سپریم لیڈرمجتبیٰ خامنہ ای وفد اسلام آباد بھیجنے کیلئے راضی

,

   

امریکہ اور ایران کے درمیان آج دوسرے مرحلہ کے امن مذاکرات کا امکان

تہران ۔21؍اپریل ( ایجنسیز)امریکہ اور ایران کے بیچ بڑھتی کشیدگی کے درمیان امن مذاکرات کی کوششیں ایک بار پھر تیز ہو گئی ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس منگل کی صبح (ہندوستانی وقت کے مطابق شام) اسلام آباد کیلئیِ روانہ ہو سکتے ہیں۔ ذرائع کے حوالہ سے سامنے آئی کچھ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ وہائٹ ہاؤس پیر تک اس بات کا انتظار کرتا رہا کہ ایران بات چیت کے لیے اپنا وفد بھیجے گا یا نہیں۔ اب خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے وفد بھیجنے پر اپنی رضامندی ظاہر کر دی ہے۔دراصل ایران کے اندر بھی اس بات پر اختلاف تھا کہ ایرانی وفد مذاکرات کے لیے اسلام آباد بھیجا جائے یا نہیں۔ اسلامک ریوولوشنری گارڈس (آئی آر جی سی) کا دباؤ تھا کہ جب تک امریکہ اپنی پابندیاں ختم نہیں کرتا تب تک بات چیت نہیں ہونی چاہیے۔ اس درمیان پاکستان، مصر و ترکیے جیسے ممالک نے ایران کو بات چیت کیلئے منانے کی کوششیں کیں۔ پیر کی شب مجتبیٰ خامنہ ای نے وفد بھیجنے کو منظوری دے دی جس کے بعد بات چیت کی راہ ہموار ہوئی۔یہ جانکاری امریکی میڈیا ’ایکسیوس‘ نے ذرائع کے حوالہ سے دی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وینس کے ساتھ ٹرمپ کے سفیر اسٹیو وٹکاک اور جیریڈ کشنر بھی اسلام آباد جا سکتے ہیں اور چہارشنبہ کے روز یعنی 22 اپریل کو ایران و امریکہ کے درمیان امن مذاکرات ہو سکتے ہیں۔ یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہونے والے ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان 8 اپریل سے جاری 2 ہفتوں کی عارضی جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہونے والی ہے۔غور کرنے والی بات یہ ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے پہلے ہی تنبیہ دے دی ہے کہ اگر کوئی معاہدہ نہیں ہوا تو ایران پر پھر سے بمباری شروع کی جا سکتی ہے۔ حالانکہ اتنے کم وقت میں کوئی معاہدہ طے پانا مشکل ہی تصور کیا جا رہا ہے لیکن اگر بات چیت میں کوئی مثبت پیش رفت دیکھنے کو ملتی ہے تو ٹرمپ جنگ بندی کی حد بڑھا سکتے ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق ٹرمپ جنگ بندی کو مزید آگے بڑھانے کے حق میں نہیں ہیں۔ یعنی اگر طے مدت تک کوئی معاہدہ نہیں ہوا تو حالات پھر سے خراب ہو سکتے ہیں۔ حالانکہ کچھ پاکستانی میڈیا رپورٹس میں امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ ایران۔امریکہ کے درمیان جنگ بندی مزید 2 ہفتوں کیلئے بڑھ سکتی ہے۔