کے باعث شہر میں شدید ٹریفک جام پیدا ہو گیا جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے کیف کو ٹکڑے ٹکڑے کر رہے ہیں۔ یوکرین کے دارالحکومت کیف کے میئر ویٹالی کلیچکو نے ہفتہ کے روز بتایا کہ ڈرون حملے کے انتباہ کے بعد شمالی پل پر حملہ کیا گیا۔ یہ حملہ ایک روز قبل جنوبی پل پر ہونے والے حملے کے بعد کیا گیا، جسے شہری حکام نے ’’کیف کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے‘‘ کی کوشش قرار دیا ہے۔ فروری 2022 میں روس کے مکمل حملے سے شروع ہونے والی جنگ کا زیادہ تر مرکز مشرقی یوکرین رہا ہے، جبکہ کیف بڑی تباہی سے نسبتاً محفوظ رہا تھا۔ حالیہ حملہ دریائے دنیپرو پر قائم ان پلوں پر ہونے والے متعدد حملوں کا تسلسل ہے، جو کیف کے مشرقی اور مغربی حصوں کو آپس میں ملاتے ہیں۔ جمعہ کے روز تیز رفتار جیٹ ڈرونز کے حملوں کے بعد حکام نے جنوبی پل کو بند کر دیا تھا جبکہ ایک اور پل پر آمدورفت محدود کر دی گئی تھی۔ اس کے نتیجے میں پورے شہر میں شدید ٹریفک جام ہوگیا اور شہریوں کو متبادل راستے اختیار کرنا پڑے۔ کئی مقامات پر گاڑیوں اور بسوں کی طویل قطاریں لگ گئیں جبکہ بعض مسافر اپنا سفر پیدل مکمل کرنے پر مجبور ہوئے۔ جنوبی پل کیف کے دو حصوں کو ملانے والے 8 اہم پلوں میں سے ایک ہے۔ شہری حکام کے مطابق اس پل کو جمعرات سے اب تک کئی مرتبہ نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ جمعہ کے روز میئر کلیچکو نے خبردار کیا تھا کہ دارالحکومت کو اب جنگی حالات کے مطابق خود کو ڈھالنا ہو گا۔