من گھڑت کہانیاں عام کرتے ہوئے شہریوں کو لوٹا جارہا ہے ۔ بڑا نیٹ ورک بے نقاب
حیدرآباد ۔ 13 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : معاشرے میں پھیلی توہم پرستی اور راتوں رات دولت مند بننے کی ہوس اور لالچ نے بے زبان جنگلی جانوروں کی زندگی کو داؤ پر لگادیا ہے ۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق تلنگانہ اور سرحدی علاقوں کے جنگلات میں شکاریوں کے منظم گروہ سرگرم ہیں جو نہ صرف توہم پرستی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں بلکہ بین ریاستی سطح پر جانوروں کی اسمگلنگ میں بھی ملوث ہیں ۔ عوامی حلقوں میں یہ من گھڑت کہانیاں عام کردی گئی ہیں کہ ’ اُلو ‘ کو پانی میں ڈوبوکر اس پانی سے نہانے سے نحوست دور ہوتی ہے یا مخصوص جانوروں کے خون سے پیسوں کی بارش ہوتی ہے ۔ انہی افسانوں کا سہارا لے کر شکاری معصوم شہریوں کو لوٹ رہے ہیں ۔ خاص طور پر نلاملا کے جنگلات میں پائے جانے والے ’بارن اول ‘ (Bornowl) کی شہر میں غیر معمولی مانگ ہے ۔ جس کی قیمت مارکٹ میں ایک لاکھ سے دو لاکھ تک لگائی جارہی ہے ۔ وائلڈ لائف کرائم کے خلاف پولیس اور ٹاسک فورس نے شکنجہ کستے ہوئے کئی اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں گولکنڈہ ٹاسک فورس نے حال ہی میں 6 شکاریوں کو گرفتار کیا جو شاد نگر اور جڑچرلہ کے علاقوں میں ہرن اور خرگوش کا شکار کررہے تھے ۔ گزشتہ سال بھی ایک ایسے گروہ کا پردہ فاش کیا گیا تھا ۔ جو ہرن کا گوشت ، کھال اور سینگ فروخت کرنے میں ملوث تھے ۔ پولیس اب ان دلالوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں جو آندھرا پردیش ، کرناٹک اور مہاراشٹرا میں ان گروہوں کی پشت پناہی کررہے ہیں ۔ تحقیقات سے یہ تشویشناک بات سامنے آئی ہے کہ سکندر طوطے (Alexandrine Parakeets) لوگ انہیں گھروں میں رکھنے کیلئے بھاری قیمتیں ادا کررہے ہیں ۔ بعض جانوروں کا خون روایتی ادویات کے نام پر غیر قانونی طور پر استعمال کیا جارہا ہے ۔ شہر کے کئی علاقوں میں کوؤں سے لے کر کچھوؤں تک کی فروخت کیلئے غیر قانونی دکانیں کھل گئی ہیں ۔ جہاں ممنوعہ جانوروں کی خرید و فروخت جاری ہے ۔ محکمہ جنگلات اور پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان توہم پرستوں کا شکار نہ ہوں اور جنگلی جانوروں کے تحفظ میں تعاون کریں ۔ جانوروں کا شکار یا انہیں قید کرنا سنگین جرم ہے جس پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی ۔۔ 2/m/b