Tuesday , October 24 2017
Home / آپ کے سوال / فطرہ کا حکم

فطرہ کا حکم

سوال :  کیا فطرہ معصوم بچوںکی طرف سے نکالنا ضروری ہے۔ اس کی مقدار کیا ہے ۔ اگر رمضان میں زکوٰۃ کے ساتھ ادا کردیا جائے تو ادا ہوگا یا عید کی صبح میں ادا کرنا ضروری ہے ۔فطرہ کس کو دینا چاہئے ؟
عبدالنبی،صلالہ
جواب :  صدقہ فطر ہر مسلمان، آزاد ، مالک نصاب پر جس کی نصاب حاجت اصلیہ سے زائد ہو واجب ہے۔ مالک نصاب پر اپنی طرف سے اور اپنے چھوٹے بچوں کی طرف سے جو اس کی کفالت میں ہوں صدقہ فطر ادا کرنا ضروری ہے ۔ (عن نفسہ و طفلہ الفقیر) در مختار ج : 2 ، ص : 81 ۔
صدقہ فطر میں سوا کیلو گیہوں یا اس کی قیمت ادا کرنا واجب ہے ۔ صدقہ فطر کے مصارف وہی ہیں جو زکوٰۃ کے ہیں یعنی جن کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے انہیں کو فطرہ بھی دے سکتے ہیں اور جنہیں زکوٰۃ نہیں دے سکتے انہیں فطرہ بھی نہیں دیا جاسکتا۔ ( و صدقۃ الفطر کا لزکوۃ فی المصارف) در مختار ج : 2 ، ص : 86 ۔
صدقہ فطر عید کی صبح صادق کے بعد واجب ہوتا ہے اور عیدگاہ جانے سے پہلے ادا کرنا چاہئے اور اگر رمضان میں زکوٰۃ کے ساتھ ادا کرلیا جائے تو صدقہ فطر ادا ہوجائے گا۔ اگر نماز سے پہلے ادا نہ کیا گیا ہو تو بعد میں ادا کرنا ضروری ہے جب تک کہ ادا نہ کریں ساقط نہ ہوگا۔

فرض روزہ کی قضاء
سوال :  آغازرمضان میں میری طبیعت اچانک بگڑ گئی جس کی وجہ سے ایک روزہ قضاء ہوگیا، میں ہر سال ستہ شوال کے روزے رکھتا ہوں۔ اگر چھ روزوں میں سے ایک روزہ میں رمضان کے روزہ کی قضاء کی نیت کرلی جائے تو کیا قضاء روزہ اور ستہ شوال ادا ہوجاتے ہیں یا نہیں ؟
حبیب اللہ، ملک پیٹ
جواب :   رمضان کے روزہ کی قضاء فرض ہے اور ستہ شوال کا روزہ سنت ہے ۔ لہذا اگر کوئی شخص رمضان کی قضاء اور ستہ شوال کے سنت روزہ کی نیت سے ایک روزہ رکھنا چاہئے تو شرعاً وہ روزہ قضاء کا ہوگا ۔ ستہ شوال کا نہیں۔ فتاوی عالمگیری ج : 1 ، ص : 197 میں ہے ’’ واذا نوی قضاء بعض رمضان و التطوع یقع عن رمضان فی قول ابی یوسف رحمہ اللہ تعالیٰ وھو روایۃ عن ابی حنیفۃ رحمہ اللہ کذا فی الذخیرۃ‘‘۔
نماز عید دوبارہ کی امامت
سوال :  ہمارے گاؤں میں ایک عیدگاہ ہے جہاں اول وقت عید کی نماز ہوتی ہے ۔ اس سال عید کی نماز ہونے کے بعد چند حضرات جمع ہوئے جو عید کی نماز ادا نہ کرسکے تو کیا وہی امام صاحب عید کی نماز دوسری مرتبہ پڑھاسکتے ہیں یا نہیں ؟
سید یسین، ناندیڑ
جواب :  نماز عید ایک مرتبہ مشروع ہے۔ ایک مسجد میں یا عیدگاہ میں تمام آبادی کے مسلمان ایک مرتبہ نماز ادا کریں اور جگہ ناکافی ہونے کی صورت میں جگہ تبدیل کر کے دوسری جگہ نماز عید کی جماعت قائم کی جاسکتی ہے۔ پہلی جماعت کے جس امام نے امامت کی ہے اس کو دوسری جماعت کی امامت کرنا جائز نہیں۔ کسی دوسرے امام کی اقتداء میں دوسری جگہ نماز عید کی جماعت ہوسکتی ہے۔ جیسا کہ کنزالدقائق کی عبارت سے مترشح ہوتا ہے۔وفسد اقتداء رجل بامراۃ او صبی … و مفترض بمتنفل … (کنزالدقائق ص : 29 باب الامامۃ)

عیدین میں اذان و اقامت
سوال :  ہماری مسجد میں عید کے موقع پر ایک صاحب نماز پڑھاتے ہیں اور ایک صاحب خطبہ دیتے ہیں۔ عیدین اور جمعہ میں ایک ہی آدمی نماز اور خطبہ پڑھے یا دو الگ الگ شخص ایسا کرسکتے ہیں اور عید کے موقع پر اذان اور اقامت کہی جانا چاہئے یا نہیں ؟
عبدالسلام خان، محبوب نگر
جواب :  جمعہ و عیدین میں ایک شخص کا نماز پرھانا اور دوسرے کا خطبہ پڑھنا بہتر نہیں ہے ۔ در مختار برحاشیہ رد المحتار ج : 1 ، ص : 576 باب الجمعۃ میں ہے ۔ ’’ لا ینبغی ان یصلی غیر الخطیب لانھما کشئی واحد ‘‘۔ عیدین میں اذان اور اقامت مسنون اور مشروع نہیں ہے ۔ لہذا عیدین میں اذان اوراقامت نہ کہی جائے در مختار برحاشیہ رد المحتار میں ج : 1 ، ص : 269 باب الاذان میں ہے ۔ ’’ لا یسن لغیرھا کعید‘‘ رد المحتار ص : 586 میں ہے ’’ والاذان غیر مشروع فی العید‘‘۔

شوال کے روزے
سوال :  ستہ شوال کے روزوں کے بارے میں پوچھنا یہ تھا کہ کسی وجہ سے چھوٹ گئے تو کیا کیا جائے اور اس کے رکھنے کا طریقہ کیا ہے ۔ براہ کرم وضاحت فرمائیں ۔
ندیم اللہ، فتح دروازہ
جواب :  شوال المکرم میں چھ روزے رکھنے کی احادیث شریفہ میں بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے۔ اور جو اس کا اہتمام کرتا ہے اس کے لئے سال تمام روزہ رکھنے والے کی طرح ثواب ملتا ہے لیکن شوال کے روزوں میں سہولت یہ ہے کہ آپ تسلسل سے چھ روزے رکھ سکتے ہیں یا الگ الگ حسب سہولت پورے شوال میں اسے  رکھ سکتے ہیں اور چونکہ یہ روزہ فرض واجب نہیں اس وجہ سے اس کی کوئی قضاء نہیں ہے۔
انتقال کی بناء عید نہ منانا
سوال :  میری ساس صاحبہ کاانتقال ہوچکا۔میرے علم میں یہ بات لائی گئی کہ ہم لوگ اس سال شب قدر و عیدالفطر کے موقع پر نئے کپڑوں کا استعمال نہ کریں ایک سال تک غم کریں نیز میری بڑی نند صاحبہ کا کہنا ہے کہ عیدالفطر کے دن شیرقورمہ نہ پکائیں، یہ بات کہاں تک جائز ہے برائے مہربانی یہ بات آپ بتائیں کہ کیا ہم لوگ متبرک راتوں اور عید کے دن کے لئے کپڑے استعمال کرسکتے ہیں یا نہیں ؟
نمرہ اختر، ورنگل
جواب :  شریعت میں تین دن سے زیادہ سوگ نہیں ہے۔ اس لئے کسی کے انتقال پر ایک سال تک غم کا اظہار کرنا اور نئے کپڑوں سے اجتناب کرنا غیر اسلامی ہے ۔ ان باتوں کی کوئی اصل اور اہمیت نہیں۔

سونے کا نصاب
سوال :  (1) ہمارے ہاں 25 گرام سونے کا زیور ہے اس پر زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں ؟ (2) میری لڑکی کے پاس 169.150 گرام سونے کا زیور ہے۔ کیا میری لڑکی زکوٰۃ دے سکتی ہے یا نہیں۔اگر رقم دینا ہے تو کیا کرنا چاہئے۔ شرعی احکام کیا حکم دیتے ہیں۔ (3) اگر زکوٰۃ کی رقم کسی کے پاس فی الوقت نہیں ہے اور اس پر زکوٰۃ واجب ہے تو وہ شخص کیا کرے، کس طرح زکوٰۃ ادا کرے۔ مہربانی ہوگی ۔
محمد عبدالرحمن، حیدر گوڑہ
جواب :  جس کے پاس 60 گرام 755 ملی گرام سونا نہ ہو اس پر زکوٰۃ نہیں۔ جس کے پاس اتنی مقدار میں یا اس سے زائد سونا ہو تو اس پر زکوٰۃ لازم ہے۔ لہذا آپ پر زکوٰۃ نہیں اور لڑکی پر واجب ہے۔ زکوٰۃ ادا کرنے کے لئے رقم نہ ہو تو زکوٰۃ میں ڈھائی فیصد کی مقدار سونے میں سے دینا لازم ہے۔

عید کی نماز میں غیر مسلم لیڈر کی شرکت
سوال :  چند مفاد پرست مسلمان عیدالفطر کے موقع پر غیر مسلم لیڈروں کو عیدگاہ  میں نماز عیدالفطر پہلی صف میں ادا کروائے۔
ہم ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں رہتے ہیں، ہندو ، مسلم ، سیکھ عیسائی مل کر زندگی گزارتے ہیں، ایک دوسرے سے اظہار ہمدردی و اظہار یگانگت کرتے ہیں، کیا اظہار یگانگت کے لئے غیر مسلم قائدین کو مساجد و عیدگاہ میں پورے اعزاز و اکرام کے ساتھ پہلی صف میں نماز پڑھنے کی اجازت دی جانی چاہئے  جبکہ وہ مسلمان کی طرح طہارت و صفائی کا اہتمام نہیں کرتے جبکہ مسلمان بھی بغیر وضو کے نماز نہیں پڑھ سکتا۔ ؟
محمد احمد خان، ملے پلی
جواب :  نماز کا  غیر مسلم سے کوئی تعلق نہیں۔ نماز مسلمانوں پر فرض ہے۔ اگرچہ غیر مسلم کے شریک جماعت ہونے سے مسلمان کی نماز پر کوئی اثر نہیں پڑتا لیکن یہ عمل روانہیں کہ غیر مسلم کو نماز میں شریک کریں کیونکہ اس کا یہ عمل شرعاً لغو ہے اور اس کے اس عمل سے نہ مسلمانوں کا کوئی فائدہ ہے اور نہ ہی غیر مسلمین کا۔
اظہار یگانگت و اتحاد کے لئے دنیوی جو طور طریقے ہیں اس کو اختیار کریں۔ عبادات کو اس کا ذریعہ نہ بنائیں۔

رمضان میں تین روز کا اعتکاف
سوال :  ہمارے محلہ کی مسجد میں رمضان میں صرف تین روز کا اعتکاف ہوتا ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ کافی ہے جبکہ زید کہتا ہے کہ اعتکاف دس دن کا کرنا ہے ورنہ تمام محلہ کے لوگ گنہگار ہوں گے۔ شرعی حکم کیا ہے بیان کیجئے؟
سعید الدین، احمد نگر
جواب :  رمضان المبارک کے آخری دہے کا اعتکاف سنت مؤکدہ علی الکفایۃ ہے۔ محلہ کی مسجد میں مکمل آخری دہے میں کوئی نہ کوئی اعتکاف رکھنا چاہئے ورنہ سب گنہگار ہوںگے۔ الدرالمختد جلد 2 باب الاعتکاف ص 141 میں ہے (وسنۃ مؤکدۃ فی العشر الاخیر من رمضان) ای سنۃ کفایۃ کما فی البرھان و غیرہ ۔ اور ردالمحتار میں ہے : قولہ (ای سنۃ کفایۃ) نظیرھا اقامۃ التراویح بالجماعۃ ۔ فاذ اقام بھا البعض مسقط الطلب عن الباقین ۔

قرض لیکر زکوٰۃ ادا کرنا
سوال :  میرے پاس میرے ماں باپ کا شادی میں دیا ہوا دس تولے سونے کا زیور ہے ۔  میری شادی ہوئے چھ سال گزرے۔ مجھے ایک چار سالہ لڑکی ہے جسے میں نے اوروں سے قرض حسنہ لے کر شہر کے ایک معتبر مدرسہ میں داخلہ دلایا ہے ۔ میرے شوہر پچھلے چار سال سے بیروزگار ہیں۔  میں ایک فرم میں کام کر کے اپنی ، اپنی بیٹی اور حتی کہ اپنے شوہر کی ضروریات کی تکمیل کر رہی ہوں۔ پچھلے سال تک کسی طرح میں نے زکوٰۃ ادا کی ۔ مگر اس سال بہت تنگی ہے ۔
میرے سوال ہیں :
– 1  کیا ان دس تولے سونے میں میری بیٹی کا حق بن سکتا ہے ؟
– 2  اگر مجھے زکوٰۃ دینی ہے تو کچھ فروخت کرکے دینا ہوگا اور اس طرح صرف فروخت ہی ہوتا رہے گا ۔ آگے آنے کے امکانات نہیں ہیں۔
– 3  میں یہ زیور کسی طرح بچائے رکھنا چاہتی ہوں تاکہ میری بیٹی کے کام آئے۔
– 4  کیا میں مزید قرض لے کر زکوٰۃ ادا کروں ؟
براہِ کرم جواب سے نوازیں، میں بہت  پریشان ہوں ؟
فریدہ بیگ، ملک پیٹ
جواب :  آپ صاحب نصاب ہیں۔ آپ پر زکوٰۃ فرض ہے۔ شوہر کی بیروزگاری کی وجہ آپ کے ذمہ سے زکوٰۃ ساقط نہیں ہوتی ۔ زکوٰۃ میں اعتبار نصاب کی مقدار میں سونا چاندی کے موجود رہنے کا ہے ۔ اگر وہ موجود ہے تو زکوٰۃ لازم ہے۔ اگرچہ معاشی تنگی کیوں نہ ہو اور سونے کی زکوٰۃ میں سونا ہی دینا ہے ۔ اگر قیمت نہ دے سکتے ہیں تو اس میں سے مقررہ سونا زکوٰۃ کے طور پر ادا کریں اور اگر آپ اپنا سونا اپنی بچی کے لئے محفوظ رکھنا چاہتی ہیں تو آپ حسب سہولت اقساط پر بھی زکوٰۃ ادا کرسکتی ہیں اور قرض لیکر بھی زکوٰۃ ادا کی جاسکتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT