دہشت گردی ایک بڑا خطرہ۔ اس سے مقابلے کے لئے بین الاقوامی سمٹ ضروری ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی۔

اپنی دوسری معیاد میں پہلی بیرونی دورے کے موقع پر مالدیپ کی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہاکہ ”پانی اب سر سے اونچا ہوگیاہے‘‘ اس کے لئے انہوں نے دنیا کے لیڈران پر زوردیا کہ اس بحران کا مقابلہ کرنے کے متحد ہوجائیں۔

مالدیپ۔دہشت سے مقابلے میں خامیوں کو دور کرنے کے لئے ہفتہ کے روز وزیراعظم نریندر مودی نے موسمی تبدیلی کے خطوط پر دہشت گردی کا جواب دینے کے لئے ”عالمی کانفرنس“ کی ایک تجویز پیش کی۔

اپنی دوسری معیاد میں پہلی بیرونی دورے کے موقع پر مالدیپ کی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہاکہ ”پانی اب سر سے اونچا ہوگیاہے‘‘

اس کے لئے انہوں نے دنیا کے لیڈران پر زوردیا کہ اس بحران کا مقابلہ کرنے کے متحد ہوجائیں۔دہشت گردی اور عسکریب پسندی کو دنیاکے لئے ایک بڑا چیالنج قراردیتے ہوئے

وزیراعظم نریندر مودی نے کہاکہ ”جس طرح عالمی کمیونٹی موسمی تبدیلی پر سمٹ منعقد کرتی ہے‘ تو پھر دہشت گردی پر کیوں اس طرح کا سمٹ نہیں کیاجاسکتا؟۔

میں توقع کرتاہوں کہ مقررہ وقت میں دنیا بھر کی تنظیمیں اور اہم ممالک دہشت گردی کے مسئلہ پر ایک عالمی کانفرنس منعقد کریں‘تاکہ ہم دہشت گردی کے خاتمے میں موجود خامیوں پر تبادلہ خیال کرسکیں۔

اگر اس میں تاخیرہوگی تو مستقبل کی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گیں“۔

کسی کا (بالخصوص پاکستان) کا نام لئے بغیر مودی نے کہاکہ اب بھی کچھ ایسا لوگ ہیں جو اچھے دہشت گرد او رخراب دہشت گردکے درمیان کی تمیز میں لگے ہوئے ہیں اور ”اسٹیٹ اسپانسر دہشت گردی“ کے بڑھتے خطرات کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔۔

مالدیپ اور ہندوستان کے درمیان مشترکہ بیان میں دہشت گردی پر زوردیاگیاجس کی سابق میں کوئی نظیر نہیں ملتی ہے‘ کیونکہ دونوں ممالک دہشت گردی کا جواب دینے کے لئے ایک مشترکہ گروپ کی تشکیل دی ہے‘ جس کا مقصد برہم شدت پسندی اور عسکریب پسند کا بھی جواب دہی بھی ہے۔

جہاں پر سرحد پار کی دہشت گردی کے بجائے ”اسٹیٹ اسپانسر دہشت گردی“ کا حوالہ دیا گیا وہیں اپنے مشترکہ بیان میں خارجی سکریٹری وجئے گوکھلے نے یہ کہاکہ مالدیپ کے صدر ابراہیم محمد صالح نے مودی سے کہا ہے کہ مالدیپ کی حکومت تمام قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتی ہے جس میں منشور بندی اور سرحد پار سے دہشت گردی بھی شامل ہے۔

ایک او رتجویز میں مودی نے اپنے اعلان میں ہندوستان کی جانب سے ہوکوری میساکی(جمعہ مسجد) کی تزین نو کی آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی نگرانی میں اور ہندوستانی گرانڈ سے کرانے کی پیشکش کی۔

گوکھلے نے کہاکہ مذکورہ جمعہ مسجد1658میں تعمیر کی گئی تھی اس کی تزین نو کی پیشکش کا مقصد ”ماحولیاتی پائیداری“ ہے جو موسمی تبدیلی کے پس منظر میں کی گئی ہے۔

اپنے دورے کے موقع پر کم سے کم دو مرتبہ نریند رمودی نے مالدیپ کی عوام کو عید کی مبارکباد بھی پیش کی۔

TOPPOPULARRECENT