حصولِ رحمت کا ذریعہ اتباع سنت

   

حبیب ہادی رفیع
حصول رحمت کا اصل ذریعہ اتباع سنت نبوی ہے یعنی جو شخص زندگی کے معاملات ، عبادات،معیشت، معاشرت اور ثقافت وغیرہ میں حضور پاک ﷺ کی سنت کاخیال کرتا ہے اور ہر کام کو اسی طرح انجام دینے کی کوشش کرتا ہے،جس طرح نبی پاک ﷺ کیا کرتے تھے تو اللہ تبارک وتعالی اس کیلئے رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے ۔آج کے مسلمان آرائشی زندگی میں ایسے غوطہ زن ہو چکے ہیں کہ اُنھیں دین کی فکر ہے اور نہ ہی انسانیت کی ۔ واقفیت اور مغربی تہذیب وتمدن اِن کے دلوں کو بھانے لگا ہے ،حقیقت تویہ ہے کہ انسانی زندگی کے ہر شعبے پر مغرب پرستی کی بیماری چھائی ہوئی ہے اور اُسی کو وہ کامیابی و کامرانی اور مقصود حیات سمجھتے ہیں۔ہمارے مسلم نوجوان ایسے ایسے عمل انجام دیتے ہیں جن کا دین وشریعت سے تعلق نہیں ہوتا ہے بلکہ خدا اور رسول کی ناراضگی کو بڑھاتے ہیں جو انکی شکستگی کا سبب بنتا ہے ۔ہمیں چاہئے کہ ہم اُمت مسلمہ کو قرآن کریم سے جوڑ یں ،وہ اسے یاد کرے اسکی تلاوت کرے اور اسے سمجھے ۔ضروری ہے کہ اسلامی معاشرہ ازسر نو قران کریم سے گہرا اور پر جوش تعلق قائم کرے۔ پھر معاشرے کو حضرت محمد ﷺ کی سیرت طیبہ سے واقفیت بہم پہنچائی جائے اور لوگوں کو اس سے جوڑا جائے ۔ محض اسی کے ذریعہ اسلامی معاشرے اور اسلامی تشخص کی حفاظت کا عظیم ہدف پورا کیا جا سکتا ہے ۔اس لئے کہ انسان کو جب نبی ﷺ کے احوال کا علم ہوگا تو وہ اپنی جان سے زیادہ آپ ؐسے عشق ومحبت کرے گا ۔ کیونکہ آج بھی اگر اُمت مسلمہ صحابہ کرام کی سنت پر چلتے ہوئے ذ۱ت ِمصطفیٰؐ کے ساتھ عشق ومحبت اور ادب تعظیم کا تعلق مضبوط و مستحکم تر کرلے تو پھر یہ دوبارہ ایک ناقابل تسخیر قوت بن سکتی ہے جسے دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی ہے۔