بجلی پلانٹ کی توسیعی منصوبہ سے جامعہ نگر میں کھلبلی

پلانٹ کی اہلیت 16سے 46میگاوات کرنے کے فیصلے سے زہریلی گیس اور مہلک بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ

نئی دہلی۔اوکھلا میں چل رہے کوڑے سے بجلی بنانے کے ایک پلانٹ کی وجہہ سے جامعہ نگر کی ہوا بہت حد تک زہریلی ہوچکی ہے۔ اس پلانٹ کی وجہہ سے اوکھلا دہلی کے سب سے زیادہ آلودگی والے علاقوں میں شامل ہے۔

اب اس پلانٹ کی بجلی بنانے کی اہلیت دوگنا سے بھی زیادہ یعنی 16سے 46میگاواٹ کرنے کا فیصلہ کیاگیاہے۔ اس سے جہاں اوکھلا کے لوگوں میں خاص طور پر سے بچے اور بزرگ کینسر جیسی مہلک بیماری کی زد میں ائیں گے۔

وہیں زہریلی ہوا سے اموات میں اضافہ کے امکان پیدا ہوں گے ۔

دلچسپ یہ ہے کہ پچھلے سال اکتوبر کے مہینے میں فضائی آلودگی کی وجہہ سے سرکاری بد ر پور تھرمل پاؤر پلانٹ کو بند کردیاگیا مگر اوکھلا میں تیمار پور پلانٹ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی لمیٹیڈ کے ذریعہ چلائے جارہے اس پرائیوٹ پلانٹ کو کھلی چھوٹ دی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ اس پلانٹ کے عین مقابل جہاں لاکھوں کی گنجان آبادی ہے وہیں تعلیمی اور صحت اداروں کے ساتھ مذہبی مقامات ہیں جن میں ہر دن ہزاروں کی تعداد میں اسکولی طلبا ‘ مریض او رعقیدت مند پہنچتے ہیں۔

آبادی میں سکھ دیو بہار‘ مسیح گڑھ‘ جو لینا ‘ بھر ت نگر ‘ تیمور نگر ‘ حاجی کالونی ‘ غفار منزل‘ نور نگر’ جوہری فارم ‘ اوکھلا وہار‘ جسولہ گاؤں ‘ جسولہ وہار ‘ سریتا وہار‘ شاہین باغ‘ ابوالفضل انکلیو‘ بٹالہ ہاوس ‘ جوگا بائی‘ ذاکر نگر او رنیوفرینڈس کالونی وغیرہ آتے ہیں۔

صحت اداروں میں مشہور اسپتال ایسک آرٹ ہارٹ انسٹیٹوٹ ‘ ہولی فیملی‘ اپولو ہنسل اسپتال ‘ سجان مہیندر اسپتال ‘بنسل اسپتال‘ الشفا ملٹی اسپیشلٹی اسپتال‘ آدم اسپتال وغیرہ جبکہ جامعہ اسلامیہ ‘ دہلی سرکاری اور جنوبی دہلی میونسپل کارپوریشن کے علاوہ درجنوں پرائیوٹ اسکول ہیں اور مذہبی مقامات میں چرچ ‘ مندراور مساجد ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ یوں تو پلانٹ کانگریس کی شیلا دکشٹ سرکاری کی مدت کار میں قائم کیاگیا تھا‘ اس وقت بھی مذکورہ پلانٹ کو شروع نہ کرنے یہ کہہ کر مخالفت کی گئی تھی کہ گنجان آبادی میں تعمیر ہورہا ہے۔

حالانکہ اس وقت جامعہ نگر کے عوام سیاسی نمائندے اور خاص طور پرسے سکھ دیو وہار آر ڈبیلو اے کے نمائندوں کے ذریعہ اس وقت شیلا دکشٹ سے ملاقاتیں کرکے ویہ باوار کروایا گیاکہ اس سے عام لوگوں کے ساتھ بچوں اور بزرگوں کو پھیپھڑوں کے ساتھ کینسر جیسی مہلک بیماریاں پھیلیں گی۔

ایسے پلانٹ آبادی سے دور قائم کئے جانے چاہیں۔ مگرلاکھ کوششوں کے باوجود یہ شروع کردیا گیا۔ دہلی اسمبلی انتخابات سے قبل وزیراعلی ارویندر کجریوال اور اوکھلا کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان نے اس پلانٹ کو بند کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

دہلی میں عام آدمی پارٹی کی سرکار بننے کے بعد پچھلے چارسالوں میں بند نہیں کیاگیا بلکہ چلتا رہا ۔حیران کن بات یہ ہے کہ دہلی سرکاری سے اس پلانٹ کوایک بڑی رقم سبسڈی کے نام پر ملتی رہی ہے۔ اب یہ فیصلہ کیاجانا کہ اس کی اہلیت دوگنا سے بھی زیادہ کی جائے گی۔

اگر ایسا ہوا تو اوکھلا کی ہوا ملک میں سب سے زیادہ خراب ہوگی۔

دلچسپ یہ کہ ممبر اسمبلی بننے سے پہلے امانت اللہ خان بھی اس وقت پلانٹ کی شدت کے ساتھ مخالفت کرتے تھے جب وہ لوک جن شکتی پارٹی میں تھے‘ بعد میں جب وہ عام آدمی پارٹی میں ائے تب بھی شدت کے ساتھ مخالفت کرتے تھے‘ بعد میں جب وہ عام آدمی پارٹی میں ائے تب بھی شدت کے ساتھ مخالفت کرتے ہوئے کرتے تھے مگر ان پر الزام ہے کہ جب انہیں اوکھلا کے عوام نے اسمبلی میں پہنچادیا تب ان کے ذریعہ پلانٹ کی مخالف کرنا بند کردی گئی۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ دہل کے وزیر ماحولیات عمران حسین عام آدمی پارٹ کے مشن کے تحت دہلی کو آلودگی سے پاک بنانے کی سمت میں عمل پیرا ہیں۔ وہ آلودہ زدہ صنعتی ایریا میں دورے بھی کرتے رہے ہیں آلودگی پھیلانے والوں کے خلاف ایکشن بھی لیاہے۔

دلچسپ یہ ہے کہ وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے تعلیم یافتہ ہیں۔یہ پلانٹ یونیورسٹی سے چندفرلانگ پر قائم کیاگیاہے۔

جس سے زہریلی گیس نکلتی ہے او ریہ پلانٹ ایک گنجا ن آبادی کے علاقے کے ساتھ تعلیمی درسگاہ کو بھی اپنی زد میں لئے ہوئے ہے۔

مگر آج تک کے ذریعہ اس پلانٹ کے متعلق کوئی بیاں نہیں آیا ہے۔

بہرحال اب دہلی پولیوشن کنٹرول بورڈ نے اس بات میں ایک’جن سنوائی16جنوری کو صبح 11بجے پرانی بلڈنگ گارگی جالج ‘ لاجپت نگر میں جنوب مشرقی ضلع کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ آفس کے باہر رکھی ہے تاکہ اس توسیع منصوبہ کو ہری جھنڈی دی جاسکے۔

اس تعلق سے وی او سی نے دہلی کے وزیراعلی اروند کجریوال کو ایک میمورنڈم بھیج کر نہ صرف یہ کہ اس فیصلے کو رد کرنے کی مانگ کی ہے بلکہ اس پلانٹ کو پوری طرح بند کرنے کا مطالبہ بھی کیاہے۔ وی او سی کے کنویر عبدالرشید اگوان کے ذریعہ ڈی پی سی کی جن سنوائی میں اوکھلا اسمبلی حلقہ کی سبھی آرڈبیلو اے کے ذمہ داران سے شرکت کی اپیل کی گئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT