حکمراں اور اپوزیشن سے سوال کرنے والی واحد جماعت تلنگانہ رکشنا سینا

   

نظام آباد ۔ 2ستمبر ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) تلنگانہ رکشا سینا کے ریاستی قائد نوین آچاری نے کہا کہ ریاست میں حکمراں جماعت کانگریس اور اپوزیشن بی آر ایس سے سوال کرتے ہوئے عوام کے مسائل کے لئے جدوجہد کرنے والی واحد جماعت تلنگانہ رکشا سینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کی سربراہ کلونت کنیتا کویتا کی جانب سے اپوزیشن کا کردار مناسب طور پر ادا نہ کئے جانے پر کی جانے والی تنقید سے بی آر ایس قائدین بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اور اسی وجہ سے کویتا کے سوالات کا جواب دینے کے بجائے ان کے خلاف ذاتی نوعیت کی تنقید کی جارہی ہے۔ تلنگانہ رکشا سینا کے دفتر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے نوین آچاری نے کہا کہ 31 اگست کو نظام آباد میں تلنگانہ رکشا سینا کی جانب سے منعقدہ پانچ جنّیہ سنکلپ سبھا میں کویتا کی جانب سے اُٹھائے گئے سوالات کا جواب دینے میں ناکامی کے باعث بی آر ایس کی جانب سے ان پر کانگریس کے لئے کام کرنے کا بے بنیاد الزام عائد کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں کانگریس حکومت کی ناکامیوں کے خلاف کویتا ہی جدوجہد کررہی ہیں، جبکہ بی آر ایس قائدین کو ان کے الزامات پر خود احتسابی کرنی چاہئے تھی، مگر وہ جوابی حملے کررہے ہیں جس سے خود بی آر ایس کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ نوین آچاری نے سوال کیا کہ نظام آباد لوک سبھا انتخابات میں کویتا کی شکست کے اسباب کا بی آر ایس نے جائزہ کیوں نہیں لیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت انچارج وزیر رہنے والے پرشانت ریڈی اور بی آر ایس کے اعلیٰ قائدین نے شکست کے اسباب کا جائزہ کیوں نہیں لیا، کیونکہ اسی وقت سے بی آر ایس کے زوال کا آغاز ہوا اور اس کے بعد پارٹی کو مسلسل شکستوں کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ پرشانت ریڈی کے انچارج وزیر رہنے کے دوران کاما ریڈی میں کے سی آر کو بھی شکست ہوئی اور اگر اسی وقت دیانتداری اور شفاف انداز میں جائزہ لیا جاتا تو بی آر ایس کی یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی۔انہوں نے بی آر ایس کے سوشل میڈیا کارکنوں سے اپیل کی کہ ذاتی تنقید سے گریز کرتے ہوئے سیاسی طور پر مقابلہ کریں اور موجودہ دور میں اس طرح کی سطحی سیاست کو ترک کریں۔انہوں نے بتایا کہ پارٹی کے قیام کے چار ماہ بعد نظام آباد پہنچنے والی کویتا اپنے عوام سے ملاقات کے دوران جذباتی ہوگئیں اور ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے، جس پر خواتین سمیت عوام بھی جذباتی ہوگئے۔ نوین آچاری نے کہا کہ نظام آباد کی رکن پارلیمنٹ رہتے ہوئے کویتا نے ہلدی بورڈ کے قیام، ضلع کے مسائل اور تلنگانہ کے حقوق کے لئے مسلسل جدوجہد کی، اسی وجہ سے عوام میں ان کے لئے گہری محبت پائی جاتی ہے۔ انہوں نے پانچ جنّیہ سنکلپ سبھا کو کامیاب بنانے والے تمام افراد سے اظہار تشکر کیا۔