بیٹی قدرت کا حسین تحفہ ہے ۔ بیٹی ماں کی آنکھوں کا تارا ہوتی ہے ۔ بیٹی کا رشتہ بہت نازک اور محبت بھرا ہے ۔ سیرت اللہ کی دی ہوئی نعمت ہے ۔ شادی یہ ایک بڑی ذمہ داری کی شروعات ہے ۔ اللہ تعالی نے اس دنیا میں ہر ایک کا جوڑا بنایا ہے ، سیدنا آدمؑ کیلئے سیدہ حواؑ پیدا کی گئیں ، اس دنیا میں مرد اور عورت کا جوڑا بنادیا گیا ہے ۔ خوبصورتی دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتی ہے ۔ آئینہ ہنسنے والوں کو روتا نہیں دکھاتا ۔ بیوی کا کام ہے کہ گھر والوں کو سمجھنے کی کوشش کرنا ، خطبہ نکاح میں واضح ہے کہ اللہ سے ڈرو وہ جوڑا بنایا ہے اور ایک دوسرے سے اپنا حق مانگتے ہیں ۔ اللہ ہماری نگرانی کررہا ہے ۔ نفس کے شر سے پناہ مانگتے ہیں ۔ ماں باپ شادی سے پہلے اور بعد اپنی بیٹی کو نصیحت کرے کہ بیٹی تم کبھی بھی اِدھر کی باتیں اُدھر اور اُدھر کی باتیں اِدھر نہیں دہرانا ۔ ماں باپ اور خود بیٹی کی ذراسی غفلت بیٹی کیلئے اندھیرا لادیتی ہے ۔ شوہر کی خوشی میں اپنی خوشی بانٹنا ہر ایک سے میٹھے بول بولنا اس میں نصیب والی کہلاوگی ۔ دینی اور دنیاوی تعلیم لڑکیوں کیلئے ضروری ہے ۔ جو بیٹی اپنے دماغ کو پاک و صاف رکھتی ہے اور ہوشیاری سے کام لیتی ہے وہ کامیاب زندگی گزارتی ہے ۔ اولاد کی تربیت میں کوتاہی نہ کریں ۔ بلاشبہ شہوت ایک فطری جذبہ ہے آج یہی جذبہ شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے ۔ تکالیف میں صبر کر لینا عبادت ہے ۔ والدین کو بچوں کے سامنے نمونا بن کر رہنا چاہئے ، اگر گھر میں جوان بیٹیاں ہوں تو ماں اُن بچوں کے ساتھ رات گزارنے کی کوشش کرنا چاہئے ، گھر میں جوان بیٹیاں رکھ کر دونوں الگ سونے کی کوشش نہ کرے ۔ شوہر کی تمام باتوں کو اپنے دل میں رکھیں ، جتنا حق بیوی کا شوہر پر ہوتا ہے اسی طرح شوہر کا حق بیوی پر ہے ۔ سلیقہ من بیوی گھر کو جنت بنادیتی ہے اس میں راحت پوشیدہ ہے ۔ بیٹی کوعقل سلیم سے کام لے کر ماں باپ کی نصیحت کے مطابق گھر والوں میں گھل مل جانا چاہئے ، گھر کے تمام گرویدہ ہوجائینگے ۔ ہم مسلمان بندے رسول اکرم ﷺ کے گُر اور حضرت سیدہ عائشہ ؓ کا رہن سہن خود بھی سیکھیں اور اپنی بیٹیوں کو بھی سکھادیں ۔ کوشش اور جستجو کرنے سے ہر چیز مل سکتی ہے ۔ رسول اکرم ﷺ فرماتے ہیں اپنے خاندان کے کاموں کو اپنا طریقہ بناو اور جب بستر پر لیٹو تو سبحان اللہ ، الحمد اللہ اور اللہ اکبر پڑھ لو ہر کام آسان ہوجائے گا ۔ شوہر اور بیوی ہی وہ خوش نصیب ہیں جن کے پاس مکمل ضابطہ حیات موجود ہے ۔ شوہر کیلئے بہترین ہم نشین بیوی ہوتی ہے جس طرح تشوپیپر کا ایک کونا سارے پانی کو اپنی طرف لیتا ہے۔ کبھی کبھی بیوی کی آنکھیں روتی ہیں اور کبھی دل روتا ہے ، دل کا رونا بڑا بُرا ہوتا ہے ، جب دنوں ( دل اور آنکھ ) روتے ہیں تو اللہ پاک کو بہت برا لگتا ہے ۔ ہاں بیٹی بیٹے کی تربیت ایک مشکل اور تھکادینے والا کام ہے ، اولاد کی تربیت میں تکلیف اُٹھانا اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے ۔
بچوں کو بددعا دینا شرعاً منع ہے ، لبوں پر مسکراہٹ اور زبان شیریں ہو ، میاں بیوی کی محبت گھر کی چار دیواری ہے اگر چار دیواری ختم ہوجائے تو گھر بچانا مشکل ہوجائے گا ۔ اچھی اور میٹھی بات بھی ایک صدقہ ہے ۔ بچوں کے حق میں صرف چوکیدار نہ بنیں بچوں سے دوستانہ ماحول بنائیں۔ اپنے اختلافات اپنے کمرہ تک محدود رکھیں بچوں کے سامنے نہ لائیں ، ننھنیال اور ددھیال بچوں کیلئے دو پہلو ہیں ، آمرانہ انداز میں بچوں کو حکم نہ دیں ، محبت سے ادب سے باتیں سکھائیں ۔ رسول اللہ ؐ فرماتے ہیں سونے چاندی کے بجائے شکر گزار دل ذکر کرنے والی زبان اور مومن بیوی اپنے پاس رکھیں ۔ حضور اکرم ﷺ اپنی چھوٹی بیٹی کو تاکید کرتے ہیں کہ بیٹی غصہ کو کبھی قریب آنے نہ دیں ، پیاری بیٹی والد محترم کی بات کو سُن لیتی ہے اور راحت بھری زندگی گزار لیتی ہیں ۔ عزت دل میں ہونی چاہئے لفظوں میں نہیں ناراضگی لفظوں میں ہونی چاہئے دل میں نہیں ، رحم کرنے والا دل عطا کرنے والا ہاتھ ہو ، کفر کے بعد سب سے بڑا گناہ دل دکھانا ہے چاہے وہ دل مومن کا ہو یا کافر کا ، بیٹی کے لفظ میں جتنی مٹھاس ہے کس دوسرے لفظ میں نہیں ہے ۔ یہاں ایک واقع بیان ہے ایک ٹیچر اپنی کلاس کے بچیوں سے کہتی ہے جو جنت کی مٹی لائے گی میں اس کو بہترین انعام دوں گی ، دوسرے دن کلاس کی تمام لڑکیاں خاموش بیٹھی رہیں ایک معصوم لڑکی جو شرٹ شلوار پہنی ادب سے میٹھے بول کہنے لگی میں جنت کی مٹی لائی ہوں جنت تو نہیں دیکھی یہ ہے میری ماں کے تلے کی مٹی ، ٹیچر اس معصوم لڑکی ( بیٹی ) کو گلے لگا لیتی ہے اور دونوں کے آنکھ نم ہوجاتے ہیں ۔ ہر بیٹی کو اپنی ماں کو دیکھ کر خوشی ملتی ہے ۔ بیٹی کہتی ہے دنیا کی ہر عالیشان چیز مل جائے پر میں عالیشان نعمت کو ٹھکرا کر ماں کی مقدس آغوش میں پنا لینا پسند کروں گی ۔ چند لوگ ’’انا‘‘ اور ’’ میں میں ‘‘ میں بیٹیوں سے دوری رکھتے ہیں اکثر یہ مغربی ملکوں میں ہوتا ہے جو بڑا گناہ ہے ۔ لڑکیوں کی پیدائش پر نا خوش ہوتے ہیں ۔ لڑکیوں کی پیدائش جنت کی راہ بتاتی ہے ۔ لڑکیوں کی چار چار پیدائش پر بھی بہت خوش و خرم زندگی گزارتے ہیں یہ اللہ کی نعمت ہے ۔ جب بیٹی کسی تکلیف میں ہوتی ہے تو سب سے پہلے اللہ رسولؐ کے بعد ماں کے رشتہ کو یاد کرتی ہے ۔ اللہ سے دعا گو رہیں ہر معصوم بیٹی نصبیے والی ، میٹھی بول والی ہو اور وہ خوش و خرم رہے ۔ آمین