اردو یونیورسٹی میں یوم آزاد تقریب، صحافت میں نمایاں خدمات پر رشیدالدین کو ایواڈ، پروفیسر کرشنا کمار کا یادگاری لکچر
حیدرآباد ۔11۔نومبر (سیاست نیوز) ملک کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کی یوم پیدائش کے موقع پر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے یوم آزاد تقاریب کا اہتمام کیا۔ قومی کونسل برائے تعلیمی تحقیق و تربیت کے سابق ڈائرکٹر پدم شری پروفیسر کرشنا کمار نے مولانا آزاد یادگاری خطبہ دیا۔ وائس چانسلر پروفیسر سید عین الحسن نے صدارت کی۔ شعبہ صحافت میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں بیورو چیف روزنامہ سیاست رشیدالدین کو ’’ستارہ صحافت‘‘ ایوارڈ پیش کیا گیا۔ وائس چانسلر پروفیسر عین الحسن نے توصیف نامہ اور یادگاری مومنٹو پیش کرتے ہوئے شالپوشی کی۔ مولانا ابوالکلام آزاد چونکہ عالم دین کے علاوہ ایک صحافی بھی تھے، لہذا ان کے نام سے موسوم قومی یونیورسٹی نے صحافت میں دیرینہ خدمات پر اعزاز کے لئے بیورو چیف روزنامہ سیاست رشیدالدین کا انتخاب کیا۔ اس موقع پر یو این آئی اردو کے صحافی واجد اللہ خاں کو بھی ایوارڈ پیش کیا گیا۔ پروفیسر کرشنا کمار نے یادگاری خطبہ میں بنیادی تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کیا اور کہا کہ ہندوستان میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کی موجودگی مولانا ابوالکلام آزاد کی تعلیمی پالیسی کا نتیجہ ہے۔ مولانا آزاد نے اپنے غیر معمولی ویژن کے ذریعہ ہندوستان میں تعلیم کو عام کرنے کی کامیاب مساعی کی تھی۔ پروفیسر کرشنا کمار نے کہا کہ تعلیم کا تجزیہ گہرائی سے کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ تعلیم محض ایک تصور نہیں بلکہ ایک نظام ہے جس کے ذریعہ سماج میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی تعلیم پر توجہ کے بغیر اعلیٰ تعلیم میں بہتر مظاہرہ ممکن نہیں ہے ۔ ’’اعلیٰ تعلیم اور درپیش چیلنجس‘‘ کے موضوع پر یادگاری خطبہ میں پروفیسر کرشنا کمار نے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کی کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی تعلیم کی اہمیت اعلیٰ تعلیم سے زیادہ ہے اس بارے میں ان کے نظریہ میں تبدیلی آچکی ہے۔ بنیادی تعلیم فراہم کرنے والے اساتذہ کی تربیت اعلیٰ تعلیم کے مدارس میں ہوتی ہے۔ اگر کوئی ٹیچر اچھے کالج سے ٹیچر ایجوکیشن کی ڈگری حاصل کرتا ہے تو وہ اپنے طلبہ کو بہترین تربیت اور تعلیم فراہم کرسکتا ہے ۔ اعلیٰ تعلیم کے دوران تدریس کے بہتر طریقے سیکھنے میں مدد ملتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے ذریعہ ہی بنیادی تعلیم کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیز میں جزوقتی ملازمین کی بڑھتی تعداد اعلیٰ تعلیم کیلئے ایک چیلنج ہے۔ وائس چانسلر پروفیسر سید عین الحسن نے صدارتی خطاب میں کہا کہ حصول تعلیم کیلئے دوست بنانا مشکل کام ہے لیکن اعلیٰ تعلیمی اداروں میں علمی دوستی آسان ہے۔ پنچ تنتر کی کہانی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد جمع ہوتے ہیں اور ان میں اتفاق رائے قائم ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم انسان کی شخصیت کو نکھارنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ رجسٹرار اردو یونیورسٹی پروفیسر اشتیاق احمد نے خیرمقدم کیا اور گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران یوم آزاد تقاریب کی تفصیلات سے واقف کرایا۔ پروفیسر شگفتہ شاہین نے پروفیسر کرشنا کمار کا تعارف کرایا ۔ اس موقع پر پروفیسر عزیز الدین اور پروفیسر امتیاز حسنین کی کتابوں کی رسم اجراء عمل میں آئی۔ پروفیسر علیم اشرف جائسی صدرنشین یوم آزاد تقاریب نے شکریہ ادا کیا۔ 1