نوجوانوں تک رسائی کی مساعی

   

اس کی امیدیں قلیل اس کے مقاصد جلیل
اس کی ادا دلفریب اس کی نگہہ دل نواز
جس وقت سے ملک میں نوجوانوں میں شعور بیدار ہوا ہے اور وہ اپنے حقوق کیلئے خود ہی جدوجہد کے راستے اختیار کر رہے ہیں اور کسی بھی سیاسی جماعت پر انحصار کرنے سے گریز کر رہے ہیں ایسے میں سیاسی جماعتوںک ی جانب سے نوجوانوں تک رسائی کی کوششیں زیادہ ہوگئی ہیں۔ خاص طور پر حکومت اور بی جے پی کی جانب سے ایسی کوششوں میں تیزی پیدا ہوگئی ہے ۔ ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اس کی شروعات کی تھی اور انہوں نے پہلی مرتبہ نصف شب کو خود ریکارڈ کردہ انسٹاگرام ویڈیو پوسٹ کی تھی ۔ انہوں نے اس طرح سے نوجوانوں تک رسائی حاصل کرنے اور ان تک اپنی بات پہونچانے کی کوشش کی تھی ۔ قائد اپوزیشن راہول گاندھی بہت پہلے ہی سے وقفہ وقفہ سے نوجوانوں تک رسائی حاصل کرنے اور ان کے درمیان پہونچنے کی کوششیں کرتے رہے ہیں۔ جس وقت ملک میں نوجوانوں نے اپنے مطالبات کی تائید میں احتجاج شروع کیا تھا راہول گاندھی نوجوانوں اور طلباء کے درمیان پہونچنے شروع ہوگئے تھے ۔ انہوں نے راجستھان کے کوٹا میں طلباء کے درمیان پہونچ کر ان کے مسائل سے واقفیت حاصل کرنے کی کوشش کی تھی ۔ ان کے ساتھ بات چیت کی تھی ۔ اس کے بعد وہ دہرہ دون بھی گئے اور پھر انہوں نے لکھنو میں بھی طلباء کی گونج پروگرام منعقد کیا تھا ۔ دہلی کے جنتر منتر پر جو احتجاج شروع ہوا تھا اور نوجوانوں نے مرکزی وزیر کی حیثیت سے دھرمیندر پردھان کے استعفی کو یقینی بنایا تھا اس وقت سے بی جے پی اور مرکزی حکومت کو بھی نوجوانوں تک رسائی کی اہمیت کا اندازہ ہونے لگا تھا اور اسے یہ احساس ہوگیا تھا کہ نوجوانوں تک رسائی آج کے وقت میں بہت ضروری ہوگئی ہے اور جو میڈیا ہے اس کی اہمیت ختم ہوگئی ہے اور نوجوان سوشیل میڈیا پر زیادہ انحصار کرنے لگے ہیں اور اسی پر بھروسہ بھی کر رہے ہیں۔ اسی حقیقت کو پیش نظر رکھتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے انسٹاگرام پر چند دن میں چار ویڈیوز پوسٹ کئے تھے اور نوجوانوں سے خود کو جوڑنے کی پہل کی تھی ۔
اب بی جے پی نے اس پر ساری توجہ مرکوز کردی ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ بی جے پی کے قومی صدر نتن نابن نے پارٹی کے درجنوں نوجوان قائدین کو دہلی طلب کیا تھا اور نوجوانوں کے تعلق سے ان کی رائے حاصل کرتے ہوئے پارٹی کی حکمت عملی تیار کی ہے ۔ انہوں نے حال ہی میں پارٹی کی ذمہ داریوں میں بھی بدلاؤ کیا ہے اور ایسے چہروں کو شامل کیا گیا ہے جو ان کے مطابق نوجوانوں تک زیادہ رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔ اب بی جے پی اور مرکزی حکومت نے نئی حکمت عملی اختیار کی ہے ۔ حکومت کی جانب سے اب مرکزی وزراء کو یونیورسٹیز کے دورہ کی ہدایت دی گئی ہے ۔ کوئی وزیر ایک دن طئے کریں گے اور کسی ایک مختص کردہ یونیورسٹی کا دورہ کریں گے ۔و ہاں نوجوانوں سے ملاقات ہوگی ۔ ان کے ساتھ بات چیت کی جائے گی ۔ ان کے مسائل سے واقفیت حاصل کی جائے گی ۔ ملک کو درپیش مسائل پر ان کے خیالات سے واقفیت حاصل کرنے کے علاوہ طلباء اور نوجوانوں کیلئے حکومت کے اقدامات سے بھی انہیں واقف کروایا جائے گا ۔ بی جے پی کو احساس ہے کہ وہ نوجوانوں تک اس طرح کے اقدامات کے ذریعہ اپنی رسائی کو بہتر بناسکتی ہے ۔ نوجوانوں میں حکومت کے تعلق سے جو احساسات پیدا ہو رہے ہیں ان کو دور کیا جاسکتا ہے اور ان کی شکایات کو دور کرنے میں شائد بی جے پی کامیاب ہوسکتی ہے ۔ تاہم یہ خیال کس حد تک درست ہے یہ ابھی کہا نہیں جاسکتا ۔
یہ بات ضرور ہے کہ بی جے پی کوشش ضرور شروع کرچکی ہے اور اسے نوجوانوں کی ناراصگی کا احساس ہوچکا ہے ۔ حکومت اور بی جے پی کی جانب سے جس طرح کے اقدامات کئے جا رہے ہیں وہ شائد نوجوانوں کو رجھانے میں کامیاب نہیں ہونگے کیونکہ نوجوان اب محض دکھاوے کے یا اڈھاک اقدامات کی بجائے جامع اور موثر اقدامات کو ترجیح دے رہے ہیں اور وہ اب بہلاوے یا بہکاوے کا شکار نہیں ہونگے ۔ وہ حقیقت کو سمجھنے لگے ہیں اور اس کے مطابق اپنے طور پر رائے بنا رہے ہیں۔