بی آر ایس قائدین زبان قابو میں رکھیں : ناگیش ریڈی

   

اشتعال انگیزی ناقابل برداشت ، اسپیکر اسمبلی کے ساتھ نامناسب رویہ کی مذمت ، ڈی سی سی صدر کی پریس کانفرنس

نظام آباد۔ 8ستمبر ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) کانگریس ضلع صدر ناگش ریڈی نے اسمبلی اجلاس کے دوران بی آر ایس قائدین کی جانب سے اسمبلی اسپیکر کے ساتھ اختیار کئے گئے نامناسب رویہ کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کا طرز عمل جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ناگیش ریڈی نے کہا کہ بی آر ایس قائدین نے سیاہ ٹی شرٹس پہن کر حکومت کے خلاف مبینہ طور پر غلط خبریں تحریر کیں اور خواتین پولیس اہلکاروں کے سامنے ٹی شرٹس اُتار کر نامناسب رویہ اختیار کیا، جو تلنگانہ کے لئے ایک سیاہ دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ ایک دن بھی اسمبلی اجلاس میں شرکت نہیں کرسکے اور ان کی عدم شرکت کے باعث عوامی خزانے سے تقریباً 22 کروڑ روپے خرچ ہوئے، جس پر بی آر ایس قائدین کو وضاحت دینی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت عوام کو متعدد فلاحی اسکیموں کے فوائد فراہم کررہی ہے، اس کے باوجود اپوزیشن کی جانب سے تنقید کی جارہی ہے، اگر اپوزیشن قائدین تنقید کے بجائے حکومت کو تعمیری تجاویز پیش کریں تو حکومت ان پر غور کرنے کے لئے تیار ہے۔ ناگیش ریڈی نے کہا کہ کانگریس حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد خواتین کے لئے مفت بس سفر، 200 یونٹ مفت برقی، نئے راشن کارڈس، رعیتو بھروسہ اور کسانوں کے قرضہ جات کی معافی سمیت متعدد فلاحی اقدامات کئے گئے ہیں، جبکہ ضلع میں چار انٹیگریٹیڈ اسکولس، انجینئرنگ کالج اور ایگریکلچر کالج کے قیام کا اعزاز بھی کانگریس حکومت کو حاصل ہے۔ انہوں نے بی آر ایس قائدین سے خواہش کی کہ وہ آئندہ اپنی زبان پر قابو رکھتے ہوئے ذمہ داری کے ساتھ بیانات دیں، بصورت دیگر نامناسب اور اشتعال انگیز بیانات کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے بی آر ایس ایم ایل سی تاٹا مدھو کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ پریس کانفرنس میں کانگریس ضلع نائب صدور بالراج اور گاداری گوپی، ضلع ایس ٹی سیل صدر یادگیری، ضلع جنرل سکریٹری بُنے روی، ضلع سکریٹری گنیش، سرپنچ سرینو، نرسیا، گنگا ریڈی، مدھو، اشوک، سرینواس، نریندر گوڑ اور دیگر موجود تھے۔