اسمبلی انتخابات کے نتائج

   

کانٹوں سے گزر جاتا ہوں دامن کو بچاکر
پھولوں کی سیاست سے میں بیگانہ نہیں ہوں
ملک کی چار ریاستوں اور ایک مرکزی زیر انتظام علاقہ کے اسمبلی انتخابات کے نتائج سامنے آگئے ہیں۔ مغربی بنگال اور ٹاملناڈو کے نتائج کو حیرت انگیز کہا جا رہا ہے ۔ بنگال میں ترنمول کانگریس کے تین معیادوں کے اقتدار کو بی جے پی نے بیدخل کردیا ہے اور وہ سادہ اکثریت سے آگے بڑھ گئی ہے ۔ ممتابنرجی کا اقتدار ختم ہو رہا ہے جبکہ ٹاملناڈو میں اداکار سے سیاستدان بنے والے وجئے کی پارٹی نے سب کو حیرت میں مبتلا کردینے والے نتائج حاصل کئے ہیں۔ حالانکہ وجئے کی پارٹی کو تنہا اقتدار ملتا نظر نہیں آیا ہے اور ان کی پارٹی نے سادہ اکثریت حاصل نہیں کی ہے لیکن 100 سے زائد نشستوں پر ان کی پارٹی نے فیصلہ کن سبقت حاصل کرلی ہے ۔ اس طرح ریاست میں ڈی ایم کے کا اقتدار ہاتھ سے نکل گیا ہے ۔ کیرالم میںنتائج توقع کے مطابق رہے ہیں ایک دہے بعد لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ کی حکومت کو زوال کا شکار ہونا پڑا ہے اور کانگریس زیر قیادت یو ڈی ایف نے اقتدار حاصل کرنے کی سمت پیشرفت کرلی ہے ۔ آسام میں بھی نتائج بی جے پی کے حق میں توقع سے زیادہ اچھے رہے جہاں بی جے پی کو پہلے سے زیادہ نشستیں ملی ہیں اور چیف منسٹر ہیمنتا بسوا سرما کی قیادت میں پارٹی ایک بار پھر حکومت بنانے کے موقف میں آگئی ہے ۔ مرکزی زیر انتظام علاقہ پڈوچیری میں برسر اقتدار اتحاد نے اپنا اقتدار برقرار رکھا ہے اور یہاں کوئی زیادہ بڑی تبدیلی نہیں ہوئی ہے ۔ جہاں تک بنگال کی بات ہے تو وہاں یہ قیاس کیا جا رہا تھا کہ ممتابنرجی کو اقتدار سے بیدخل کرنا بی جے پی کیلئے ساری طاقت جھونک دینے کے باوجود آسان نہیںہوگا ۔ تاہم بی جے پی نے یہ کر دکھایا ہے اور اس نے توقع سے بہت بڑی کامیابی حاصل کرلی ہے ۔ بنگال میں بی جے پی کو پہلی مرتبہ اقتدار حاصل ہوا ہے ۔ گذشتہ انتخابات میں بھی بی جے پی نے مقدور بھر کوشش کی تھی لیکن وہ اس وقت کامیاب نہیں ہوسکی تھی ۔ اس بار بی جے پی نے منظم انداز میں مقابلہ کیا ‘ ساری طاقت جھونکی اور کامیابی بھی حاصل کرلی ہے ۔ بی جے پی کی یہ کامیابی کئی اعتبار سے اہمیت کی حامل کہی جاسکتی ہے ۔
ٹاملناڈو میں اداکار وجئے کی پارٹی نے بھی جو کامیابی حاصل کی ہے وہ بہت بڑی کامیابی کہی جاسکتی ہے ۔ 100 سے زائد نشستوں کا حصول پہلی ہی کوشش میں کوئی معمولی بات نہیں ہے ۔ خاص طور پر ٹاملناڈو کی دراوڑی پارٹیوں کے درمیان قسمت آزمائی کرنے والی پارٹی نے پہلی ہی کوشش میں جو نتیجہ حاصل کیا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ ریاست کے عوام بھی روایتی انداز کی سیاست سے مطمئن نہیں تھے اور وہ ایک تبدیلی کے حامی تھے ۔ انہوں کوئی متبادل طویل عرصہ سے دستیاب نہیں ہوا تھا ۔ جیسے ہی وجئے کی پارٹی کی صورت میں انہیںایک متبادل حاصل ہو ا وہاں انہوں نے اس کو اختیار کرتے ہوئے وجئے کی پارٹی کو کامیابی سے ہمکنار کردیا ۔ ڈی ایم کے نے ایم کے اسٹالن کی قیادت میںانتہائی یقین کے ساتھ مقابلہ کیا تھا اور اسے اپنے اقتدار کی برقراری کی پوری امید تھی ۔ تاہم ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی نے اسے نقصان پہونچایا اور ریاست کے عوام نے ایک غیر متوقع فیصلہ دیدیا ہے ۔ آسام میں بھی ماحول کو پراگندہ کرتے ہوئے انتخابات لڑے گئے تھے اور جس طرح کی سیاست وہاں کی جا رہی تھی اس کے اثرات نتائج پر دیکھنے کو ملے ہیں۔ بی جے پی نے ریاست میں لگاتار تیسری مرتبہ کامیابی حاصل کی ہے اور وہاں ہیمنتا بسا سرما کا دوسری مرتبہ چیف منسٹر بننا تقریبا طئے ہوگیا ہے ۔ یہ نتائج ملک کی سیاست پر اثر انداز ہونگے اور ملک میںعلاقائی اور قومی سطح پر بڑی سیاسی تبدیلیوں کے بھی نقیب ہوسکتے ہیں ۔ اس کا اندازہ آئندہ وقت میںہوگا ۔
نتائج جو کچھ بھی رہے ہیں وہ سامنے آچکے ہیں۔ یہ طئے ہوچکا ہے کہ کس ریاست میں کس پارٹی کو عوام نے اقتدار سونپا ہے اور کسے اپوزیشن میں بیٹھنے کی ذمہ داری ہے ۔ تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ جن جماعتوں کو شکست ہوئی ہے وہ اپنی ناکامیوں کی وجوہات کا پتہ چلائیں۔ ان کا جائزہ لیں۔ اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کریں۔ عوام سے رابطوں کو فروغ دیا جائے ۔ عوام کے درمیان رہتے ہوئے جدوجہد کا سلسلہ جاری رکھا جائے اور آئندہ کیلئے تیاری کی جائے ۔ جن جماعتوںکو کامیابی ملی ہے وہ سیاسی جشن پر اکتفاء کرنے کی بجائے عوام کی بہتری اور ریاستوں کی ترقی کو یقینی بنانے کیلئے تیار ہوجائیں۔