دہلی میں 10 اکتوبر کو چیف الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاج کے لیے بائیں بازو کی طلبہ تنظیمیں متحد

,

   

ان کے اہم مطالبات میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا استعفیٰ، “سخت گیر” ایس ائی آر کا خاتمہ اور “الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی ائی) میں اصلاحات” شامل ہیں۔

نئی دہلی: عوام سے اپنے ساتھ شامل ہونے کی اپیل کرتے ہوئے، بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں نے منگل، 6 اکتوبر کو جنتر منتر پر 10 اکتوبر کو ہونے والے احتجاج میں اپنی شرکت کے حوالے سے ایک مشترکہ بیان جاری کیا۔

‘آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن’ (اے ائی ایس اے) کے ‘ایکس’ اکاؤنٹ پر شیئر کیے گئے اس احتجاج کے اہم مطالبات یہ ہیں: چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا استعفیٰ، “سخت گیر” ایس ائی آرکا خاتمہ اور “الیکشن کمیشن (ای سی ائی) میں اصلاحات”۔

سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کیے گئے اس بیان میں نشاندہی کی گئی کہ، “یہ احتجاج، جو بنیادی طور پر پرامن ہے، ریاستی مشینری کی جانب سے تقریباً ہر روز حملوں کا شکار ہو رہا ہے اور مظاہرین کے ساتھ بدسلوکی کی جا رہی ہے… یہاں تک کہ صحافیوں کو بھی نہیں بخشا جا رہا۔”

(اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا)، (آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن)،(پروگریسو اسٹوڈنٹس یونین) اور (آل انڈیا اسٹوڈنٹس بلاک) پر مشتمل بائیں بازو کا یہ متحدہ محاذ “اس فاشسٹ یلغار کے خلاف اجتماعی جذبے کو یکجا کرتے ہوئے ایک وسیع تر تحریک تشکیل دینے کے لیے قوتیں مجتمع کر رہا ہے،” انہوں نے کہا۔

یہ بیان تمام جمہوری قوتوں اور افراد سے ان کے ساتھ شامل ہونے کی اپیل کے ساتھ اختتام پذیر ہوتا ہے۔

انڈیا بلاک کا احتجاج

دریں اثنا، منگل کے روز یہ احتجاج، جس پر گزشتہ چند دنوں سے طلبہ تنظیموں کا غلبہ تھا، اس وقت سیاسی رنگ اختیار کر گیا جب ‘انڈیا’ بلاک نے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے سڑکوں پر مظاہرہ کیا۔

ارکانِ پارلیمنٹ کو نیتی آیوگ کے دفتر کے سامنے، نیتی آیوگ اور آکاشوانی بھون کے درمیان اس راستے پر روکا گیا جو الیکشن کمیشن ہیڈکوارٹر کی طرف جاتا ہے۔

مزید آگے بڑھنے سے روکے جانے کے بعد، وہ احتجاجاً سڑک پر بیٹھ گئے۔ اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ نے کمار کی آر ایس ایس کی وردی میں ملبوس تصویر والے کٹ آؤٹس اٹھا رکھے تھے اور نعرے لگائے، جن میں “بی جے پی ہے، سی ای سی ہے”، “ووٹ چور، گدی چھوڑ” اور “جمہوریت بکاؤ نہیں ہے” جیسے نعرے شامل تھے۔

اس مارچ میں حصہ لینے والوں میں ٹی ایم سی کے رہنما ابھیشیک بنرجی اور ڈیرک او برائن، کانگریس کی رہنما پرینکا گاندھی واڈرا، ایس پی کے سربراہ اکھلیش یادو اور سی پی آئی (ایم) کے رہنما جان برٹاس شامل تھے۔

شیو سینا (یو بی ٹی) کے رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت نے مارچ سے قبل سکیورٹی کی بھاری نفری کی تعیناتی پر سوال اٹھایا اور کہا کہ ارکانِ پارلیمنٹ پرامن طریقے سے آگے بڑھنا چاہتے تھے۔

انہوں نے کہا، “ہم ارکانِ پارلیمنٹ ہیں۔ ہم پارلیمنٹ کے رکن ہیں۔ ہم اس ملک کے شہری بھی ہیں۔ ہمیں روکنے کے لیے اتنی بڑی فورس تعینات کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ ہم پیدل چل کر جائیں گے۔ ہم نہتے ہیں۔”