یورپی یونین اجلاس میں تارکین وطن سے نمٹنے پرزائد توجہ

   

برسلز: یورپی یونین کے رہنما بلاک کی بیرونی سرحدوں کو مضبوط کرنے کے طریقے تلاش کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ یورپی پارلیمنٹ اور جرمنی و آسٹریا کے مختلف انتخابات میں انتہائی دائیں بازو کی کامیابیوں کے بعد یہ ملاقات ہوئی ہے۔یورپی یونین کے رکن ممالک کے رہنما جمعرات کو برسلز میں جمع ہونے شروع ہوئے، جہاں غیر قانونی نقل مکانی سے نمٹنے کی پالیسیوں پر آگے بڑھنا ایجنڈے میں سرفہرست تھا۔اجلاس میں شرکت کرنے والے رہنماؤں کو ایک دعوتی خط میں یورپی کونسل کے صدر چارلس مشیل نے لکھا تھا کہ اس اجلاس میں ہجرت کا معاملہ بات چیت کا ایک اہم نقطہ ہو گا۔مشیل نے کہا کہ یہ اجلاس کہ غیر قانونی نقل مکانی کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات پر توجہ مرکوز کرے گا، جس میں ہماری بیرونی سرحدوں پر مضبوط کنٹرول، بہتر شراکت داری اور تارکین وطن کی واپسی پر مضبوط پالیسیاں شامل ہوں گی۔ یورپی کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈیئر لائن نے اس حوالے سے کہا ہیکہ غیر ملکی تارکین وطن سے نمٹنے کیلئے البانیہ بھیجنے کی جو متنازعہ پالیسی اطالوی حکومت نے اپنائی ہے، یورپی یونین اس سے بھی سبق حاصل کر سکتی ہے۔یورپی یونین کے دیگر رکن ممالک نے بھی اب تارکین وطن کو تیسرے ممالک میں بھیجنے کے طور طریقوں پر غور کرنا شروع کر دیا ہے۔سن 2024 میں غیر قانونی طریقے سے سرحدیں عبور کرنے کے واقعات میں 40 فیصد سے زیادہ کی کمی واقع ہوئی ہے، جبکہ گزشتہ برس یہ تعداد تقریباً ایک دہائی میں اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔سربراہی اجلاس سے قبل ہی اٹلی کی انتہائی دائیں بازو کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے صحافیوں کو بتایا کہ عملی حل پر کام کرنے کی خواہش ہے۔