ٹرمپ کا سخت موقف ، ایران کی چھوٹی جنگی کشتیاں تباہ کرنے اور فوجی طاقت کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ
واشنگٹن، 5 مئی (یو این آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ کسی صورت ایران کو نیوکلیئر ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ وائٹ ہاؤس میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیا اور دعویٰ کیا کہ ایران کی فوجی طاقت کو بڑی حد تک نقصان پہنچایا جا چکا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس اب نہ مؤثر بحریہ رہی ہے ، نہ فضائیہ اور نہ ہی جدید ریڈار سسٹم، جبکہ امریکہ اس معاملے میں مؤثر پیش رفت کر رہا ہے ۔صدر ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ سمندر میں 159 ایرانی جہاز ڈبو دیے گئے ہیں، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ کے حامی نہیں اور جنگوں کو پسند نہیں کرتے ۔ان کا کہنا تھا کہ ایران کو ایسے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا جن کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا، جبکہ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تنازعہ کے خاتمہ کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی آئے گی۔چین کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے شی جن پنگ سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی اور اپنے ممکنہ دورہ چین کو اہم قرار دیا۔داخلی امور پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے امریکی سپریم کورٹ کے ٹیرف سے متعلق فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے غیر مؤثر قرار دیا، تاہم کہا کہ محصول بدستور وصول کیا جا رہا ہے ۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج نے ایران کی سات چھوٹی جنگی کشتیاں تباہ کر دی ہیں۔ ان کے بقول یہ کشتیاں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ تاحال ایران کی جانب سے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے ۔ صدر ٹرمپ نے ایران کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ تہران کے پاس اب صرف دو ہی راستے بچے ہیں: یا تو وہ دیانتداری کے ساتھ نئے معاہدے کے لیے مذاکرات کی میز پر آئے ۔ یا پھر مزید تباہ کن حملوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہے ۔انہوں نے مزید دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایرانی افواج نے امریکی جہازوں کو نشانہ بنانے کی غلطی کی تو انہیں “روئے زمین سے مٹا دیا جائے گا”۔
آبنائے ہرمز میں کشیدگی عروج پر
امریکہ اور ایران کے متضاد دعوے : جنگ کے اندیشے بڑھ گئے
تہران ۔ 5 مئی ( ایجنسیز ) آبنائے ہرمز میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، جہاں امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کارروائی کے دوران ایرانی کشتیوں کو تباہ کر دیا۔امریکی حکام کے مطابق یہ حملے اپاچی اور سی ہاک ہیلی کاپٹروں کے ذریعے کیے گئے، جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ ان کے بحری جہاز محفوظ ہیں۔ایران نے امریکی دعوؤں کو مسترد کردیا اور کہاکہ امریکی جہازوں نے وارننگ نظر انداز کی، جواب میں میزائل فائر کیے گئے اور امریکی جہاز پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہوئے۔ایرانی پارلیمان کے اسپیکر باقر قالیباف نے امریکہ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ خطے کی سلامتی خطرے میں ڈال دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی توانائی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے، خلیجی ممالک اور عالمی تجارت پر دباؤ بڑھ رہا ہے ۔
امریکہ نے آبنائے ہرمز میں سیکورٹی زون بڑھا دیا
جنگ بندی اب بھی برقرار ہے : امریکی وزیر دفاع ہیگستھکا بیان
واشنگٹن، 5 مئی (یو این آئی) امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں امریکہ اور ایران کے درمیان فائرنگ کے باوجود جنگ بندی ختم نہیں ہوئی۔ ہیگستھ نے کہا کہ جنگ بندی برقرار ہے ، جبکہ ایرانی فورسز نے پروجیکٹ فریڈم کے اعلان کے بعد سے امریکی اہداف پر 10 سے زیادہ حملے کیے ، جنہیں حکام نے مکمل جنگی کارروائیوں کو دوبارہ شروع کرنے کی حد سے نیچے بیان کیا ہے ۔چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے کہا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے ساتھ کشیدگی کے درمیان تجارتی جہازوں کی حفاظت اور بحری جہازوں کی آزادی کو یقینی بنانے آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں سیکیورٹی زون کو بڑھا دیا ہے ۔ کین نے کہا کہ پروجیکٹ فریڈم کا مقصد تجارتی جہازوں کی حفاظت اور آبنائے کے ذریعے تجارت کے ہموار بہاؤ کو بحال کرنا ہے۔