تہران، 13 مئی (یو این آئی) ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کیلئے پانچ پیشگی شرائط رکھی ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا آغاز 28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملوں کے بعد ہوا تھا، جس میں ایران کے کئی سینیئر رہنما جاں بحق ہو گئے تھے ۔ فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران نے امریکہ کی حالیہ 14 نکاتی امن تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اسے “خودسپردگی کی مانگ” قرار دیا ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ سفارت کاری کے ذریعے وہ کچھ حاصل کرنے کی کوشش ہے جسے امریکہ اور اسرائیل فوجی کارروائی سے حاصل نہیں کر سکے ۔ آئی آر جی سی سے وابستہ نیوز ایجنسی ‘فارس’ نے ایک نامعلوم ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ ایران صرف اسی صورت میں براہ راست مذاکرات کی طرف لوٹے گا جب اس کے بنیادی مطالبات پورے کیے جائیں گے ۔ ایران کی ان پانچ شرائط میں درج ذیل نکات میں لبنان میں حزب اللہ کے خلاف جاری اسرائیلی جنگ کا خاتمہ، ایران پر عائد تمام پابندیوں کا خاتمہ،اسلامی جمہوریہ کے منجمد اثاثوں کی بحالی،جنگی نقصانات کے معاوضے کی ادائیگی، آبنائے ہرمز پر ایرانی خودمختاری کی باقاعدہ تسلیم شدگی شامل ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہی پانچ مطالبات مذاکرات کی بحالی کی بنیاد ہیں۔ دوسری جانب، صدر ٹرمپ نے عوامی سطح پر ان میں سے اکثر مطالبات، خاص طور پر جنگی معاوضے اور آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول کی شرط کو مسترد کر دیا ہے ۔ امریکہ نے انہیں “ناقابل قبول” قرار دیا ہے ۔ اب تک امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کا صرف ایک دور 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہوا تھا، جو کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔