واشنگٹن ۔ 15 مئی (ایجنسیز) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا ہیکہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ بحران کے حوالے سے ایسے کئی مسائل حل کرلئے گئے ہیں جنہیں دوسرے حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔ ٹرمپ نے آج واضح کیا کہ انہوں نے چینی صدر ژی جن پنگ کے ساتھ ایرانی معاملے پر تبادلہ خیال کیا ہے اور وہ دونوں نہیں چاہتے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں اور وہ آبنائے ہرمز کو کھولنا چاہتے ہیں۔ یہ بات بیجنگ میں ان کے سربراہی اجلاس کے دوسرے اور آخری دن سامنے آئی۔انہوں نے یہ بھی باور کرایا کیا کہ ایران کی جنگ سے متعلق صورتحال کو ختم کرنے کے طریقہ کار پر بہت زیادہ ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس صورتحال کو ختم کرنے کے حوالے سے بڑی قربت محسوس کر رہے ہیں۔چین کے دورے کے بارے میں ٹرمپ نے وضاحت کی کہ یہ شان دار رہا اور وہ چینی صدر کا بہت احترام کرتے ہیں۔اس سے قبل ٹرمپ نے میڈیا کو انٹرویو میں کہا تھا کہ تہران کیلئے وقت ختم ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایرانیوں کو معاہدہ کرنا ہی ہو گا۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور وہ اس معاملے پر چین کے ساتھ متفق ہیں۔ٹرمپ نے یہ دھمکی بھی دی کہ اگر ایران کی ایٹمی تنصیبات کے اندر نقل و حرکت کی کوئی بھی کوشش دیکھی گئی تو وہ ایران کے خلاف براہِ راست فوجی حملے کریں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ واشنگٹن کسی بھی صورت میں تہران کو ایٹمی ہتھیاروں کی ملکیت کی اجازت نہیں دے گا۔ فوکس نیوز کو دیے گئے بیانات میں ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکہ کی سابقہ فوجی کارروائیاں، جن میں ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنانا شامل تھا، تہران کی ہتھیار بنانے کی کوششوں کو ناکام بنانے میں مدد گار ثابت ہوئیں۔
انہوں نے ایرانی قیادت کو ’’دیوانہ‘‘ قرار دیتے ہوئے متنبہ کیا کہ اگر وہ ایٹم بم حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو وہ اسے اسرائیل، مشرق وسطیٰ، یورپ اور خود امریکہ کے خلاف استعمال کریں گے۔ امریکی صدر نے اس یقین کا اظہار کیا کہ ان کے چینی ہم منصب شاید ایران پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں، خاص طور پر جبکہ چین ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے پر فیس عائد کرنے کے امکان سے نالاں ہے۔
ٹرمپ نے اس بات کی تصدیق کی کہ امریکہ پورے خطے کے ممالک کی خاطر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوشش کر رہا ہے۔
چینی صدر کا وعدہ ،ایران کو فوجی سامان نہیں بھیجیں گے : ٹرمپ
واشنگٹن ۔ 15 مئی (ایجنسیز) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے چینی ہم منصب ژی جن پنگ نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے میں مدد کی پیشکش کی ہے اور عہد کیا ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ میں ایران کی مدد کیلئے فوجی سازوسامان نہیں بھیجیں گے۔بیجنگ میں ژی جن پنگ سے ملاقات کے بعد ٹرمپ نے فوکس نیوز کے پروگرام “ہینیٹی” میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہانہوں نے کہا کہ وہ فوجی سازوسامان فراہم نہیں کریں گے، انہوں نے اس بات پر بہت زور دیا۔امریکی صدر نے چینی صدر کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھلا دیکھنا چاہتے ہیں اور انہوں نے کہا اگر میں کسی بھی قسم کی مدد کر سکتا ہوں، تو میں مدد کرنا چاہوں گا۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے انکشاف کیا ہے کہ ٹرمپ نے بیجنگ میں دو گھنٹے سے زیادہ جاری رہنے والی سربراہی ملاقات کے دوران چینی صدر کے ساتھ ایران کے ساتھ جاری جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش سے متعلق تناؤ پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ مارکو روبیو نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ نے تہران سے نمٹنے کیلئے چین سے مدد نہیں مانگی۔روبیو نے جمعرات کو “این بی سی” نیٹ ورک کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ چینی فریق نے آبنائے ہرمز کو عسکری رنگ دینے یا اس میں جہاز رانی پر ٹرانزٹ فیس عائد کرنے کی مخالفت کا اظہار کیا ہے اور یہ موقف امریکی ویڑن کے مطابق ہے۔ یہ سربراہی ملاقات ان توقعات کے درمیان ہوئی ہے کہ ٹرمپ بیجنگ پر ایران کے ساتھ امریکہ-اسرائیل تصادم کے خاتمے میں کردار ادا کرنے کیلئے دباؤ ڈالیں گے۔ خاص طور پر دنیا کے اہم ترین تیل کے راستوں میں سے ایک میں تناؤ کے نتیجے میں عالمی توانائی کی سپلائی میں خلل اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے بعد تصادم کے خاتمے میں کردار ادا کرنے کا کہا جا سکتا ہے۔تاہم روبیو نے اس بات پر زور دیا کہ واشنگٹن نے چین سے کچھ نہیں مانگا۔ ہمیں ان کی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔ اگرچہ انہوں نے اعتراف کیا کہ تیل کی قیمتوں میں عالمی اضافہ امریکی معیشت کو متاثر کر رہا ہے جیسا کہ یہ دوسرے ملکوں کو بھی زیادہ بڑے پیمانے پر متاثر کر رہا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کے مطابق ٹرمپ اور ژی جن پنگ ایرانی مسئلے پر مشترکہ بنیاد تک پہنچ گئے۔
اس میں چین نے تہران کے ایٹمی ہتھیار رکھنے کی مخالفت کی تصدیق کی اور گزشتہ فروری کے آخر میں شروع ہونے والی جنگ کے سفارتی حل پر زور دیا ہے۔