ملک میں مہنگائی ۔ عوام کا برا حال

   

عامر علی خاں
ہندوستان میں ایک ایسے وقت جبکہ انتخابی عمل اور ایس آئی آر میں ہیراپھیری و دھاندلیوں اور بے قاعدگیوں کو لیکر ایک ہنگامہ مچا ہوا ہے ۔ قائد اپوزیشن راہول گاندھی نے جہاں وزیراعظم نریندر مودی ، وزیر داخلہ امیت شاہ ، مشیر قومی سلامتی اجیت دوال ، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے ساتھ ساتھ تقریباً 18 افراد کو ملک میں جمہوریت کو تباہ کرنے والا قرار دیا وہیں ان لوگوں کو غدار تک قرار دینے سے گریز نہیں کیا ۔ سابق چیف منسٹر مغربی بنگال ممتا بنرجی نے تو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو چور اور ڈاکو تک کہہ ڈالا ۔
بہرحال ہندوستان کی موجودہ سیاسی صورتحال پر ایک طائرانہ نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستانی سیاست میں ترجیحات بدلتی جارہی ہیں ۔ پہلے سیاستداں اور عوام سب سیاست میں روٹی ، کپڑا اور مکان کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل رکھا کرتے تھے ۔ آزادی کے فوری بعد عوام کی بنیادی ضروریات کو ملحوظ رکھتے ہوئے روٹی ، کپڑا اور مکان کا مطالبہ کیا گیااور دیکھتے ہی دیکھتے یہ نعرہ عوام کے دلوں میں اُتر گیا ۔ پھر ایک اور نعرہ منظرعام پر آیا جو سڑک ، بجلی اور پانی تھا جس کے ذریعہ سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں نے عوام کیلئے خاص طورپر حمل و نقل کے وسائل کو بہتر بنانے ، اچھی سڑکیں بچھانے، ملک کے کونے کونے کو روشن کرنے ، بجلی کے بہتر انتظام اور دور دراز علاقوں میں بھی آبادی کو پینے کے صاف پانی کی سربراہی یقینی بنانے کے وعدے کئے ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ترجیحات بدل گئیں۔
آپ کو بتادیں کہ روٹی کپڑا اور مکان کانعرہ 1960 ء کے دہے کے اواخر اور 1970 ء کے دہے کے اوائل میں بلند کیا گیا اور سابق وزیراعظم آنجہانی اندرا گاندھی نے یہ نعرہ بلند کیا تھا ۔ اس نعرہ کے پرکشش ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 1974 ء کے دوران اس نعرہ سے متاثر ہوئے بالی ووڈ نے ایک فلم روٹی کپڑا اور مکان بنائی ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہندوستان انگریزی تسلط کے نتیجے میں اس کی نوآبادیات میں سے ایک نوآبادی بن گیا تھا جس میں غذا کی قلت اور شدید غربت کا لوگوں کو سامنا تھا حالانکہ ہمارے ملک میں قدرتی وسائل کی کوئی کمی نہ تھی لیکن انگریز لوٹ پوٹ کر ہندوستان کی دولت لے جاتے رہے ۔ اُس کے بعد بنیاسی سہولتوں کو بہتر بنانے سڑک ، بجلی اور پانی کاد ورآیا 1990ء اور 2000 ء کے اواخر اور اوائل میں یہ نعرہ ہر سیاستدااں کی زباں پر تھا خاص طورپر کانگریس اور بی جے پی نے اس نعرہ کو بہت زیادہ استعمال کیا ۔ رائے دہندوں نے آزادی کے بعد وقار اور احترام اور ترقی کا مطالبہ کیا اس نے سیاسی بحث کو بنیادی بہبود سے ریاستی سطح کی حکمرانی اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کی طرف موڑ دیا لیکن اس ڈیجیٹل معاشرہ میں ترجیحات نے بھی تبدیلی کی کروٹ لی اور دیکھتے ہی دیکھتے دوائی ، پڑھائی اور کمائی ( صحت عامہ ، تعلیم اور آمدنی ) کی سمت چلی گئی ۔ بہرحال حکومتیں بدلتی رہیں ترجیحات بدل گئیں لیکن عوام کے مسائل جوں کے توں موجود ہیں۔ حکومتوں جس میں موجودہ نریندر مودی حکومت بھی شامل ہے ملک سے غربت کو ختم کرنے کے بلند بانگ دعوے کئے لیکن آج بھی غربت ہمارے ملک میں ڈیرا ڈالے ہوئے ہے ۔ ہندوستانی عوام کیلئے سب سے بڑی بدبختی کی بات یہ ہے کہ پچھلے بارہ برسوں کے دوران مودی حکومت میں جس قدر مہنگائی ، بیروزگاری میں بے تحاشہ اضافہ ہوا اور ڈالر کے مقابلہ ہندوستانی روپئے کی قدر میں جو گراٹ آئی آزادی کے بعد کسی اور حکومت میں اس کی مثال نہیں ملتی حد تو یہ ہے کہ پچھلے 12 برسوں میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں اور عیسائیوں کے ساتھ ساتھ خواتین کے خلاف جرائم میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ہوا ۔ مودی جی اور اُن کے حامی ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے بلند بانگ دعوے کررہے ہیں لیکن اب ملک میں مہنگائی کا یہ حال ہوگیا ہے کہ غریب تو دور متوسط طبقہ بھی دال چاول خریدکر کھانے سے قاصر ہے ۔ دالوں خوردنی تیل اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ۔ ویسے بھی آپ کی اطلاع کیلئے یہ بتانا ضروری سمجھتے ہیں کہ مودی حکومت میں 2014 ء سے اب تک پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کئی مرتبہ اضافہ ہوا ۔ گھریلو استعمال کے ایل پی جی گیس سلنڈرس اور کمرشیل گیس سلینڈرس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ حال ہی میں مودی حکومت نے 19 کلوگرام کمرشیل گیس سلینڈر کی قیمت میں 70 روپئے کا اضافہ کیا ہے ۔ کانگریس قائدین کے مطابق جاریہ سال کے 9 ماہ میں مودی حکومت نے کمرشیل ایل پی جی سلینڈر کی قیمت میں 1270 ء روپئے بڑھادیئے ہیں ۔ جس سے حقیقت میں عام آدمی کے جیب پر بوجھ پڑا ہے ۔ 9 ماہ قبل کمرشیل ایل پی جی سلینڈر کی قیمت 1684 روپئے تھی وہ اب 2954 روپئے تک پہنچ گئی ہے ۔ اسکولوں کالجوں کوچنگ سنٹرس امتحانات اور مسابقی امتحانات کی فیس میں بھی غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ 2014 ء میں دارالحکومت دہلی میں پٹرول کی قیمت 72.26 روپئے ہوا کرتی تھی لیکن آج وہاں پٹرول کی قیمت فی لیٹر 102.1 روپئے ( دوسرے شہروں میں پٹرول فی لیٹر 115 روپئے ہے ) اس کا مطلب مودی حکومت میں پٹرول کی قیمت میں 41 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے ۔
2014 ء میں ڈیزل کی قیمت دہلی میں فی لیٹر 55.49 روپئے تھی اب دہلی میں 95.20 روپئے فی لیٹر ڈیزل فروخت کیا جارہا ہے اس کا مطلب ڈیزل کی قیمت میں 72 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ۔ 14.2 کلوگرام کے ایل پی جی سلینڈر 414 روپئے ہوا کرتی تھی اب خود حیدرآباد میں 994 روپئے اُس کی قیمت ہوگئی ہے ۔ چاول کی قیمت 68-70روپئے فی کیلو ہوگئی ہے ۔ گندم کی قیمت فی کیلو40روپئے اور آٹا 40-56ہے جبکہ ارہر ؍ تور کی دال 26.10 ، روپئے فی کیلو ، چنے کی دال 89.17 روپئے فی کیلو ، سرسو کا تیل 203.30 ، سورج مکھی کی تیل 192.46 ، شکر 60 روپئے ،دودھ 61.36 روپئے فی لیٹر ، پیاز 55.60 روپئے فی کیلو ہوگئی ہے ۔
ایک طرف مہنگائی دوسری طرف الیکشن کمیشن بالخصوص چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی مبینہ دھاندلیوں کے چرچہ ہیں جس کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی نے جمعہ کو جنتر منتر پر احتجاج شروع کردیا ہے ۔ اپوزیشن قائدین کے مطابق دو گجراتیوں ( نریندر مودی اور امیت شاہ ) نے الیکشن کمیشن کو یرغمال بنالیا ہے اس کے لئے قوانین تک بدل دیئے گئے ۔مودی پر یہ بھی الزام ہے کہ انھوں نے ٹرمپ کے سامنے گھٹنے ٹیک کر ملک کے مفادات کا سودا کرلیا ۔ اُن کی حکومت میں خارجہ پالیسی پوری طرح تباہ ہوگئی ہے ۔ ہندوستانی شہریوں کومہنگائی نے مار دیاہے ۔ مودی پر یہ بھی الزام ہے کہ انھوں نے ملک کے قدرتی وسائل اپنے صنعت کار دوستوں اڈانی اور امبانی کو فروخت کردیا ۔
اُن کی حکومت میں ملک بھر میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچا اور اُن کی حکومت میں ہی ملک کے تعلیمی نظام کو زعفرانی رنگ میں رنگ کر برباد کردیا گیا اور مودی کو ای سی آئی پر کنٹرول کیلئے ووٹ چوری کا ذمہ دار بھی قرار دیا گیا ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں کا یہ بھی الزام ہے کہ مودی حکومت نے جھوٹ اور دروغ گوئی کے سارے ریکارڈس توڑ دیتے ہیں ۔ اب چلتے ہیں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی طرف اُن کی تنخواہ 2.5 لاکھ روپئے جبکہ اُن کی بیٹی میدھا رویم ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نوئیڈا کی تنخواہ 2 لاکھ روپئے ہے ۔ گیانیش کمار نے ایس آئی آر کے ذریعہ 13 کروڑ سے زائد رائے دہندوں کے نام حذف کئے جبکہ اُن کی بیٹی نے ایک جہدکارآکریتی چودھری پر NSA لاگو کیا ۔جہدکاروں کے مطابق گیانیش کمار کو سارا ملک کوس رہا ہے اور عدالت نے میدھا روپم پر 5 لاکھ روپئے جرمانہ عائد کیا ۔ باپ نے حق رائے دہی اور بیٹی نے انسانی حقوق چھینے اور اہم بات یہ ہیکہ دونوں نے اپنے عہدوں سے انصاف نہیں کیا ، ان حالات میں عوام باپ کے استعفے اور بیٹی کی گرفتاری کا مطالبہ کررہے ہیں ۔