محمد مبشرالدین خرم
ایران کے اسرائیل پر مسلسل حملوں اور امریکی اثاثہ جات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع ہوئے چند ہفتے ہی گذریں ہیں کہ دنیا نے قیام امن‘ جنگ و جدال کے خاتمہ ‘ جنگ سے ہونے والے معاشی نقصانات پر بحث شروع کردی ہے اور امن و امان کے جہد کاروں نے قیام امن کی کوششوں کے نام پر عالمی پلیٹ فارمس کا استعمال کرنا شروع کردیا ہے لیکن اسرائیل کے فلسطین بالخصوص ’غزہ‘ کے نہتے عوام پر مسلسل بمباری اور ان کی ہلاکتوں پر دنیا کے وہ پلیٹ فارمس جو قیام امن ‘ جنگ و جدال کے خاتمہ اور انسانیت کی دہائی دیتے ہیں وہ کہیںنظر نہیں آئے بلکہ چند ایک آوازیں کو جو کہ ’نقارخانہ میں طوطی کی بولی‘ کے مترادف اٹھا کرتی تھیں لیکن اب جبکہ ایران بے خوف و خطر اسرائیل ‘ امریکہ اور اس کے دوستوں کو نشانہ بنارہا ہے ایسی صورت میں وہ سب قوتیں اٹھ کھڑی ہوئی ہیں جو دنیامیں ’خون مسلم کی ارزانی ‘ پر تماشائی بنی ہوئی تھیں۔ ایران ۔اسرائیل و امریکہ کے درمیان جاری اس معارکہ نے دنیا میں حق و باطل کے درمیان واضح تفریق پیدا کرتے ہوئے ان تمام کی نشاندہی کردی ہے جن کے دل ظالم کی موت پر بھی لرز اٹھتے ہیں بلکہ ظالم کی موت پر ہی ان کے دلوں میں لرزہ پیدا ہوتا ہے کیونکہ انہیں اپنے مظالم کا احساس ہونے لگتا ہے۔اللہ کی راہ میں جدوجہد اور کسی خوف کے بجائے دشمنان اسلام و انسانیت کے خلاف نبرد آزما ہونا ہی دراصل قرانی تعلیمات ‘ اسوۂ رسولﷺ اور حسینی ؓتعلیمات ہیں جنہیں عرب دنیا نے فراموش کردیا ہے اورقرآن نے جس طرح سے یہود و نصاریٰ کے متعلق متنبہ کیا ہے اسے بھی بھلا چکے ہیں ۔دنیا کے سوپر پاؤر سمجھے جانے والے امریکہ واسرائیل اب ایران سے 48 گھنٹوں کے لئے جنگ بندی کی بات کر رہے ہیں اور ایران اس بات کے لئے آمادہ نہیں ہے جو کہ یہ ثابت کر تا ہے کہ دنیا میں طاقت و قوت کی سرحدیں تبدیل ہورہی ہیں۔
دنیا کے اگر انقلابات کا مشاہدہ کیا جائے تو دنیامیں کوئی ایک ملک یا علاقہ ہمیشہ طاقت کا محور نہیں رہا بلکہ اس عظیم دنیاکی تاریخ میں اسپین ‘ برطانیہ ‘ سویت یونین کو لازوال تصور کیا جاتا تھا لیکن تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ اسپین جو 1590 میں سب سے طاقتور تھا وہ باقی نہیں رہا جس کے پاس دنیا بھر میں اس وقت موجود آدھا سونا اور چاندی اپنے پاس رکھے ہوئے تھا۔یوروپ ‘ اسپین کے کنٹرول میں ہوا کرتا تھا لیکن محض 80 سال میں اسپین دیوالیہ ہوگیا۔اس کے بعد 1914میں برطانیہ انسانی تاریخ کا سب بڑی حکومت کے طور پر اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہوا جس کے متعلق کہا جاتا تھا کہ ’برطانوی سامراج ‘ میں کہیں سورج غروب نہیں ہوتا۔ ملکہ الزیبتھ نے برطانیہ کے سرحدوں کو اس قدر وسعت دینے میں کامیابی حاصل کی تھی کہ سورج اپنی گردش مکمل کرنے کے بعد برطانیہ میں غروب ہوکر برطانوی کالونی میں ہی طلوع ہوتا۔ اسپین اور برطانیہ کی دنیا کے سوپر پاؤر ہونے کی داستانیں طلسمی دنیا کی کہانیاں لگتی ہیں لیکن یہ تاریخ کے وہ تاریک حقائق ہیں جن میں انسان کو غلام اور ظالم کو حکمراں تصور کیا جاتا تھا۔برطانیہ جس وقت دنیا کا سوپر پاؤر تھا اس دور میں پاؤنڈاسٹرلنگ دنیا کی ریزرو کرنسی ہوا کرتی تھی جس طرح آج ’’ڈالر‘‘ کو تصور کیا جا رہاہے لیکن سینکڑوں برس سوپر پاؤر رہنے کے بعد برطانیہ نے بھی اپنی عالمی طاقت کی شناخت کھودی اور اس کے بعد سویت یونین دنیا کا سوپر پاؤر بن کر ابھرا جو کہ 1991میں مکمل طور پر تباہ و تاراج ہوگیا بلکہ کئی حصوں میں بٹنے کے بعد اپنی شناخت سے بھی محروم ہوگیا۔ اب امریکہ جو کہ دنیا کا سوپر پاؤر بنا بیٹھا ہے وہ بھی تباہی کے دہانے پر ہے اور امریکہ کی ’’سوپرپاؤر‘‘ کی حیثیت ختم ہونے جا رہی ہے۔1590 سے 1991کے درمیان جو عالمی طاقتیں برباد ہوئی ہیں ان کی تاریخ اور وجوہات کا مشاہدہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہوگی کہ موجودہ ’سوپر پاؤر‘ امریکہ بھی اسی راہ پر گامزن ہے اور جنگ کے نام پر اپنی معیشت کے ساتھ دنیا کی معیشت کو تباہ کرنے میں مصروف ہے۔
امریکہ نے سوپر پاؤر بننے کے لئے دنیا بھر کے 80ممالک میں 750 سے زیادہ ملٹری کے ٹھکانے تیار کئے ہیںاور 150ممالک میں اپنے فوجی رکھے ہوئے ہیں۔امریکہ اپنی سرحدوں کی حفاظت سے زیادہ دنیا میں دوسری کوئی عالمی طاقت نہ ابھرے اس پر زیادہ توجہ مرکوز کی ہوئی ہے۔امریکہ کی موجودہ صورتحال کا باریکی سے جائزہ لیا جائے تو امریکہ اتنی بڑی افواج اور 850 بلین ڈالر کے دفاعی بجٹ کے ساتھ بھی دنیا میں پیدا شدہ حالات کا مقابلہ کرنے کا متحمل نہیں ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ اگر چین تائیوان ‘ شمالی کوریاجنوبی کوریا پر حملہ کردے تو امریکہ ان کی مدد کرنے سے قاصر ہے کیونکہ امریکہ اپنی پوری طاقت کے ساتھ ’’آبنائے ہرموز ‘‘ کی کشادگی کو یقینی نہیں بنا پا رہاہے۔امریکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے اور 2020 سے امریکہ نے 6ٹریلین ڈالر سے زیادہ کرنسی پرنٹ کی ہے اور امریکہ خود کے مستحکم معیشت ہونے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن 36ٹریلین ڈالر کا مقروض ہے واپنے قرض پر 1ٹریلین ڈالر کا سود ادا کررہا ہے جو کہ امریکہ کے دفاعی بجٹ سے زیادہ ہے۔امریکہ جو کہ اب پوری طرح سے پیداوار کے بجائے دنیا کے مختلف ممالک سے درآمدات پر انحصار کیا ہوا ہے جو کہ ملکی پیداوار کو ختم کرنے کا موجب بن چکا ہے۔
ایران جو کہ 1979 سے عالمی تحدیدات کا سامنا کر رہا ہے‘ اس نے جاری جنگ کے دوران یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ اس مدت کے دوران مظلوم یا بے بس کی طرح وقت گذارتا نہیں رہا بلکہ اس نے انگریزی کے محاورےNecessity Is The Mother of Invention ’’ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے‘‘ پر عمل کرتے ہوئے عالمی تحدیدات کی پرواہ کئے بغیر اپنے قدرتی وسائل کا نہ صرف استعمال کیا بلکہ وہ تمام ٹکنالوجی حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کی جس نے ’’سوپرپاؤر‘‘ ہونے کے زعم میں ان پر تحدیدات عائد کئے ۔ اپنے محدود وسائل سے حاصل کی جانے والی ٹکنالوجی کے ذریعہ اب دنیا بھر کو حیران و ششدر کرنے والے ایران نے یہ ثابت کردیا کہ وہ محروم زندگی گذارنے یا مصلیٰ پر دعاگو رہنے کے لئے نہیں ہیں بلکہ اپنے گھوڑوں کے زینوں کو ہمہ وقت تیار رکھنے والے ہیں۔28 فروری کو شروع کی گئی اس جنگ نے دنیا میں ’سوپرپاؤر‘ کی اصطلاح کو بدلنے کے سلسلہ کی شروعات نہیں کی ہے بلکہ ’سوپرپاؤر‘ کے خطہ کو تبدیل کرنے کی مہم کا آغاز کردیا ہے کیونکہ ایران نے دنیا میں دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم کئے گئے فوجی اتحاد یا ایسے عالمی اداروں و قوتوں میں اپنی حکمت عملی کے ذریعہ دراڑ پیدا کردی ہے جو کہ دنیا بھر میں مسلمانوں کی عظمت رفتہ کا مذاق بناتے ہوئے خودسری اختیار کرتے جا رہے تھے ۔ فلسطین ‘سوڈان‘ لیبیاء‘ عراق‘ افغانستان‘ شام‘ پاکستان ‘ یمن ‘ صومالیہ ‘ کے علاوہ دیگر ممالک پر حملوں کے ذریعہ مسلمانوں کا جو خون بہایا ہے وہ اب ایران کی جنگی حکمت عملی پریشان اسے ’سوپرپاؤر‘ تسلیم کرنے کے لئے تیار نظر آرہے ہیں۔1957میں70 سال قبل ’نہرسوئز‘ پر برطانوی‘فرانسیسی و اسرائیلی قبضہ و تسلط کے امریکہ وسویت یونین کی مداخلت نے جو حالات پیدا کئے ہیںاسی طرح کے حالات آج ’آبنائے ہرموز‘ پر ایرانی پابندیوں کے نتیجہ میں دنیا بھر میں پیدا ہوچکے ہیں لیکن ایران اس آبی راہداری کے تحفظ کے لئے جو حکمت عملی اختیار کئے ہوئے ہے اس کے نتیجہ میں دنیا بھر کی معیشت متاثر ہونے لگی ہے۔
دنیا میں اگر مسلمان ذلت و رسوائی کا شکار زندگی گذار رہا ہے تو اسی بنیادی وجہ ’مسلمان کا ’تارک الدنیا ‘ ہونا ہے۔ مسلمانوں میں یہ اس احساس کا پید ہونا کہ انہیں دنیا سے کیا کام ہمیں تو آخرت کی فکر کرنی چاہئے ‘ یہ رویہ مستحکم ایمان کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ خداکی رحمت پر کامل بھروسہ نہ ہونے کی دلیل ہے۔ اللہ کے رسولءﷺ نے پستی و مایوسی کا شکار قوموں کے لئے قران کریم کے ذریعہ یہ مژدہ سنایا کہ ’’قم باذن اللہ ‘‘ اللہ کے حکم سے اٹھ کھڑے ہو۔ آپؐنے فرمایا کہ کسی عربی کو عجمی اور کسی عجمی کو عربی پر ‘ کسی گورے کو کالے یا کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت نہیں سوائے اس کے جواللہ سے ڈرتا ہواور متقی ہو۔اللہ اور اس کے رسولﷺ کے اس پیام کو ہم نے سماجی زندگی میں انقلابی اہمیت کو فراموش کردیا ہے جس کے نتیجہ میں قومیں امتیازات کا شکار بننے لگی ہیں اور طاقتورکمزور پر ظلم کررہا ہے ‘ لوگوں کا معاشی ‘ تعلیمی ‘ مذہبی استحصال ہونے لگا ہے ۔ مسلمانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ رحمت عالم کی سیرت طیبہ کے ان پہلوؤں کا باریکی سے مطالعہ کرتے ہوئے ان پر عمل کریں جو کہ قوموں میں پیدا ہونے والے بگاڑ کی بنیادی وجہ بن رہا ہے۔ اگر ذلت و پستی سے سمجھوتہ کرتے ہوئے زندگی گذارنے کا تہیہ کرچکے ہیں تو ایسی صورت میں ہم نبی اکرمﷺ سے عقیدت کا اظہار نہیں کر رہے ہیں بلکہ آپ ؐ کے پاکیزہ مشن کی مخالفت کر رہے ہیں۔ خدائے کائنات پر غیر متزلز ل یقین بے خوفی کو جنم دیتا ہے اور اس دنیا میں سرفراز رہنے کا واحد ذریعہ ہے۔ دولت کی چاہ اور اقتدار کی حرص کے علاوہ موت کے خوف نے مسلمانوں میں یہ مریضانہ تصور پیدا کردیا ہے کہ بڑا مذہبی نظر آنا ہی کافی ہے اورمحض سجدوں کے ذریعہ ہی جنت میں محلوں کی تعمیر ہوجائے گی جبکہ تاریخ اسلام نے اس بات کی شاہد ہے کہ اسی دنیا کو سنوارنے کے لئے جدوجہد کی گئی ہے اور آخرت کو یہاں کی زندگی کا حاصل قرار دیا گیا ہے کہ اس دنیا میں جیسے اعمال ہوں گے ویسے نتائج آخرت میں ملیں گے۔