آئمہ و موذنین کے اعزازیہ کی اجرائی میںہر بار تاخیر ‘ عمدا یا مجرمانہ غفلت ؟

   

پابندی سے ماہانہ اجرائی کے تمام وعدے کان خوش کرنے تک محدود ۔ کبھی سنجیدگی سے اقدامات نہیں کئے گئے

حیدرآباد 7 جنوری : ( سیاست نیوز ) : اقلیتوں کے فلاح و بہبود کے معاملے میں عہد کی پابند ہونے کا بلند بانگ دعویٰ کرنے والی تلنگانہ حکومت آئمہ موذنین کے اعزازیہ کی اجرائی کے معاملے میں مسلسل لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کے جذبات کو ٹھیس پہونچا رہی ہے ۔ ریاست میں جب سے اس اسکیم کا آغاز ہوا ہے تب سے آج تک کبھی بھی مہینے کی پہلی سے 5 تاریخ کے درمیان اعزازیہ جاری نہیں کیا گیا 6 تا 8 ماہ بعد بقایا جات جاری کرتے ہوئے آئندہ سے ہر ماہ جاری کرنے کا وعدہ کیا جاتا ہے ۔ مگر اس پر کبھی عمل آوری نہیں کی جاتی ہے ۔ ریاست کے تقریبا 10 ہزار آئمہ موذنین کو فی کس 5 ہزار روپئے اعزازیہ جاری کیا جاتا ہے ۔ اس کی بھی بروقت عدم اجرائی سے آئمہ موذنین کئی مسائل سے دوچار ہورہے ہیں ۔ دن بہ دن اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے ۔ بچوں کے تعلیمی اخراجات بھی بڑھ رہے ہیں ۔ اگر گھر کے کوئی افراد خاندان بیمار ہوجاتے ہیں تو اس کے علیحدہ اخراجات ہیں جب کہ ان کی محدود آمدنی ہوتی ہے ۔ ان مسائل پر سنجیدگی سے غور کرنے کی بجائے انہیں نظر انداز کرنا سراسر نا انصافی ہے ۔ آئمہ موذنین کا اعزازیہ ماہانہ جاری کرنے کی بجائے سال میں دو مرتبہ جاری کیا جارہا ہے ۔ اُس میں بھی ایک یا دو ماہ کے اعزازیہ کو باقی رکھا جارہا ہے ۔ جب آخری مرتبہ اعزازیہ جاری کیا گیا تھا تب صدر نشین وقف بورڈ محمد مسیح اللہ خاں نے آئندہ ماہانہ پابندی سے آئمہ موذنین کا اعزازیہ جاری کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔ مگر اس پر کوئی عمل آوری نہیں ہوئی نومبر اور دسمبر بھی گذر گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ماہ جنوری بھی گذر جائے گا ۔ دو ماہ بعد مقدس ماہ رمضان آجائے گا تب وزراء اور دیگر قائدین بھاگ دوڑ کرکے حکومت سے نمائندگی کی کوشش کریں گے بہتر ہوگا اگر یہی کوشش پہلے کی جائے تو آئمہ موذنین کیلئے راحت کا باعث ثابت ہوگی ۔ ہر سال وعدہ کیا جاتا ہے کہ گرین چینل کے ذریعہ اعزازیہ جاری کئے جائیں گے مگر کبھی ایسا نہیں کیا جاتا ۔ حکومت کو چاہئے کہ آئمہ موذنین کے بارے میں ہمدردانہ غور کرے ۔ انہیں حکومت کی جانب سے مفت طبی خدمات فراہم کی جائے ۔ ان کے بچوں کی تعلیم کا معقول انتظام ہو اور ڈبل بیڈ روم مکانات کی فراہمی میں انہیں ترجیح دیں ۔ اعزازیہ کی فہرست میں مزید آئمہ موذنین کو شامل کریں ۔ ماہانہ ٹریژری سے اعزازیہ کی اجرائی کو یقینی بنایا جائے ۔ صرف کان خوش کرنے والی باتیں کرنے کی بجائے عملی اقدامات کئے جائیں۔ ن