ختم ڈسمبر تک توسیع، قرض کے حصول میں ناکامی، کوئی بھی ادارہ آگے آنے تیار نہیں
حیدرآباد۔7۔اکٹوبر۔(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ اور ایل اینڈ ٹی کے درمیان ہوئے حیدرآباد میٹرو ریل کے مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے معاہدہ پر اب تک عمل آوری نہیں ہوپائی اور تیسری مرتبہ اس عمل کی تکمیل کے لئے تاریخ میں توسیع کرتے ہوئے اسے 31ڈسمبر2026 تک بڑھانے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ ریاستی حکومت نے حیدرآباد میٹرو ریل پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا ماہ مئی کے دوران فیصلہ کرتے ہوئے ایل اینڈ ٹی کو 1462 کروڑ کی ادائیگی اور 13ہزار 500 کروڑ کے قرض کی ذمہ داری کسی مالیاتی ادارہ کو تفویض کرنے کی منصوبہ بندی کے ساتھ معاہدہ کو انجام دیا تھا لیکن قرض کے عدم حصول کی بنیاد پر اب تک اس عمل کی تکمیل میں دو مرتبہ توسیع کے بعد حکومت نے مزید 3ماہ کی توسیع کا فیصلہ کیا ہے۔ ایل اینڈ ٹی کمپنی جو کہ حیدرآباد میٹرو ریل کی تعمیر اور اسے چلارہی تھی نے حکومت کی جانب سے وصول طلب بقایا جات کی عدم اجرائی اور کمپنی کو ہونے والے نقصانات کے پیش نظر حیدرآباد میٹرو ریل کو فروخت کرنے کا فیصلہ کیا تھا جسے مذاکرات کے بعد حکومت تلنگانہ نے حاصل کرنے کا معاہدہ کیا اور مکمل سرمایہ کی ادائیگی کے لئے قرض کے حصول پر انحصار کیا جا رہا تھا جو کہ انڈین ریلوے فینانس کارپوریشن کی جانب سے جاری کیا جاناتھا لیکن آئی آر ایف سی نے مذکورہ قرض کی اجرائی سے انکار کردیا تھا بعد ازاں ریاستی حکومت نے اسٹیٹ بینک آف انڈیا کو 13ہزار 500 کروڑ کا قرض فراہم کرنے والے ادارہ کی تلاش کی ذمہ داری تفویض کی تھی لیکن تاحال اسٹیٹ بینک آف انڈیا اس عمل کو انجام نہیں دے پایا۔ ذرائع کے مطابق ریاستی حکومت 7 فیصد شرح سود سے کم پر یہ قرض حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن حکومت کو اس شرح سود پر کوئی بھی مالیاتی ادارہ اتنا قرض فراہم کرنے کے لئے آمادہ نہیں ہے۔اسی لئے حکومت تلنگانہ اور ایل اینڈ ٹی کے درمیان ہوئے معاہدہ پر عمل آوری نہیں ہوپا رہی ہے۔حکومت نے ابتداء میں 13ہزار560 کروڑ کے قرض کے لئے انڈین ریلوے فینانس کارپوریشن کے ذریعہ حاصل کرنے کی کوشش کی تھی جس پر آئی آر ایف سی نے حکومت کے منصوبہ کا جائزہ لینے کے بعد اس پراجکٹ میں سرمایہ کاری یا قرض کی فراہمی سے انکار کردیا تھا اور اب حکومت تلنگانہ قرض فراہم کرنے والے ادارہ کی تلاش میں ہے اور متعدد مالیاتی اداروں کو اس منصوبہ کو روانہ کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے کئے گئے معاہدہ کے متعلق واقف کروایا جاچکا ہے لیکن کسی بھی ادارہ کی جانب سے مثبت ردعمل ظاہر نہ کئے جانے کے بعد اب ایک مرتبہ پھر حکومت تلنگانہ نے معاہدہ میں ایک اور توسیع کا فیصلہ کیا ہے اور کہا جارہاہے کہ ماہ ڈسمبر کے اختتام سے قبل اس معاہدہ پر لازمی طور پر عمل آوری کو یقینی بنایا جائے گا۔3