حیدرآباد 30 اگست (راست) ریاست تلنگانہ میں کانگریس پارٹی کی جانب سے تلنگانہ کے اقلیتوں کے مسائل کی یکسوئی، انھیں سطح غربت سے اُٹھانے، بے گھر افراد غریب اقلیتوں کو رہنے کے لئے مکانات کے حصول میں کوشاں، پریشان عوام کی رہنمائی کرنے، حکومت کی جاری کردہ اسکیمات، اس کی تشہیر اور اقلیتوں سے دور، رسائی ناممکن اور تلنگانہ کے اضلاع میں بھی مسلم، سکھ، عیسائی، پارسی اور بدھسٹ جیسے اقلیتوں میں کافی ناراضگی پائی جاتی ہے۔ اس ضمن میں میر ہادی علی کانگریس قائد سابق وائس چیرمین، سابق ممبر اے پی اسٹیٹ وقف بورڈ نے صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی مسٹر مہیش کمار گوڑ کو اس جانب توجہ مبذول کروائی اور ساتھ ہی تلنگانہ اسٹیٹ کانگریس کمیٹی مائناریٹیز ڈپارٹمنٹ سینئر قائدین مسرس ایم اے سمیع، خواجہ ذاکر الدین، عابد زین العابدین، اسمٰعیل الرب انصاری، یوسف بن ناصر، مجید، سردار بلویندر سنگھ، سید اختر حسین، معید خان، مجتبیٰ عابدی اور کئی اضلاع کے اسٹیٹ لیڈرس نے کہاکہ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے شعبہ اقلیت کے صدر نے مسٹر عمران پرتاپ گڑھی نے کئی ماہ قبل مسٹر محمد عرفان کو بحیثیت صدر تلنگانہ اسٹیٹ مائناریٹیز ڈپارٹمنٹ نامزد کیا تھا مگر آج کئی مہینے گزر چکے اسٹیٹ باڈی تشکیل نہیں پائی اور اب ریاست میں کانگریس پارٹی کی حکومت نے قریب 3 سال مکمل ہونے جارہے ہیں مگر اب تک اسٹیٹ باڈی تشکیل نہیں پائی۔ مسٹر میر ہادی علی نے کہاکہ آج کانگریس پارٹی کے وفادار مسلم اقلیتی لیڈرس سرکاری بورڈ، کارپوریشن میں نمائندگیوں سے محروم تو ہوچکے ہیں مگر اب آرگنائزیشن سے بھی دور کردیا جارہا ہے۔ آج تلنگانہ کی مسلم عوام کانگریس کے قریب ہے مگر پارٹی اعلیٰ کمان کو کانگریس کو کانگریس سے وابستہ مائناریٹی لیڈرس نہیں چاہئے، اس کا سدباب کریں۔