مظفر نگر فسادات متاثرین اب بھی بے گھر : جمعیۃ علما ء نے ۸۵؍ نئے مکانات تعمیر کروائے ۔ 

NEW DELHI, INDIA DECEMBER 10: President of Jamiat Ulema-e-Hind Maulana Syed Arshad Madani during a Press Conference on Triple Talaq Issue in New Delhi.(Photo by K Asif/India Today Group/Getty Images)

نئی دہلی : ۲۰۱۳ء میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کے کچھ بد نصیب متاثرین ۶؍ سال کے بعد بھی کیمپوں میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں ۔ مسلمانوں کے ایسے ناگفتہ بہ حالا ت میں جمعیۃ علماء ہند نے ایک قدم آگے بڑھ کر مسلمانوں کی مدد کرنے لگی ۔ جمعیۃ علما ء ہند نے ان کے لئے ۸۵؍ نئے مکانات تعمیر کئے ہیں ۔ اس سے قبل بھی جمعیۃ علماء ہند نے ۳۶۵؍ مکانات تعمیر کروائی تھی ۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی مظفر نگر کا دورہ کرتے ہوئے ان مکانات کو متاثرین میں تقسیم کریں گے ۔ اطلاعات کے بموجب ایک مکان کا رقبہ ۵۰؍ گز میں تعمیر کروایا گیا ہے جس میں ایک بڑا ہال ، ایک برآمدہ ،بیت الخلاء اور غسل خانہ ہے ۔ ایک مکان کی تعمیر پر کم از کم ایک لاکھ ۵؍ ہزار روپے خرچ ہوئے ہیں ۔ جملہ تعمیر شدہ مکانات پر ایک کروڑ روپے آئے ہیں ۔ جمعیۃ علماء کے مطابق یہ مکانات مظفر نگر سے پانچ کیلو میٹر کی دوری پر تعمیر کئے گئے ہیں ۔

واضح رہے کہ ۲۰۱۳ء میں جب اترپردیش میں سماجوادی پارٹی کی حکومت تھی اس وقت مظفر نگر میں فرقہ وارانہ فسادات بھڑک اٹھے تھے ۔ تقریبا پچاس ہزار لوگ خوف کی وجہ سے نقل مکانی کئے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT