ایران سے ممکنہ معاہدہ 2015 کے نیوکلیئر معاہدہ سے بہتر ہوگا : ٹرمپ

   

واشنگٹن ۔ 21 اپریل (ایجنسیز) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے کیلئے وہ کسی دباؤ میں نہیں ہیں۔ انہوں نے اس امر کا اظہار پیر کے روز کیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ زیر بحث ممکنہ ڈیل 2015 میں اوباما انتظامیہ کے دور میں ہونے والے نیوکلیئر معاہدے ‘جے سی پی او اے’ کے مقابلے میں بہتر ہوگی۔ٹرمپ نے اوباما دور میں ایران کے ساتھ کیے گئے نیوکلیئر معاہدے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا وہ ایران کے نیوکلیئر ہتھیار بنانے کیلئے ایک پکی ضامن راہ تھی۔ جو ایران نے اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کے دوسرے ملکوں کے خلاف بھی دباؤ کیلئے رکھنا تھا۔اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ‘ٹروتھ سوشل’ پر انہوں نے لکھا ‘اس لیے میرے دور میں اگر ایران کے ساتھ کوئی ڈیل ہوئی تو وہ امن کی ضمانت بنے گی۔ سلامتی اور تحفظ کی ضمانت ہوگی۔ نہ صرف اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کے ملکوں کیلئے بلکہ پورے یورپ کیلئے بھی اور امریکہ سمیت ہر ملک کیلئے۔’مزید کہا ‘یہ ڈیل ایسی ہوگی جو پوری دنیا کیلئے باعث فخر ہو گی۔ بجائے اس کے کہ سالہا سال شرمندگی اور توہین کا باعث بنتی رہے۔ جیسا کہ ہمیں ماضی میں بزدل اور نا اہل لیڈر شپ کی وجہ سے برداشت کرنا پڑی تھی۔ ‘صدر ٹرمپ نے کہا خواہ کچھ بھی ہو جائے وہ ایران کے ساتھ ڈیل کرنے کیلئے کسی بھی دباؤ میں آنے کے نہیں ہیں۔ انہوں نے ‘ٹروتھ سوشل’ پر اپنی دوسری پوسٹ میں کہا ‘وقت میرا مخالف نہیں ہے۔ جو واحد چیز اہم ہے وہ یہ ہے کہ 47 سال کے بعد ہم نے اس الجھاوے کو درست کیا جسے ماضی میں بے حوصلگی کی وجہ سے کسی نے ہاتھ لگانے کی کوشش نہ کی تھی۔ ایران کے ساتھ ڈیل کرنے کی ماضی میں لوگوں کے پاس ہمت تھی نہ دور تک دیکھنے کی صلاحیت تھی۔”ٹروتھ سوشل’ پر ہی ایک اور پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا ‘امریکہ کی طرف سے کیے گئے ‘بلاکیڈ’ کی وجہ سے ایران مکمل تباہی کا شکار ہے۔ یہ محاصرہ امریکہ اس وقت تک ختم نہیں کرے گا جب تک ایران ڈیل نہیں کرتا۔ ڈیل نہ کر کے ایران یومیہ 500 ملین ڈالر کا نقصان برداشت کر رہا ہے۔ لیکن یہ اعداد یہیں رکنے کے نہیں ہیں۔ حتیٰ کہ مختصر مدت کے دوران بھی۔
ایرانی قوم طاقت کے آگے سر نہیں جھکاتی:پزشکیان
تہران، 21 اپریل (یو این آئی) ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ایران کے امریکہ پر اعتماد نہ ہونے کی وجوہات تاریخی بد اعتمادی ہے ۔ اپنے ایک بیان میں مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکی حکام کی جانب سے غیر تعمیری اور متضاد اشارے تلخ پیغام دیتے ہیں، بامعنی مذاکرات کی بنیاد معاہدے پورے کرنے پر ہوتی ہے ۔ مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران کے امریکہ پر اعتماد نہ ہونے کی وجوہات تاریخی بد اعتمادی ہے ، امریکہ ایران سے “سرینڈر” چاہتا ہے جب کہ ایرانی قوم طاقت کے آگے سر نہیں جھکاتی۔