علاج کے بغیر مریضوں کو دوسرے ہاسپٹل منتقل کرنے پر کارروائی کا انتباہ

   

وزیر صحت دامودر راج نرسمہا کا جائزہ اجلاس، سرکاری ہاسپٹلس میں بنیادی سہولیات پر توجہ
حیدرآباد۔ 23 اگست (سیاست نیوز) وزیر صحت دامودر راج نرسمہا نے سرکاری ہاسپٹلس کے ڈاکٹرس کو انتباہ دیا کہ وہ ماحولی علاج کی سہولت کے باوجود مریضوں کو دیگر دواخانوں سے رجوع نہ کریں۔ سرکاری ہاسپٹلس میں بہتر سہولتوں پر اعلیٰ سطحی اجلاس میں دامودر راج نرسمہا نے کہا کہ اکثر شکایات ملی ہیں کہ سرکاری ہاسپٹلس میں علاج کی سہولت کے باوجود مریض کو دوسرے ہاسپٹل سے رجوع کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر علاج کی سہولت کے باوجود دوسرے ہاسپٹل سے رجوع کیا گیا تو ایسی صورت میں سخت کارروائی کی جائے گی۔ وزیر صحت نے عہدیداروں سے کہا کہ وہ اس طرح کی شکایات پر نظر رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ تشویشناک حالت میں علاج کی سہولتوں کی عدم دستیابی پر دوسرے ہاسپٹلس سے رجوع کیا جاسکتا ہے لیکن اکثر دیکھا گیا ہے کہ علاج کی مکمل سہولت کے باوجود مریض کو کسی وجہ کے بغیر ہی دوسرے بڑے ہاسپٹلس سے رجوع کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی کی صورت میں مریض کی منتقلی سے قبل دوسرے ہاسپٹل کو پیشگی اطلاع دی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ غیر ضروری طور پر دوسرے ہاسپٹلس سے رجوع کرنے سے نہ صرف مریض کو دشواری ہوتی ہے بلکہ دوسرے ہاسپٹل پر بوجھ میں اضافہ ہوتا ہے۔ وزیر صحت نے ڈائرکٹوریٹ آف سکنڈری ہیلت کیئر کے تحت موجود ہاسپٹلس کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کمیونٹی ہیلت سنٹرس، ایریا ہاسپٹلس اور ڈسٹرکٹ ہاسپٹلس کو ترقی دینے اور عصری آلات کی تنصیب کی ہدایت دی تاکہ مریضوں کو مقامی سطح پر علاج کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیچنگ ہاسپٹلس میں 607 اسسٹنٹ پروفیسرس کی جائیدادوں پر تقررات کئے گئے جبکہ ڈسٹرکٹ، ایریا ہاسپٹلس اور کمیونٹی ہیلت سنٹرس میں 1616 ڈاکٹرس کی جائیدادوں پر تقررات عمل میں آئے ہیں۔ انہوں نے ہیلت سرویسیس سے متعلق ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹرس کو ہدایت دی کہ ہر ہاسپٹل میں ڈاکٹرس، اسٹاف، بیڈس، ڈائیگناسٹک اور طبی آلات کی موجودگی کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے عہدیداروں سے کہا کہ ہفتہ میں کم از کم ایک دن ہاسپٹلس کا اچانک معائنہ کرتے ہوئے صورتحال کا جائزہ لیں۔ 1؍F