تکو گوڑہ میں دواخانہ کے احاطہ میں نرس کے قتل کی واردات

   

عصمت ریزی کی کوشش کی مزاحمت پر قتل ۔ مشتبہ بہاری نوجوان کا پولیس کو بیان
حیدرآباد 30 اگست (سیاست نیوز) پہاڑی شریف کے علاقہ تکو گوڑہ میں اتوار کی دوپہر سنسنی خیز واردات میں ایک نرس کا قتل کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق 21 سالہ سریشا جو تکو گوڑہ میں پرائم کیئر ہاسپٹل میں بحیثیت نرس خدمات انجام دے رہی تھی اور وہ دواخانہ کے احاطہ میں واقع شیلٹر روم میں مقیم تھی، جس کا تعلق بھدرادی کوتہ گوڑم سے بتایا گیا ہے۔ اتوار کی صبح ڈیوٹی پر رجوع نہ ہونے پر ہاسپٹل انتظامیہ نے اُس سے فون پر ربط کرنے کی کوشش کی جس میں وہ ناکام رہے۔ بعدازاں ہاسپٹل کے ذمہ داران سریشا کے روم پہونچے جہاں اندر سے دروازہ بند تھا اور شبہ کی بنیاد پر پہاڑی شریف پولیس کو اِس کی اطلاع دی گئی۔ انسپکٹر پہاڑی شریف بی لکشمی نارائن ریڈی موقع واردات پر پہونچ کر دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے جہاں نرس کی نعش فرش پر پڑی ہوئی پائی گئی جس کے جسم پر زخموں کے نشان پائے گئے۔ پولیس نے فوری مستعدی کا مظاہرہ کرکے ہاسپٹل کے سی سی ٹی وی کیمروں کا تجزیہ کیا جس میں سریشا کے روم میں کھڑکی کے ذریعہ اندر داخل ہونے اور وہاں سے کچھ ہی دیر میں فرار ہونے کا منظر ریکارڈ کیا گیا جس پر پولیس نے دواخانہ کا محاصرہ کرلیا اور ایک مشتبہ نوجوان کو حراست میں لے لیا۔ پولیس نے تفتیش کے دوران نوجوان کی شناخت 35 سالہ ثناء اللہ متوطن بہار کی حیثیت سے کی اور اُس نے تحقیقاتی عہدیداروں کو بتایا کہ عصمت ریزی کیلئے وہ سریشا کے روم میں داخل ہوا تھا جس پر اُس نے مزاحمت کی جس کے نتیجہ میں اُس نے سریشا کا قتل کردیا۔ سٹی پولیس کے سراغ رسانی دستہ کلوز ٹیم نے بھی مقام واردات سے اہم شواہد اکٹھا کئے جس میں ثناء اللہ کے ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوت دستیاب ہوئے۔ (ب؍V)