حکومت احتجاج سے خوفزدہ!!

   

رات بھر رات کو ایک رات جگایا جائے
اُسکو معلوم ہو کہ ہم پر گزرتی کیا ہے
ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں اب عوام اور خاص طور پر طلباء اور نوجوانوں کو بھی احتجاج سے روکا جا رہا ہے اور انہیں پرامن احتجاج کے بنیادی حق سے محروم کیا جا رہا ہے ۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفی کا مطالبہ کرتے ہوئے طلباء یونینوں ‘ عام شہریوں اور جہد کاروں کی جانب سے دہلی کے جنتر منتر پر 2 اکٹوبر کو گاندھی جینتی کے موقع پر احتجاج کا اعلان کیا گیا تھا ۔ ایسا لگتا ہے کہ جنتر منتر پر احتجاج کے نام سے ہی وزیر داخلہ امیت شاہ کی نگرانی میں کام کرنے والی دہلی پولیس خوفزدہ ہوگئی تھی ۔ بلکہ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ پولیس سے زیادہ خود مرکزی حکومت خوفزدہ ہوگئی ہے اور شائد اسی وجہ سے عوام کو اور خاص طور پر طلباء اور نوجوانوں کو احتجاج کے حق سے بھی محروم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا تھا ۔ اسی وجہ سے دو دن قبل سے ہی جنتر منتر کو پولیس کے قلعہ میں تبدیل کردیا گیا تھا ۔ جنتر منتر پہونچنے والے تمام راستوں کی ناکہ بندی کردی گئی تھی ۔ بے تحاشہ رکاوٹیں کھڑی کردی گئی تھیں۔ تہہ در تہہ بیریکیڈز لگادئے گئے تھے اور اس بات کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی تھی کہ کوئی بھی احتجاجی جنتر منتر تک پہونچنے نہ پائے ۔ پولیس کی تمام تر رکاوٹوں کے باوجود سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں افراد جنتر منتر پہونچنے لگے تھے اور انہوں نے گیانیش کمار کے استعفی کا مطالبہ کیا ۔ پولیس کی جانب سے احتجاجیوں کو حراست میں لینے کا پہلے سے بندوبست کرلیا گیا تھااور درجنوں بسیں تیار رکھی گئی تھیں تاکہ احتجاجیوں کو دوسرے مقامات کو منتقل کیا جاسکے ۔ پولیس کی تمام ترا حتیاط اپنی جگہ تاہم جس طرح سے احتجاجیوں کو حراست میں لیا گیا اور جس طرح سے لڑکیوں اور طالبات کو گھسیٹا گیا وہ شرمناک کہا جاسکتا ہے ۔ اس بات کا کوئی پاس و لحاظ نہیں رکھا گیا کہ احتجاج کرنے والی لڑکیاں ہیں اور ان کی عزت کی جانی چاہئے ۔ حالانکہ خاتون پولیس اہلکاروں نے ہی انہیں گرفتار کیا تھا تاہم کچھ مقامات پر مرد پولیس اہلکار بھی اس کام میں پیچھے نہیں رہے ۔ طلباء کے ساتھ وہی وحشیانہ سلوک دہرانے کی کوشش کی گئی جو 20 جولائی کو کیا گیا تھا ۔
مرکزی حکومت ایسا لگتا ہے کہ طلباء کے احتجاج سے انتہائی خوفزدہ ہوگئی ہے ۔ مرکزی حکومت کو مرکزی وزیر تعلیم کی حیثیت سے دھرمیندر پردھان کے استعفی کا تجربہ ہے ۔ اس وقت جو احتجاج ہوا تھا اس نے حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا تھا ۔ تاہم سابق میں یہ مسئلہ صرف ایک دھرمیندر پردھان کا تھا تاہم اس بار گیانیش کمار نشانہ پر ہیں اور بات صرف گیانیش کمار تک محدود نہیں رہے گی بلکہ گیانیش کمار کے جو سیاسی آقا ہیں اور گیانیش کمار جن کے اشاروں پر کام کرتے ہیں ان کے چہرے بے نقاب ہونے ہیں ۔ اس سے خود حکومت کے مبینہ کالے کرتوتوں کا پردہ فاش ہوسکتا ہے اور شائد یہی وجہ ہے کہ حکومت احتجاج کے نام سے اور خاص طور پر جنتر منتر پر احتجاج کے نام سے خوفزدہ ہوگئی تھی اور پولیس کی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے احتجاج کو ناکام بنانے کی کوشش کی گئی ۔ پولیس نے جس وحشیانہ انداز میں خاتون جہد کاروں کو گرفتار کیا اور طلباء قائدین کو حراست میں لیا وہ افسوسناک بلکہ شرمناک کہا جاسکتا ہے اور جتنی زیادہ طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے اتنا ہی یہ واضح ہونے لگا ہے کہ اس مسئلہ پر احتجاج سے حکومت خوفزدہ ہوگئی ہے اور وہ نہیں چاہتی کہ گیانیش کمار پر کوئی آنچ بھی آنے پائے ۔ وہ بہرقیمت گیانیش کمار کو بچانا چاہتی ہے اور اس کیلئے وہ طلباء و طالبات اور ملک کے نوجوانوں کی مخالفت بھی مول لینے کو تیار ہے اور گرفتاریوں کے نام پر شرمناک حرکتیں کی جا رہی ہیں۔
آج دہلی میں جس طرح کی صورتحال دیکھی گئی اور طلباء و نوجوانوں اور جہدکاروں میں جو غم و غصہ دیکھا گیا وہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ ناراضگی اب کسی طاقت کے استعمال سے دور ہونے والی نہیں ہے اور نہ ہی گرفتاریوں کے ڈر سے کوئی احتجاج سے پیچھے ہٹے گا ۔ اب نوجوان اپنے حقوق کیلئے اور اپنے مطالبات کیلئے سڑکوں پر اترنے کا فیصلہ کرچکے ہیں ۔ اب انہیں طاقت کا استعمال کرتے ہوئے دھمکایا نہیں جاسکتا ۔ اس حقیقت کو حکومت اور دہلی پولیس جتنی جلد سمجھ جائے گی اتنا ہی زیادہ بہتر ہوگا ۔
معیشت کو مستحکم کرنے پر توجہ دی جائے
ہندوستان ایک تیزی سے ترقی کرنے والا ملک ہے اور ہماری معیشت عالمی اثرات کے نتیجہ میں اب متاثر ہونے لگی ہے ۔ حالانکہ حکومت سب کچھ ٹھیک ہے کا دعوی کر رہی ہے لیکن گذشتہ ایک مہینے میں اسٹاک مارکٹ کی جو صورتحال ہے وہ تشویش کا باعث ہے ۔ بیرونی کمپنیاں مسلسل اسٹاک مارکٹ سے اپنی رقومات نکال رہی ہیں اور معیشت پر منفی اثرات ہو رہے ہیں۔ سرمایہ کاروں کو یومیہ لاکھوں کروڑ روپئے کے نقصان کو برداشت کرنا پڑا ہے اور اس کے دور رس اثرات ہماری معیشت پرمرتب ہونے کے اندیشوں کو مسترد نہیں کیا جاسکتا ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ محض دکھاوے اور اعداد و شمار کے الٹ پھیر سے کام لینے کی بجائے حقیقی معنوں میں معیشت کو مستحکم کرنے پر توجہ دی جائے ۔ ایسے اقدامات کئے جائیں جن کے نتیجہ میں سرمایہ کاروں کا حوصلہ بلند ہو ۔ انہیں نقصانات سے بچایا جاسکے اور ملک کے عوام مسائل کا شکار ہونے نہ پائیں۔ معیشت کو سدھارنے میں جتنی تاخیر کی جائے گی نقصانات اتنے ہی زیادہ بھاری ہو سکتے ہیں ۔