Monday , October 23 2017
Home / آپ کے سوال / عدل و انصاف

عدل و انصاف

سوال :  آج دنیا میں جو خونریزی سفاکی ، بد دیانتی، غصب اور دیگر برائیاں نظر آرہی ہیں، کوئی شخص عدل اور انصاف کا معاملہ کرنے تیار نہیں۔ حق کا ساتھ دینے ظلم کے خلاف آواز اٹھانے سے کترا رہے ہیں۔ کمزور کو دبایا جارہا ہے ۔ طاقتوری کی حمایت کی جارہی ہیں۔ غیر قوم اس کا ارتکاب کرے تو ان کے پاس تعلیم نہیں ، نمونہ نہیں، احکامات نہیں۔ افسوس تو اس بات پر ہے کہ مسلمانوںکے پاس زبانی تعلیمات ہونے کے باوجود ان میں حق گوئی انصاف پایا نہیں جاتا۔ براہ کرم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک تعلیمات کی روشنی میں عدل و انصاف سے متعلق تفصیلات قلمبند کیجئے تاکہ مسلم معاشرہ میں عدل و انصاف کا جذبہ پیدا ہو۔
محمد ادریس واصف، پھسل بنڈہ
جواب :   نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حکم خدا وندی : ان اللہ یامر بالعدل والاحسان (16 (النحل) : 90 ) ، یعنی خدا تعالیٰ  عدل و احسان کا حکم دیتا ہے، کے مطابق پیکر عدل و انصاف تھے ۔ آپؐ نے تمام زندگی ظلم و جہالت کے مٹانے اور عدل و انصاف کے عام کرنے کے لئے جدوجہد جاری رکھی(دیکھئے البخاری، کتاب المظالم) ۔ ظلم و جہالت سے آپؐ کو کس قدر نفرت تھی اس کا اندازہ اس دعا سے لگایا جاسکتا ہے جو آپؐ صبح و شام مانگا کرتے تھے : اللھم انی اعوذبک ان اضل اواضل او ازل او ازل او اظلم او اظلم او اجھل او یجھل علی (ابو داؤد 327:5 ، حدیث 5094 : ابن ماجہ ، (الدعوات) حدیث 3884 )، یعنی اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں کہ صحیح راہ سے بھٹکوں یا بھٹکا دیا جاؤں یا پھسلوں یا پھسلادیا جاؤں ، یا کسی پر ظلم کروں یا ظلم کیا جاؤں۔ آپؐ کے عدل و انصاف کا بتقاضائے ارشاد باری : ولا یجر منکم شنان قوم علی ان لا تعدلوا ۔ اعدلوا ھو اقرب للتقوی (5 (المائدۃ) : 8 ) ، یعنی کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس پر برانگیختہ نہ کرے کہ تم ان سے ناانصافی کرو ، ہر صورت میں انصاف کرو ، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔ یہ عالم تھا کہ اس میں اپنے اور بیگانے ، دوست اور دشمن کی کوئی تمیز نہ تھی۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ظلم سے بہرحال روک دیا ، فرمایا : انصر اخاک ظالماً او مظلوماً (البخاری ، 2 : 89 ) ، یعنی اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ اس کے مفہوم میں یہ بات بھی داخل ہے کہ ظالم کو اس کے ظلم سے روکنا ہی اس کی مدد کرنا ہے (البخاری ، 2 : 98 ) ۔ آپؐ جن لوگوں کو حکمران بناکر بھیجتے ، انہیں فرماتے : اتق دعوۃ المظلوم فانہ لیس بینھا و بین اللہ حجاب (کتاب مذکور، ص 89 ) یعنی مظلوم کی بد دعا سے بچنا ، کیونکہ اس کے اور خدا کے مابین کوئی حجاب نہیں ہوتا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : و تعاونوا علی البر والتقویٰ ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان (5 (المائدۃ) : 2 ) ، یعنی ایک دوسرے کی نیکی اور تقوی کے معاملہ میں تو مدد کرو ، مگر گناہ اور زیادتی میں تعاون نہ کرو۔
آپؐ عدل و انصاف میں کسی چھوٹے بڑے کی تمیز نہ کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ ایک عورت فاطمہ مخزومیہ نے چوری کی ۔ خاندان کے لوگوں نے بے عزتی کے  پیش نظر حضرت اسامہؓ سے ، جو آپؐ کے لاڈلے (حب) تھے، سفارش چاہی۔ حضرت اسامہؓ نے سفارش کے لئے جونہی بات شروع کی تو آپؐ کے چہرے کی رنگت بدل گئی اور فرمایا : اے اسامہ ! کیا اللہ کے حق میں تو سفارش کرتا ہے ؟ انہوں نے معافی مانگی ۔ پھر آپؐ نے خطبہ دیا اور فرمایا : تم سے پہلے لوگ اسی بنا پر ہلاک ہوگئے کہ جب قوم کا کوئی بڑا آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور شخص اس کا مرتکب ہوتا تو اس پر حد جاری کرتے۔ بخدا ! اگر فاطمہؓ بنت محمدؐ بھی چوری کرتی تو میں اس پر بھی حد جاری کردیتا۔ پھر آپؐ نے اس عورت کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا (مسلم، 315:3 ، حدیث 1688 ، الترمذی ، 370:4 تا 371 حدیث 1430 ) ۔ اسی بنا پر آپؐ نے قبیلہ بنو نضیر اور بنو قریظہ کے خونبھا میں معادلت (= برابری) قائم فرمائی، اس سے پہلے اگر کوئی نضیری (بڑی قوم کا) کسی قریظی (چھوٹی قوم کے کسی شخص) کو ہلاک کردیتا تو نصف دیت ادا کی جاتی اور برعکس صورت میں پوری دیت لازم سمجھی جاتی ۔ آپؐ نے اس ناانصافی کو ختم کیا۔ (ابو داؤد 17:3 ، حدیث 3591 ، النسائی، حدیث 473 ) ۔ یہود میں بھی اسی طرح اگر کوئی معزز آدمی زنا کرتا تو اسے معمولی سزا دے کر چھوڑ دیا جاتا اور غریب آدمی پر حد جاری کی جاتی۔ آپؐنے اس عدم مساوات کو بھی ختم کیا۔ (مسلم 1326:3 ، حدیث 1699 تا 1704 ) ۔
انصاف کرنے میں آپؐ کے نزدیک مسلم اور غیر مسلم اپنے اور بیگانے میں کوئی فرق نہ تھا۔ متعدد مرتبہ آپؐ نے مسلمان کے خلاف غیر مسلم کے حق میں فیصلہ دیا ۔ ایک یہودی کا ایک مسلمان پر قرض تھا ۔ غزوۂ خیبر کے دوران اس نے تقاضہ شروع کردیا ۔ مسلمان نے مہلت مانگی ، مگر یہودی نے مہلت دینے سے انکار کیا ۔ اس پر آپؐ نے مقروض کو فوری ادائی کا حکم دیا اور تعمیل نہ ہونے کی صورت میں قرضخواہ کو اس کے بعض کپڑے لے جانے کی بھی اجازت دی (احمد بن حنبل : مسند ، 3 : 423 ) ۔ فتح خیبر کے بعد آپؐ نے کھیتی باڑی کا سارا کام یہود کے سپرد کردیا ۔ یہودیوں نے آپؐ سے شکایت کی کہ مسلمان مساقات کے بعد بھی ان کی فصلوں اور سبزیوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اس پر آپؐ نے حکم دیا کہ معاہد قوم کا مال مسلمان کے لئے حلال نہیں ہے ۔ اس کے بعد مسلمان سبزی وغیرہ قیمتاً خریدنے لگے (الواقدی ، 2 : 691 ) ۔
عدل و انصاف کی حکمرانی کے لئے آپؐ خود بھی ہمیشہ جواب دہی کے لئے آمادہ  رہتے۔ ایک مرتبہ مال غنیمت کی تقسیم کے دوران ایک شخص کے چہرے پر جو اپنا حصہ لینے کے لئے آپؐ پر جھک آیا تھا، آپؐ کے نیزے کا زخم لگ گیا ۔ آپؐ نے فوراً اسے بدلہ لینے کی پیشکش کی، مگر اس نے قبول نہیں کیا (ابو داؤد ، 763:3 ، حدیث 4536 ، النسائی ، 4774 ) ۔ ایک دوسرے موقع پر آپؐ نے ایک شخص کی کمر پر ، (جو ادھر ادھر کی باتیں کر کے لوگوں کو ہنسا رہاتھا) ٹھوکا دیا، جس پر اس نے بدلہ لینے کی خواہش ظاہر کی۔ آپؐ نے اپنی کمر آگے کردی، اس نے کہا : میں برہنہ تن تھا جب کہ آپؐ قمیص پہنے ہوئے ہیں۔ آپؐ نے قمیص اٹھادی۔ اس نے آگے بڑھ کر مہر نبوت کو چوما اور کہا : میں تو صرف یہ چاہتا تھا (ابو داؤد ، 394:5 ، حدیث 5224 ) ۔ اسی طرح یہودی زید بن سعیہ نے نہ صرف قبل از وقت اپنے قرض کی واپسی کا مطالبہ کیا بلکہ نہایت سختی اور درشتی سے آپؐ کے خاندان کی بھی ہتک کی۔ حضرت عمرؓ  نے اس کو سزا دینا چاہا مگر آپ نے فرمایا: اے عمر !تمہیں چاہئے تھا کہ اسے حسن تقاضہ کی تلقین کرتے اور مجھے حسن ادا کی۔ پھر اس کو نہ صرف معاف کیا بلکہ اس کے حصے سے زیادہ اسے معاوضہ عنایت فرمایا (ابن الجوزی ، 425:2 ) ۔ وصال مبارک سے چند روز قبل آپؐ نے مجمع عام میں اعلان کیا کہ جس کسی کا مجھ پر کوئی حق ہو یا تو وہ وصول کرے اور یا پھر معاف کردے ۔ ایک شخص نے چند درہموں کا مطالبہ کیا، جو فوراً ادا کردئے گئے (احمد بن حنبل : مسند ، 209:1 ، حدیث 1784 )  اس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عملاً عدل و انصاف کو قائم فرمایا۔ ہمیں بھی آپ کے اسوۂ حسنہ کواختیار کرتے ہوئے عمل کا جذبہ پیدا کرنا چاہئے۔

اپنے کام اپنے ہاتھ سے انجام دینا
سوال :  میں عمر رسیدہ ہوں، آج بھی میں اپنے کام خود سے انجام دیتا ہوں۔ میری اہلیہ بیمار رہتی ہے ۔ میں کھانا پکانے میں اس کا ہاتھ بٹاتا ہوں۔ میرے بچے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ وہ بیرون ملک مقیم ہیں۔ معاش کی کوئی پریشانی نہیں۔ کام کرنے والے خادم و خادمہ موجود ہیں، اس کے باوجود میں خود اپنے کپڑے دھوتا ہوں۔ اپنے ہر کام کو بنفس نفیس انجام دیتا ہوں۔ لیکن آج کل میں نوجوانوں میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ اپنا کام خود انجام دینے کو ا پنی تحقیر سمجھتے ہیں۔ درحقیقت یہ ان کی کاہلی سستی غفلت اور لاپرواہی ہے۔ کوئی شخص اپنا کام کرنے سے خو اہ وہ معمولی ہی کیوں نہ ہو چھوٹا نہیں ہوتا۔ میں اس بارے میں اسلامی فکر معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ اپنے کام خود انجام دینے سے متعلق اسلامی طریقہ کیا ہے ؟
خواجہ معین الدین ، عابڈس
جواب :   نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کام خود انجام دیتے اور دوسروں کے کام میں ہاتھ بٹاتے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ارد گرد جاں نثاروں کی کمی نہ تھی ۔ یہ جاں نثار ہر طرح کی خدمت کے لئے تیار رہتے تھے، مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو بغیر عذر کے کسی سے خدمت لینا قطعاً منظور نہ تھا۔ آپؐ اپنے زیادہ سے زیادہ کام خود کرنا چاہتے اور دوسروں پر کم سے کم بوجھ بننا پسند کرتے تھے۔ (یہاں یہ یاد دلایا جاسکتا ہے کہ بعض صحابہؓ سے آپؐ نے یہ عہد لیا تھا کہ وہ کسی شخص سے کسی قسم کی مدد نہیں لیں گے) ۔ تعمیر خانہ کعبہ کے وقت آپؐ نے سب کے ساتھ مل کر کام کیا (ابن سعد : الطبقات ، 145:1 ) ۔ مسجد نبوی اور مسجد قبا کی تعمیر اور بعد ازاں احزاب کے موقع پر خندق کھودنے میں بھی صحابہ کرامؓ کے ساتھ شریک عمل رہے ۔ بلکہ خندق کھودنے کے دوران میں جب کوئی مشکل مرحلہ آجاتا تو آپؐ ہی کو بلایا جاتا ( الواقدی : المغازی ، 450:2 تا 451 )۔
خانگی امور کے متعلق آپؐ کے دیکھنے والوں کا بیان یہ ہے کہ کان یخدم نفسہ ، (قاضی عیاض : الشفا ، ص 58 ) ، یعنی آپؐ اپنے کام خود کیا کرتے تھے۔ ایک دوسری روایت کے مطابق آپؐ گھر کے کام کاج میں اپنی ازواج کا ہاتھ بٹاتے، کپڑوں میں پیوند لگاتے، گھر میں جھاڑو دیتے ، دودھ دوہ لیتے ، بازار سے سودا سلف لے آتے، ڈول درست کردیتے ، اونٹ کو اپنے ہاتھ سے باندھ دیتے ، غلام کے ساتھ مل کر آٹا گوندھ دیتے (البخاری : الصحیح ، 122:4 ، الشفا، ص 58 ) ، کوئی جانور بیمار ہوتا تو اسے علاج کے طور پر دا غ دیتے (مسلم) ، کوئی چیز مرمت طلب ہوتی تو اس کی مرمت کردیتے (احمد بن حنبل : مسند ، 469:3 ) ، دوران سفر اگر صحابہؓ کام بانٹنا چاہتے تو آپؐ بھی معاونت فرماتے۔
صرف یہی نہیں بلکہ آپؐ کو دوسروں کے کام کرنے میں بھی عار محسوس نہیں کرتے تھے۔ بعض مہمانوں کی خود خدمت گزاری کرتے (قاضی عیاض : الشفا) ، اگر کسی صحابیؓ کے شریک جہاد ہونے کی بناپر گھر میں کوئی ذمہ دار فرد نہ ہوتا تو آپؐ خود جاکر ان کے جانوروں کا دودھ دوہ دیتے۔ آپؐ کو کسی ادنیٰ سے ادنیٰ شخص کے کام کرنے میں بھی تامل نہیں ہوتا تھا، مثلاً کسی بیوہ یا مسکین کے ساتھ مل کر ان کا کام کردیتے ( ابن، الجوزی : الوفا ، ص 437 ) ۔ نیم دیوانی باندی آپؐ کو کسی کام کے لئے بلانے آتی تو آپؐ چل پڑتے اور فرماتے : ’’ تو جس جگہ چاہے چل، میں تیرا کام کروں گا( حوالۂ مذکور)۔ بعض بدو آتے اور آپؐ کو مسجد سے اپنے کام کے لئے لے جاتے ، ان کے بدوی لب و لہجہ کے باوجود آپؐ کو ذرا ناگواری محسوس نہ ہوتی (مسلم) ۔
ا س سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنا کام خود کرنا اور دوسروں کے کام آنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ ہے۔

مذاق میںطلاق دینا
سوال :   ہندہ کو ان کے شوہر نے گھریلو تکرار کے دوران تین مرتبہ طلاق طلاق طلاق کہا ۔ بعد میں یہ کہہ رہا ہے کہ ’’ میں مذاق میں کہا ہوں‘‘ ہندہ حاملہ ہے۔ ایسی صورت میں شرعاً کیا حکم ہے ؟
نام …
جواب :   صورت مسئول عنہا میں شوہر نے ہندہ کو اگر مذاق میں طلاق دی ہے تو بھی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوکر تعلقِ زوجیت بالکلیہ منقطع ہوگیا ۔ عالمگیری جلد اول کتاب الطلاق فصل فیما یقع طلاقہ میں ہے : و طلاق اللاعب و الھازل بہ واقع ۔ اور اسی کتاب میں ہے وزاول حل المناکحۃ متی تم ثلاثا ۔ اب بغیر حلالہ دونوں آپس میں دوبارہ عقد بھی نہیں کرسکتے۔ کنزالدقائق کتاب الطلاق فصل فیما یحل یہ المطلقہ میں ہے : و ینکح مبانتہ فی العدۃ و بعد ھا لا المبانۃ بالثلاث ولو حرۃ و بالثنتین لوأمۃ حتی یطأھا غیرہ ۔ حاملہ کی عدت وضع حمل (زچگی) پر ختم ہوتی ہے ۔ فتاوی عالمگیری جلد اول باب العدۃ ص : 528 میں ہے ۔ ولیس للمعتدۃ بالحمل مدۃ سواء ولدت بعد الطلاق أوالموت بیوم أو أقل ۔

نامحرم کے ہاتھ سے دلہن کو زیور پہنانا
سوال :  شادی میں دلہن کو غیر محرم کے ہاتھ سے زیور پہنانا کیا شرعاً جائز ہے ؟
(2) گھر سے جنازہ کے جانے کے بعد گھر کی بہو کے ہاتھ سے گھر کو جہاڑو دلوانا کیا یہ ٹھیک ہے؟ برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں۔
صالحہ بیگم، دارالشفاء
جواب :  اسلام نے خوشی ہو یا غم ہر حال میں شرعی حدود کی پاسداری لازم قرار دی۔ صورت مسئول عنہا میں شادی کے روز کسی نامحرم سے دلہن کو زیور پہنانے درست نہیں ہے۔خاندان کے کسی محرم بزرگ کے  ذریعہ یہ عمل کیا جائے۔
(2) میت کو گھر سے لیجانے کے بعد بہو سے گھر تمام کی جھاڑو دلوانا اس عمل کی شریعت میں کوئی اصل نہیں۔ اگر کوئی اس کو شرعی عمل سمجھ کر کرتا ہے تو یہ عمل قابل اصلاح ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT