کارکنوں میں جوش و خروش، آتشبازی اور رقص، تلگو دیشم کارکن بھی جشن میں شامل
حیدرآباد۔/3 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) کانگریس کے ہیڈ کوارٹر گاندھی بھون میں 10 سال بعد جشن کا کوئی منظر دیکھنے کو ملا۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد 2 اسمبلی انتخابات ہوئے جن میں بی آر ایس کو کامیابی حاصل ہوئی اور کانگریس پارٹی شرمناک شکست سے دوچار ہوئی تھی۔ دونوں اسمبلی انتخابات میں نتائج کے دن تلنگانہ بھون میں جشن اور گاندھی بھون میں سناٹا طاری تھا لیکن گاندھی بھون کی اس قدیم عمارت کی قسمت آج اس وقت کھل گئی جب طویل انتظار کے بعد کانگریس کو عوام نے اقتدار سے سرفراز کیا۔ صدر پردیش کانگریس کی حیثیت سے ریونت ریڈی کے تقرر کی اگرچہ کئی کانگریس قائدین نے مخالفت کی تھی لیکن ان کے تقرر کے بعد ہی کانگریس کے اچھے دن شروع ہوئے اور ریونت ریڈی نے پارٹی کو برسراقتدار لاکر ہی دَم لیا۔ کے سی آر سے مقابلہ کرنا کانگریس کے بس کی بات نہیں تھی لیکن ریونت ریڈی نے اسے بطور چیلنج قبول کرتے ہوئے پارٹی کو کمزور اپوزیشن سے اقتدار تک پہنچادیا۔ نتائج کے آغاز کے ساتھ ہی گاندھی بھون میں سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں کارکن اور حامی جمع ہوگئے اور آتشبازی اور رقص کرتے ہوئے اپنی خوشی کا اظہار کیا۔ ان کارکنوںکی اس لئے بھی خوشی کی انتہا نہیں تھی کیونکہ دس سال کے بعد خوشی منانے کا کوئی موقع ملا ہے۔ وقفہ وقفہ سے پارٹی کے سینئر قائدین گاندھی بھون پہنچتے رہے اور کارکنوں نے ان کا والہانہ استقبال کرتے ہوئے اپنی مسرت کا اظہار کیا۔ دوپہر تک گاندھی بھون کے احاطہ میں تل دھرنے کی بھی جگہ نہیں تھی اور حامی مختلف گروپس کی شکل میں رقص کررہے تھے۔ بعد میں جب ریونت ریڈی گاندھی بھون پہنچے تو ان کا غیر معمولی استقبال ہوا اور ’سی ایم ۔ سی ایم‘ کے نعروں سے فضاء گونج اُٹھی۔ گاندھی بھون کے باہر سینکڑوں افراد کی موجودگی کے سبب ٹریفک میں خلل پڑا۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ کانگریس کے پرچموں کے علاوہ اچانک تلگودیشم پارٹی کے پرچم بھی نمودار ہوگئے اور تلگودیشم کے حامی چندرا بابو نائیڈو زندہ باد کے نعرے لگارہے تھے۔ دراصل وہ کانگریس کی کامیابی پر اس لئے بھی خوش تھے کیونکہ بی آر ایس حکومت نے چندرا بابو نائیڈوکی گرفتاری کے خلاف حیدرآباد میں احتجاج کی اجازت نہیں دی تھی۔ تلگودیشم نے تلنگانہ کے اسمبلی انتخابات میں حصہ نہیں لیا اور کسی بھی پارٹی کی تائید نہیں کی لیکن تلگودیشم کیڈر اور ان کے حامی جو شہر کے مضافاتی علاقوں کے اسمبلی حلقہ جات میں قابل لحاظ تعداد میں ہیں۔ تلگودیشم کے حامی گاندھی بھون پہنچ کر یہ تاثر دینے کی کوشش کررہے تھے کہ سیما آندھرا کے رائے دہندوں نے کانگریس کی تائید کی۔ ریونت ریڈی جس وقت گاندھی بھون پہنچے اور پارٹی کارکنوں کے استقبال کا جواب دے رہے تھے تو انہیں تلگودیشم کے پرچم دیکھ کر حیرت ہوئی۔ تلگودیشم کے حامیوں نے چندرا بابو نائیڈو اور ریونت ریڈی دونوں کے حق میں نعرہ بازی کی۔ ریونت ریڈی جب پارٹی آفس پہنچے تو وہاں موجود ڈپٹی چیف منسٹر کرناٹک ڈی کے شیو کمار اور انچارج تلنگانہ مانک راؤ ٹھاکرے نے انہیں مٹھائی کھلائی۔