Thursday , December 12 2019

دہلی بی جے پی کے صدر منوج تیواری نے مساجد پر سروے کا کیااعلان

منوج تیواری نے کہاکہ کچھ لوگ مسلسل مذہبی مقامات کے لئے اراضیات پرغیرمجازقبضہ کرہرے ہیں‘ اسی مذہبی مقامات کے تحت اور ان کے علاقے میں یہ ایسا ہی کام ہورہا ہے

دہلی۔بی جے پی کے ریاستی صدر(دہلی یونٹ) منوج تیواری نے ایک”بڑا بیان‘’دیتے ہوئے اس بات کا دعوی کیاہے کہ وہ ان کے حلقے میں مساجد پر سروے کرائیں گے۔

انہو ں نے دیگر عوامی مقامات کے متعلق بھی سروے کی بات کہی ہے۔ اس سے قبل ویسٹ دہلی سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ پروین صاحب سنگھ ورما نے بھی مساجد پر سروے کی مانگ کی تھی۔

بعدازاں انہوں نے دہلی پولیس کمشنر امولیہ پٹنائیک کو ایک مکتوب تحریرک کرتے ہوئے مساجد پر سروے کے متعلق بات کرنے پر انہیں جان سے مارنے کی دھمکی ملنے کی شکایت بھی کی تھی۔

منوج تیواری نے کہاکہ کچھ لوگ مسلسل مذہبی مقامات کے لئے اراضیات پرغیرمجازقبضہ کرہرے ہیں‘ اسی مذہبی مقامات کے تحت اور ان کے علاقے میں یہ ایسا ہی کام ہورہا ہے۔

چنانچہ انہوں نے یہ بھی چاہا ہے کہ اگر کوئی سرکاری زمین پر بنا ء اجازت کے کوئی مذہبی مقام کی تعمیر ہوتے دیکھیں گے تو ان کے خلاف سخت کاروائی کی جانے چاہئے۔

تیواری نے کہاکہ ”مجھے سل فون پر جان سے مارنے کی دھمکی ملی جس کے متعلق میں پولیس کو جانکاری دیدی ہے“۔

مذکورہ دہلی بی جے پی کے صدر نے اس کو عوامی پیغام بنادیا اور پولیس کو دھمکی کے متعلق تمام درکار تفصیلات فراہم کی۔

دہلی پولیس کمشنر امولیہ پٹنائک نے معاملے کو خصوصی ٹیم کے حوالے کیا۔

اتوار کے روز رپورٹس کے مطابق ایس ایم ایس بھیجنے والا شخص گرفتارکرلیاگیا۔قبل ازیں دہلی بی جے پی ہیڈکوارٹرس بم دھماکہ کی دھمکی دی۔

پولیس نے فوری طور پر کاروائی کرتے ہوئے فون کرنے والے کو گرفتار کرلیاجو کرناٹک کے میسور کا رہنے والا تھا۔

تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب ویسٹ دہلی کے بی جے پی کے ایم پرویش ورما نے لفٹنٹ گورنر دہلی انل بیجل کو مکتوب لکھتے ہوئے دونوں اپوزیشن پارٹیوں پر غیرقانونی طریقے سے درالحکومت کے مختلف حصوں میں سرکاری اراضی پر مساجد اور قبرستان کے قیام میں مدد کررہے ہیں۔

ورما نے عآپ او رکانگریس کو اسمبلی انتخابات میں سیاسی مفادات کے لئے مساجد کی منظوری اس طرح دی ہے ”جیسے مشورم کی پیدوار ہو“۔

اس کی وجہہ سے لفظی جنگ کی شروعات ہوگئی‘ دونوں اپوزیشن پارٹیوں نے بی جے پی کو راجدھانی میں مجوزہ اسمبلی الیکشن کے پیش نظر فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کا مورد الزام ٹہرایا۔

اس کے پیش نظر مذکورہ لیڈران کو ٹوئٹر پر دھمکیاں موصول ہونا شروع ہوگیاہے۔ ورما نے دہلی پولیس کمشنر امولیہ پٹنائک کو اس کے متعلق جانکاری بھی دی ہے۔

انڈیا ٹوڈے ٹی وی کی جانچ میں پتہ چلا ہے کہ ششہر میں جو مساجد ہیں وہ بڑی مساجد پچھلے بیس سالو ں سے تنازعات کا شکار ہیں‘

اور اس کے علاوہ ”بے شمار“ مساجد کا سرکاری اراضیات‘ سڑکیں اوردرج فہرست علاقہ پر تعمیرات کا معاملہ الیکشن سے قبل رونما ہوتا ہے

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT