ٹاٹا موٹرس اور مہیندرا کی کار عوام کی اولین پسند، ماہانہ اخراجات میں کمی کا دعویٰ
حیدرآباد ۔7۔ مئی (سیاست نیوز) گاڑیوں کے استعمال کے معاملہ میں عام طور پر یہ رجحان دیکھا گیا ہے کہ مارکٹ میں جو گاڑی عصری سہولتوں کے ساتھ متعارف کی جاتی ہے ، اس کے خریداروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے ۔ ٹو وہیلرس ہوں یا پھر 4 وہیلرس عوام کی اولین ترجیح زائد عرصہ تک چلنے کے بجائے فوری طور پر بہتر سہولتیں ہوچکی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ٹو وہیلرس اور 4 وہیلرس تیار کرنے والی کمپنیاں وقفہ وقفہ سے نیا ماڈل متعارف کرتے ہوئے خریداروں کو راغب کر رہی ہیں۔ نئے ماڈل کی گاڑیوں کو عوام میں مقبول بنانے کے لئے پبلسٹی میں اہم فلمی یا اسپورٹس کی شخصیتوں کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ ان دنوں دیگر ممالک کے ساتھ ہندوستان میں بھی الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ میں اضافہ ہوچکا ہے ۔ ٹو وہیلرس اور 4 وہیلرس میں الیکٹرک گاڑیاں مارکٹ میں متعارف کی گئی ہیں۔ گزشتہ دنوں ہندوستان میں الیکٹرک کاروں کی خریدی پر سروے کیا گیا جس میں ٹاٹا کمپنی کی الیکٹرک وہیکل خریداروں کی اولین ترجیح رہی ہے۔ ٹاٹا موٹرس نے جاریہ سال 8510 الیکٹرک گاڑیاں فروخت کی ہیں۔ مہیندرا اینڈ مہیندرا کی 5395 الیکٹرک کاریں خریدی گئی جبکہ ایم جی موٹر کی تیار کردہ 4978 کاروں کو فروخت کیا گیا ۔ سروے کے مطابق گاڑیوں کی تیاری میں موجود نامور کمپنیوں کی کاروں کو زیادہ پسند کیا جارہا ہے ۔ ون فاسٹ اور ماروتی سوزوکی کپنیوں کی جانب سے تیار کردہ کاروں کی فروخت میں قابل لحاظ اضافہ درج کیا گیا ۔ حکومتوں کی جانب سے آلودگی پر قابو پانے کیلئے عوام کو الیکٹرک کاروں کی خریدی کی ترغب دی جا رہی ہیں جس کے نت یجہ میں عوام نے نئی کاروں کے معاملہ میں الیکٹرک کار کو ترجیح دی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ الیکٹرک کار استعمال کی صورت میں مینٹننس کے اخراجات بھی کم ہوتے ہیں اور پٹرول اور ڈیزل کے بوجھ سے نجات ملتی ہے۔ کار اونرس کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کی صورت میں اوسطاً ماہانہ 50 ہزار تا ایک لاکھ روپئے کی بچت ہوتی ہے کیونکہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے۔1/k