٭ جرمنی سے آئے انفلوئنسر دھرو راتھی نے بطور خاص شرکت
٭ گیانیش کمار کا استعفی اور ‘ ایس آئی آر ختم کیا جائے : پرکاش راج
٭ مودی ووٹ چوری سے وزیر اعظم بنے ہیں: ابھیجیت ڈپکے
٭ ’ ووٹ چور۔ گدی چھوڑ ‘ کا نعرہ ۔ ووٹ سے محروم افراد شریک
بنگلورو 8 اکٹوبر ( ایجنسیز ) ایس آئی آر کو برخواست کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے آج بنگلورو میں زبردست احتجاج منظم کیا گیا ۔ بنگلورو کے فریڈم پارک میٹرو پر یہ احتجاج منعقد کیا گیا تھا جس میں سب سے خاص بات یہ رہی کہ سوشیل میڈیا انفلوئنسر دھرو راتھی نے بھی شرکت کی ۔ دھرو راتھی جرمنی میں مقیم ہیں اور وہ حکومت کو مسلسل اپنے ویڈیوز کے ذریعہ تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ آج بنگلورو میں احتجاج کا انعقاد اداکار پرکاش راج کی جانب سے کیا گیا تھا جس میں سی جے پی کے بانی ابھیجیت ڈپکے ‘ دھرو راتھی ‘ پرکاش راج کے علاوہ دوسروں نے بھی شرکت کی ۔ عوام کی کثیر تعداد اس احتجاج میں شامل تھا جس کا مطالبہ تھا کہ ایس آئی کے عمل کو مکمل ختم کیا جائے ۔ اس احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے پرکاش راج نے کہا کہ حکومت کو ایس آئی ار کا عمل برخواست کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف ووٹوں کو حذف کرنے کا عمل نہیں بلکہ یہ شہریوں کے حقوق اور ان کی عزت و وقار پر حملہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار وزیر اعظم نریندرمودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کی ایماء پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس پروگرام کو عوامی ٹریبونل کا نام دیا تھا جس کا اہتمام سیول سوسائیٹیز اور سی جے پی کے بیانر تلے کیا گیا تھا ۔ پرکاش راج نے مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایس آئی آر کے ذریعہ رائے دہندوں کی ہتک اور توہین کی جا رہی ہے ۔ سیاستدان ہر پانچ سال میں عوام سے ان کا آشیرواد لینے کیلئے پہونچتے ہیں لیکن اب رائے دہندوں کو خود ہی اپنے ووٹ کو بحال کرنے جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ لوگ ہوتے کون ہیں کہ عوام کے ووٹ چھین لیں۔ یہ ایک سنگین غلطی ہے ۔ انہوں نے ’’ ووٹ چور ۔ گدی چھوڑ ‘‘ کے نعرے بھی بلند کئے ۔ پرکاش راج نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفی کا نہیں ہے بلکہ سارے ایس آئی آر کے عمل کو ختم کرنے کا ہے ۔ سی جے پی کے بانی اباھیجیت ڈپکے نے وزیر اعظم نریندر مودی پر جمہوریت کو نقصان پہونچانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایس آئی آر کا عمل ان افراد کو ووٹ کے حق سے محروم کرنا ہے جو بی جے پی کی مخالفت کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم جمہوری عمل کی اہمیت اور وقعت کو گھٹا رہے ہیں۔ ڈپکے نے کہا کہ جن کے ناموں کو ووٹر لسٹ سے خارج کردیا گیا ہے وہ بھی اس احتجاج میں موجود ہیں تاکہ یہ بتا سکیں کہ وہ زندہ ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مودی نے ووٹ حذف کرکے اور ووٹ چوری کرکے وزارت عظمی حاصل کی ۔ جن لوگوں کو مردہ قرار دیا گیا تھا وہ یہاں زندہ موجود ہیں۔ اس لئے جو موت ہوئی وہ ملک کے عوام کی نہیں بلکہ جمہوریت کی موت ہوئی ہے ۔