ابوزہیر حافظ سید زبیر ہاشمی نظامی
گزشتہ سے پیوستہ … طبرانی اور بیہقی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے سنا کہ جو کوئی مرد و عورت عرفہ کی رات منیٰ میں یہ دعاء ہزار بار پڑھے گا وہ جو کچھ مانگے گا ضرور پائے گا ۔ وہ دعاء یہ ہے :
’’ سُبْحَانَ الَّذِیْ فِیْ السَّمَآئِ عَرْشُہٗ سُبْحَانَ الَّذِیْ فِیْ الْاَرْضِ مَوْطِئُہٗ سُبْحَانَ الَّذِیْ فِیْ الْبَحْرِ سَبِیْلُہٗ سُبْحَانَ الَّذِیْ فِیْ النَّارِ سُلْطَانُہٗ سُبْحَانَ الَّذِیْ فِیْ الْجَنَّۃِ رَحْمَتُہٗ سُبْحَانَ الَّذِیْ فِیْ الْقَبْرِ قَضَاؤُہٗ سُبْحَانَ الَّذِیْ فِیْ الْھَوَآئِ رَوْحُہٗ سُبْحَانَ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمَآئَ سُبْحَانَ الَّذِیْ وَضَعَ الْاَرْضَ لَا مَلْجَأَ وَ لَا مَنْجَأَ مِنْہُ اِلَّا اِلَیْہِ‘‘۔
پاکی ہے اُس ذات کو جس کا عرش آسمان پر ہے ۔ پاکی ہے اُس ذات کو جس کا پا انداز زمین پر ہے ۔ پاکی ہے اُس ذات کو جس کی راہ دریا میں ہے ۔ پاکی ہے اُس ذات کو جس کی حکومت آگ میں ہے ۔ پاکی ہے اُس ذات کو جس کی رحمت جنت میں ہے ۔ پاکی ہے اُس ذات کو جس کا حکم قبر میں جاری ہے ۔ پاکی ہے اُس ذات کو جس کی رحمت ہوا میں ہے ۔ پاکی ہے اُس ذات کو جس نے آسمان کو بلند کیا ۔ پاکی ہے اُس ذات کو جس نے زمین کو پست کیا اس سے پناہ اور نجات بجز اس کے نہیں ہے ۔
٭ اور صبح کی نماز غلس اندھیرے کے وقت پڑھ کر منتظر رہے جب سورج نکلے تب مسجد خیف کے پہاڑ کی راہ سے جس کوضب کہتے ہیں‘ عرفات کو جائے یا زمین کی راہ سے جو مزدلفہ اور عرفہ کے درمیان میں ہے ‘ واپس ہو اور عرفات کو نکلتے وقت یہ دعا ء پڑھے: ’’اَللّٰھُمَّ اجْعَلْھَا خَیْرَ غُدْوۃٍ غَدَوْتُھَا قَطُّ وَ اَقْرِبْھَا مِنْ رِضْوَانِکَ وَ اَبْعِدْھَا مِنْ سَخَطِکَ اَللّٰھُمَّ اِلَیْکَ غَدَوْتُ وَ اِیَّاکَ رَجَوْتُ وَ عَلَیْکَ اعْتَمَدْتُّ وَ وَجْھَکَ اَرَدْتُّ فَاجْعَلْنِیْ مِمَّنْ تَبَاھیٰ بِہٖ الْیَوْمَ مَنْ ھُوَ خَیْرٌ مِنِّیْ وَ اَفْضَلُ‘‘ ۔
اے اللہ ! اس صبح کو میری تمام صبحوں سے بہتر بنا اس کو اپنی رضامندی سے زیادہ قریب اور اپنے غصہ سے بہت دور کر ۔ اے اللہ ! میں نے تیری ہی طرف صبح کی اور تیری ہی آرزو کی اور تجھی پر اعتماد کیا اور تیری ہی ذات کا خواستگار ہوا ۔ پس مجھ کو ان لوگوں میں سے بنا جن پر آج کے دن مجھ سے بہتر اور افضل شخص نے فخر کیا ہے ۔
٭ جب جبل رحمت پر نگاہ پڑے دعاء مانگے اور تسبیح و تہلیل و تحمید و استغفار و تکبیر پڑھے ۔ پھر عرفات میں مسجد النمرہ کے پاس جس کو مسجد ابراہیم کہتے ہیں ‘ قیام کرے اور زوال کے قبل کھانے پینے سے فارغ ہو کر وقوف عرفات کے لئے غسل کرے جو کہ سنت موکدہ ہے تاکہ زوال کے وقت یا اس سے پیشتر مسجد النمرہ میں جا بیٹھے ۔ زوال کے بعد خطبہ سنکر امام کے پیچھے ظہر و عصر کی نماز ایک اذان اور دو تکبیر کے ساتھ پڑھے ۔ ان دونوں نمازوں کے درمیان میں نوافل اور سنتیں نہ پڑھے اور نہ کچھ کھائے پئے ۔ جب نماز سے فارغ ہو فوراً عرفات پر سوائے وادی عرُنہ کے جہاں چاہے اور جہاں جگہ پائے اونٹ پر سوار ہو کر قبلہ رو امام کے پیچھے یا دائیں بائیں ٹھہرے۔ مگر جبل رحمت کے پاس بڑے بڑے سیاہ پتھروں کے فرش پر ٹھہرنا بہتر ہے کیونکہ وہ سرور عالم ﷺکا موقف ہے۔ وہاں اب بطور مسجد کے احاطہ بنا ہوا ہے ۔ پہاڑ پر چڑھ کر وقوف کرنا اور اس کو سب مواقف سے بہتر جاننا کچھ اصلیت نہیں رکھتا ۔ پیادہ کھڑا رہنا ‘ بیٹھنا ‘ لیٹنا بھی جائز ہے ۔ اس حالت میں مسکین محتاج کی طرح ہاتھ پھیلاکر دعاء مانگے اور ’’سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ ‘‘ کمال عاجزی سے شام تک پڑھتا رہے اور درمیان میں ہر ہر ساعت کے بعد لبیک پکارتا رہے اور اپنے گناہوں کو یاد کرکے پھوٹ پھوٹ کر روئے اور توبہ و استغفار دل و زبان سے کہے ۔ رونا نہ آئے تو منہ بسورے بلکہ اپنی سنگدلی پر روئے اور اپنے والدین ‘ اساتذہ ‘ رشتہ داروں ‘ دوستوں اور تمام مسلمانوں کیلئے مغفرت چاہے ۔ اس روز گناہ و قصور سے نہایت پرہیز کرے بلکہ مباح سے بھی بچے۔ صرف دعا ء استغفار ‘ توبہ ‘ تسبیح ‘ تلاوت وغیرہ میں مشغول رہے کیونکہ ایسا دن پھر کہاں ملے گا ۔