امریکی کانگریس اسرائیل کیساتھ دفاعی تعلقات کو محدود کرے: انسانی حقوق تنظیمیں

   

نیویارک ۔ 4 ستمبر (ایجنسیز) خبر رساں ادارے ’’ رائٹرز ‘‘ کو موصول ہونے والے ایک خط سے معلوم ہوا ہے کہ درجنوں شہری حقوق کی تنظیموں اور وکالتی گروپوں نے امریکی کانگریس سے اہم مطالبہ کیا اور زور دیا ہے کہ دفاعی بل میں سے اس شق کو ختم کیا جائے جو امریکہ اور اسرائیل کے درمیان فوجی ٹیکنالوجی کے تعلقات کو مزید مضبوط بناتی ہے۔یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ میں اپنے اس دیرینہ اتحادی کے حوالے سے بیزاری اور تحفظات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس شق کا بنیادی مقصد امریکی اور اسرائیلی دفاعی شعبوں کے درمیان تعاون کو مزید گہرا کرنا ہے۔ اس مقصد کیلئے مشترکہ فوجی ٹیکنالوجی کی ترقی اور دیگر شعبوں میں شراکت داری کو تیز کیا جانا ہے۔ امریکی ایوانِ نمائندگان نے جولائی میں اس بل کو منظور کر لیا تھا اور اب یہ سینیٹ میں رائے شماری کا منتظر ہے۔سال 2027 کے ’’ قومی دفاعی اجازت نامے کے قانون‘‘میں شامل یہ شق ’سیکشن 219‘ کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اس کا مقصد امریکہ میں اسرائیلی دفاعی صنعت کے تعاون سے مشترکہ منصوبوں، لائسنسنگ معاہدوں اور مشترکہ پیداواری شراکت داریوں کیلئے طریقہ کار تیار کرنا ہے۔ 56 تنظیموں نے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کی مسلح خدمات کی کمیٹیوں کے سربراہوں کو ایک خط ارسال کیا۔اس خط میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی دفاعی شعبے کے ساتھ روابط کو مزید گہرا کرنا انتہائی خطرناک ثابت ہوگا۔ انہوں نے قانون سازوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس شق کو بل سے حذف کر دیں۔ ان تنظیموں میں ’ایمنسٹی انٹرنیشنل یو ایس اے‘ اور ’نیشنل لائرز گلڈ‘ کے علاوہ حقوق کے تحفظ کیلئے کام کرنے والے عرب اور یہودی گروہ بھی شامل ہیں۔ اس خط کا متن پہلے کبھی شائع نہیں ہوا تھا۔خط میں لکھا گیا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب امریکی مفادات اسرائیل کے مفادات سے مسلسل دور ہو رہے ہیں۔
اور امریکی عوام کی اکثریت اسرائیل کی بلاشرط حمایت کی مخالفت کر رہی ہے، امریکی دفاعی ٹیکنالوجی کے نظام میں اسرائیل کیلئے نفوذ کے نئے راستے کھولنا انتہائی خطرناک ہے۔واضح رہے اسرائیل مشرقِ وسطیٰ میں واشنگٹن کے قریب ترین اتحادیوں میں شمار ہوتا ہے۔ دونوں ملک دفاع اور انٹیلی جنس کے شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ وسیع تعاون کرتے ہیں۔ اس شق کے حامیوں کا کہنا ہے کہ تعلقات کو مضبوط بنانے سے فوجی جدت اور ٹیکنالوجی کی ترقی کا عمل تیز ہو سکتا ہے۔