وقف مقدمات میں پیروی سے گریز،جائیدادوں کی تباہی کا موجب
حیدرآباد۔6۔ مئی ۔ (سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود اور چیف اکزیکٹیو آفیسر تلنگانہ وقف بورڈ کس کے دباؤ میں کام کر رہے ہیں! کیوں وقف جائیدادوں کے مقدمات سے متعلق عدالت میں پیروی سے گریز کرتے ہوئے موقوفہ جائیدادوں کو تباہ کیا جا رہا ہے ! حکومت میں شامل’رئیل اسٹیٹ‘ لابی وقف بورڈ کو چلارہی ہے یا کوئی ’غیبی طاقت‘ وقف بورڈ میں مداخلت کے ذریعہ ہزاروں ایکڑ جائیداد وں کو نقصان پہنچانے میں مصروف ہے!محکمہ اقلیتی بہبود نے تلنگانہ وقف بورڈ کا اجلاس منعقد کرنے پر روک لگاتے ہوئے کہیں ان ہزاروں ایکڑ اراضیات سے متعلق مقدمات میں شکست کی منظم سازش تو تیار نہیں کی ہے!محکمہ اقلیتی بہبود نے وقف بورڈ کا اجلاس منعقد کرنے سے بورڈ کو روکتے ہوئے بورڈ کی کارکردگی کو بری طرح سے متاثر کیا ہے جس کے نتیجہ میں منتخبہ بورڈ عدالت میں زیر دوراں مقدمات کے متعلق حقائق سے واقف نہیں ہوپا رہا ہے اور نہ ہی وقف بورڈ کے امور کو بہتر بنانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ محکمہ اقلیتی بہبود‘ چیف اکزیکٹیو آفیسر محمد اسداللہ کو سی ای او کے عہدہ پر برقرار رکھنے کے لئے متعدد قانونی گنجائش کا سہارا لیتے ہوئے انہیں اسی عہدہ پر برقرا ررکھنے میں جس طرح کی دلچسپی دکھا رہا ہے اور ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل کو سماعت میں پیش ہونے کی ہدایت دیتے ہوئے وقت حاصل کرنے میں کامیاب ہورہا ہے اسی طرح وقف جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں بہتر وکلاء کی خدمات حاصل نہیں کی جا رہی ہیں۔ بتایا جاتاہے کہ وقف بورڈ کے ذمہ دار بالخصوص بورڈ کے اراکین میں محکمہ اقلیتی بہبود کی بورڈ کے امور میں مداخلت بیجا پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا جانے لگا ہے اور حکومت میں شامل بعض ’نام نہاد‘ مسلم کارکن جو بورڈ کو یرغمال بناتے ہوئے اپنی مرضی کے مطابق عہدیداروں کو کام کرنے کے لئے مجبور کر رہے ہیںجس کے نتیجہ میں بورڈ کی کروڑہا روپئے کی جائیدادوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق سی ای او وقف بورڈ پر ’سیاسی دباؤ‘ کے علاوہ حکومت میں شامل ’رئیل اسٹیٹ لابی‘ کا دباؤ ہونے کے سبب وہ متعدد مقدمات میں عدالت میں جواب داخل کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ درگاہ حضرت شاہ راجو قتال حسینی ؒکی بیش قیمت اراضی کو قانونی طریقہ کار اختیارکرتے ہوئے تباہ کیا جا رہاہے اس کے علاوہ اسی طرح کا طرز عمل درگاہ حضرت مخدوم بیابانی ؒ آلور ‘ ضلع رنگاریڈی کی 1200 ایکڑ اراضی سے متعلق مقدمہ میں اختیار کرتے ہوئے اس مقدمہ میں بھی بورڈ کو شکست سے دوچار کرتے ہوئے قابضین کو فائدہ پہنچانے کے اقداما ت کئے جا رہے ہیں۔علاوہ ازیں درگاہ حضرت میر محمود ؒ کے علاوہ درگاہ حضرت ذات اللہ شاہ قادریؒکے تحت موجود سینکڑوں ایکڑ اراضیات سے متعلق مقدمات میں بھی جواب داخل نہ کرتے ہوئے وقف بورڈ کے عہدیدارو وکلاء کی جانب سے مقدمات میں قابضین کی مددکی جا رہی ہے۔تلنگانہ وقف بورڈ کے ذرائع کا کہناہے کہ ریاستی حکومت اور محکمہ اقلیتی بہبود کی بیجا مداخلت اور بورڈ کا اجلاس منعقد کرنے میں پیدا کی جانے والی رکاوٹوں کے نتیجہ میں وقف جائیدادیں تباہ ہورہی ہیں۔ذرائع کے مطابق وقف جائیداد کی تباہی کے لئے بورڈ سے NOC کی اجرائی کے بجائے عدالت کے ذریعہ جائیداد کے گزٹ کو ہی کالعدم قرار دینے کی راہ ہموار کرتے ہوئے منصوبہ بند انداز میں موقوفہ جائیدادوں کو نقصان پہنچایا جانے لگا ہے اور اس تباہی پر ’وقف جہدکاروں‘ کی خاموشی بھی ناقابل فہم ہے کیونکہ عہدیدار خود یہ کہہ رہے ہیں کہ ’’اوپر‘‘ سے احکام موصول ہونے کے بعد ہی کسی بھی مقدمہ میں مؤثر پیروی کی جاسکتی ہے اور ان مقدمات میں ’’اوپر‘‘ سے جو احکام موصول ہورہے ہیں اس کے مطابق ہی کام کیا جارہاہے۔ عہدیدار جو اس صورتحال سے خود پریشان ہیں وہ ’’اوپر‘‘ والے کا نام لینے میں بھی خوف محسوس کر رہے ہیں ۔وزیر اقلیتی بہبود جناب محمد اظہر الدین جو کہ گذشتہ 6 ماہ سے ریاستی وزیر اقلیتی بہبود کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں وہ خود وقف بورڈ میں جاری اس لاپرواہی اور بے اعتنائی والے رویہ سے پریشان ہیں لیکن ایسا محسوس ہورہا ہے کہ خود محمد اظہر الدین بھی بے بس ہیں اسی لئے وہ اپنے ہی محکمہ کے حالات کو بہتر بنانے یا اس کی کارکردگی کا ’’آزادانہ ‘‘ طور پر جائزہ لینے کے موقف میںنہیں ہیں۔تلنگانہ وقف بورڈ میں درج کروڑہا روپئے مالیت کی جائیدادوں کو عدالت کے احکامات کے ذریعہ بورڈ کے ریکارڈ سے خارج کرنے کے لئے کی جانے والی اس سازش کا پردہ فاش کرنے اقدامات کے ذریعہ وقف جائیدادوں کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف سخت کاروائی کے ساتھ مذکورہ موقوفہ جائیدادوں کو بچانے کے لئے اقدامات کی ضرورت ہے ۔ اس تباہی میں ملوث ’قد ‘ آور شخصیات کو بھی جلد منظر عام پر لایا جائے گا۔3
درگاہ حضرت سید شاہ راجو قتال حسینیؒ مقدمہ کی سماعت
ہائیکورٹ نے 7 رٹ درخواستوں اور ایک اپیل پر احکامات جاری نہیں کئے ، 9 جون کے بعد پھر سماعت
روزنامہ سیاست کی خبر کا اثر
حیدرآباد۔6۔ مئی ۔ (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے درگاہ حضرت سید شاہ راجو قتال حسینی ؒ معاملہ میں داخل کی گئی 7 رٹ درخواستوں اور 1 رٹ اپیل میں کسی بھی طرح کے احکامات کی اجرائی نہ کرتے ہوئے ان مقدمات کی سماعت کو 9جون کے بعد رکھنے کا فیصلہ کیا۔ ’روزنامہ سیاست‘ میں درگاہ حضرت شاہ راجوقتال حسینی ؒکی وقف اراضی کے گزٹ کو کالعدم قرار دیئے جانے اور آج عدالت میں 7 مقدمات کے متعلق خبر کی اشاعت کے بعد تلنگانہ وقف بورڈ نے فوری حرکت میں آتے ہوئے ان مقدمات میں وقف بورڈ اسٹینڈنگ کونسل کو پیروی کی ہدایت جاری کرتے ہوئے انہیں مقدمات میں پیش ہونے کی تاکید کی ۔ چیف اکزیکٹیو آفیسر تلنگانہ وقف بورڈ جو اب تک درگاہ حضرت شاہ راجو قتال حسینی ؒ کی اراضی پر کئے جانے والے دعوے اور گزٹ کو کالعدم قرار دینے کی درخواستوں سے متعلق مقدمات میں وقف بورڈ کے اسٹینڈنگ کونسل کو ہدایات جاری کرنے سے گریز کر رہے تھے نے 6 مئی کو ’روزنامہ سیاست‘ میں تفصیلی خبر شائع ہونے کے فوری بعد اسٹینڈنگ کونسل کو ان مقدمات میں وقف بورڈ کی پیروی کی تاکید کی ۔ درگاہ حضرت شاہ راجوقتال حسینی ؒ کی موقوفہ اراضی سے متعلق گزٹ کو کالعدم قرار دیئے جانے کے معاملہ میں اگر جامع تحقیقات کروائی جاتی ہیں تو ایسی صورت میں تمام دھاندلیوں کو منظرعام پر لایا جاسکتا ہے۔ تلنگانہ وقف بورڈ مہیشورم منڈل کے موضع’کونگراخرد‘سے متعلق مقدمات میں اب پیروی کرنے کی تیاری شروع کرچکا ہے اور تمام 7رٹ درخواستوں اور 1 رٹ اپیل میں وقف بورڈ کی جانب سے اسٹینڈنگ کونسل جناب سید نجم الحسن باقری نے چیف اکزیکٹو آفیسر کی تحریری ہدایات عدالت میں جمع کرواتے ہوئے جواب داخل کرنے کے لئے وقت طلب کیا ہے۔3/a/y