دہلی کے کشمیری مسلم مایوس‘ پنڈت خوش

,

   

نئی دہلی۔ کشمیر ی مسلم جو دہلی کے مختلف مقامات پر مقیم ہیں نے دستور کے ارٹیکل370کے تحت جموں کشمیر کو فراہم کئے جانے والے خصوصی موقف سے دستبرداری کے فیصلے کو ”غیردستوری“ اور یہاں تک کہ”بے مروت“ فیصلہ قراردیا اور ان کی زندگیوں سے کھلواڑ کا اقدام بتایا ہے۔

اس کے برعکس وادی کے پنڈتوں‘ جو صدیوں سے راجدھانی میں پناہ لئے ہوئے ہیں وہ اس فیصلے سے کافی خوش ہیں اور انہیں ریاست میں ان کے گھرو ں میں واپسی کا راستہ دیکھائی دینے لگا ہے۔

پیر کے روز جب ٹی او ائی کچھ پڑوس کے علاقوں میں جہاں پر کشمیری کا غلبہ ہے کا دورہ کیا‘ ایک اکثریت دن میں پیش الے واقعہ کے متعلق بات کرنے میں خوف زدہ نظر ائی۔

وہ لوگ جنھوں نے خود سے بات کی وہ مرکزی حکومت کو کشمیری عوام سے بات کئے بغیر لیاگیا فیصلہ لینے کا مورد الزام ٹہرایا۔

سری نگر میں بڈگام سے تعلق رکھنے والے ایک 54سالہ انجینئر کو ساوتھ دہلی میں باٹلہ ہاوز علاقے میں مقیم ہیں نے جدوجہد کی دہوں کو یادکیا۔

انہوں نے کہاکہ ”کشمیر میں مسلسل حالات کی خرابی کے سبب وہاں پر رہنے والے لوگوں کی زندگی اجیرن بن گئی ہے۔

ہمارے خاندان اپنے شناخت کھوچکے ہیں۔یہ فیصلہ صدمہ دینے والا ہے ہمارے لئے اور مجھے تشویش ہے وہاں کے حالات مزیدخراب ہوجائیں گے“۔

وادی کے سونوار سے جس کا تعلق ہے وہ 45سالہ بزنس مین جو نیو فرینڈ کالونی میں رہ رہے ہیں نے کہاکہ ”حالانکہ میرا شال کے بہترین بزنس کشمیرمیں ہے۔

میں ریاست سے مواقعوں کی کمی کے سبب منتقل ہوگیا۔ میں جب وہاں جاتاہوں تو مجھے وہاں کے حالات دیکھ کر مایوسی ہوتی ہے۔

ہمارے نوجوان بہت کم معاشی مواقعوں کے درمیان خراب زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔ اسی وجہہ سے وہ پتھر مار کر اپنی برہمی دیکھاتے ہیں۔

ہمارے ساتھ اپنے ہی ملک میں باہری لوگوں کی طرح سلوک کیاجاتا ہے“۔

غور کے بعد انہوں نے مزیدکہاکہ ”میں نہیں سمجھتا کہ ارٹیکل370پر اقدام سے کشمیر میں ترقی اور اصلاحات کے راستے کھولیں گے۔

یقینا میں یہ بھی نہیں سمجھتا کہ اب مستقبل میں وہا ں کے حالات میں سدھار ائے گا“۔ ریاست کو دوحصوں میں تقسیم کرنے کے بعد لوگوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔

ایک 22سالہ طالب علم جو باٹلہ ہاوز علاقے میں مقیم ہے نے دعوی کیاہے متعدد مرتبہ کوششوں کے بعد جمعہ کے روز وہ ان کے والدین سے بات کرنے سے قاصر ہے۔

اس نے کہاکہ ”میری بہن جس کی شادی بنگلہ دیش میں ہوئی ہے وہ بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہی۔

تمام لینڈ لائن‘ انٹرنٹ او ربراڈ بینڈ خدمات وہاں پربند ہیں اور ہمارے پاس رابطے کا کوئی سہارا باقی نہیں رہا ہے“۔

کشمیر میں پیدا ہونے والے ایک شخص کو اعلی تعلیم کے دہلی آیا ہوا ہے نے مرکز کے فیصلے کو امن لانے کے بجائے بڑی اجتماعات میں شدت کے فروغ وجہہ قراردیا۔

انہو ں نے مزیدکہاکہ ”اسی طرح کی ایک غلطی1954میں کی گئی تھی‘ جس وقت ارٹیکل370متعارف کیاگیاتھا“۔

بھوگال کے ساکن ایک پچیس سالہ نوجوان نے وادی کے حالات پر تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہاکہ نوجوان پتھر بازی اور پب جی کھیلنے میں مشغول ہوگئے ہیں اور اب یہ کام ہوا ہے۔ تاہم حکومت کشمیری پنڈتوں کو خوشی کا ایک موقع فراہم کیاہے۔

ارٹیکل کی منسوخی کے متعلق پارلیمنٹ میں اعلان کے فوری بعد کشمیر پنڈت سڑکوں پر ڈھول‘ میٹھائی‘ پکوڑا کے ساتھ جشن منانے اترے۔ اور حکومت کے اقدام کو علامتی قراردیا۔

ساوتھ دہلی کی امر کالونی میں کشمیری سمیتی کو فرید آباد سے آنے والے سنجیوگوتم رائنا نے کہاکہ ”کئی سال قبل ہم نے نقل مقام کیاتھا۔ ہم اپنے گھر وں سے زبردستی نکالاگیا۔

امید ہے کہ ہماری وادی میں واپسی کا یہ پہلا قدم ہوگا“۔

سمیتی ممبرس کے مطابق دہلی این سی آر میں وادی کے 2.5لاکھ کشمیری پنڈت مقیم ہیں۔

مایور وہار نژاد بزنس مین کلدیپ بھٹ نے 19جنوری1990میں پیش ائے واقعہ کو یاد کیاجس میں ان کے گھر کے دروازے پر پوسٹر چسپاں کردیاگیاکہ ”تم اگر بھاگے نہیں تو ماردئے جاؤگے“۔

انہو ں نے کہاکہ ”یہ ہمارے لئے خوشی کا لمحہ ہے۔ کیوں کشمیریو ں کو خصوصی موقف فراہم کیاجائے؟۔آزادی کے بعد حیدرآباد کا ہندوستان میں انضمام ہوا تھا تو کشمیر کا کیوں نہیں؟۔