تہران،5 مئی ( یو این آئی) ایران قومی فٹبال ٹیم کو فیفا ورلڈکپ2026 سے قبل بڑا جھٹکا لگا ہے ،کیونکہ ونگر علی قلی زادہ گھٹنے کی سنگین زخمی ہونے کے باعث ایونٹ سے باہر ہوگئے ہیں۔ علی قلی زادہ جو پولینڈ کے کلب لیخ پوزنان کی نمائندگی کرتے ہیں، گزشتہ ہفتے موٹر لوبلن کے خلاف میچ کے دوران زخمی ہو ئے تھے ۔ بعد ازاں ٹسٹ میں ان کے بائیں گھٹنے کے اینٹیریئرکروشیئٹ لیگامینٹ کے پھٹنے کی تصدیق ہوئی۔کلب کے مطابق، کھلاڑی کا جلد آپریشن کیا جائے گا جس کے بعد کئی ماہ تک بحالی کا عمل جاری رہے گا، جس کے باعث ان کی ورلڈکپ میں شرکت تقریباً ناممکن ہوگئی ہے ۔یہاں اس بات کا تذکرہ بھی اہم ہے کہ ایران کی ورلڈ کپ میں شرکت پر بھی غیر یقینی صورتحال موجود ہے ، جس کی وجہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی اور فضائی حملے ہیں۔ فروری کے آخر میں شروع ہونے والے حملوں کے بعد ملکی فٹبال لیگ معطل کردی گئی تھی۔اس کے باوجود،کھلاڑی تہران میں تربیتی کیمپ کے ذریعہ اپنی تیاری جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مڈفیلڈر محمد مہدی نے حالیہ دنوں میں ایک بیان میں کہا کہ اگر وہ ورلڈکپ میں گول کرتے ہیں تو اسے مناب میں ہونے والے حملے کے متاثرین کے نام کریں گے ۔دوسری جانب، اسٹار اسٹرائیکر سردار آزمون کی ٹیم میں واپسی کے حوالے سے بھی قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ آزمون کو مبینہ غیر وفاداری کے الزام میں مارچ میں اسکواڈ سے باہرکردیاگیا تھا، جب انہوں نے محمد بن راشد آل مکتوم کے ساتھ ملاقات کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئرکی تھی۔ایران اپنے گروپ جی مہم کا آغاز15 جون کو نیوزی لینڈ قومی فٹبال ٹیم کے خلاف لاس اینجلس میں کرے گا، اس کے بعد21 جون کو بیلجیم قومی فٹبال ٹیم سے مقابلہ ہوگا، جبکہ آخری گروپ میچ 26 جون کو سیئٹل میں مصر قومی فٹبال ٹیم کے خلاف کھیلا جائے گا۔ علی قلی زادہ کی انجری ایران کے لیے ایک بڑا نقصان ہے ، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ٹیم پہلے ہی غیر یقینی حالات اور محدود تیاریوں کا سامنا کر رہی ہے ۔ اب ٹیم مینجمنٹ کو متبادل حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اترنا ہوگا۔یاد رہے کہ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جاری جنگ کے باعث فیفا اور ورلڈ کپ انتظامیہ سے کہا تھا کہ اس کے مقابلے امریکہ سے کسی دوسرے مقام پر منتقل کئے جائیں ۔