پولیس رکاوٹوں کو توڑنے پر کشیدگی ، پولیس کے ساتھ دھکم پیل، بائیں بازو اور تلنگانہ جنا سمیتی کے قائدین بھی گرفتار، ہزاروں کارکنوں کی شرکت
حیدرآباد۔8 ۔ اکتوبر (سیاست نیوز) ملک میں ووٹ چوری کے مسئلہ پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفیٰ کی مانگ کرتے ہوئے جمہوریت بچاؤ مہم کے تحت آج انڈیا اتحاد کی پارٹیوں کی جانب سے حیدرآباد میں چلو لوک بھون احتجاج منظم کیا گیا۔ کانگریس ، سی پی آئی اور تلنگانہ جنا سمیتی کے قائدین اور ہزاروں کی تعداد میں کارکنوں نے نکلس روڈ پر واقع اندرا گاندھی مجسمہ سے مارچ کا آغاز کیا۔ صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ کے علاوہ ریاستی وزراء پی سرینواس ریڈی ، پونم پربھاکر ، سریدھر بابو ، جوپلی کرشنا راؤ ، محمد اظہرالدین ، اے لکشمن کمار ، وی سری ہری ، تلنگانہ جنا سمیتی کے سربراہ پروفیسر کودنڈا رام ، سی پی آئی قائدین ، مختلف کارپوریشنوں کے صدورنشین اور پردیش کانگریس کے عہدیداروں نے احتجاجی مارچ میں حصہ لیتے ہوئے گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ احتجاجی مارچ جب لوک بھون کے قریب پہنچا تو پولیس نے لوک بھون سے تقریباً 300 میٹر کی دوری پر رکاوٹیں کھڑی کردی۔ احتجاجیوں کو لوک بھون کی طرف پیش قدمی کی اجازت نہیں دی گئی۔ بھاری تعداد میں پولیس کی تعیناتی کے باوجود کانگریس قائدین نے رکاوٹوں اور بیاریکیٹس کو عبور کرتے ہوئے آگے بڑھنے کی کوشش کی ۔ اس موقع پر پولیس اور کانگریس قائدین کے درمیان بحث و تکرار اور دھکم پیل ہوئی۔ بعض وزراء اور قائدین پولیس کا حصار توڑ کر راج بھون کی طرف بڑھنے لگے۔ اس موقع پر پولیس نے صورتحال کو کشیدہ ہونے سے بچانے کیلئے قائدین کو حراست میں لے لیا۔ احتجاجی کارکن لوک بھون کے گھیراؤ کی کوشش کر رہے تھے جسے پولیس نے رکاوٹوں کے ذریعہ ناکام بنادیا۔ صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ ، وزراء اور اہم قائدین کو حراست میں لیتے ہوئے پنجہ گٹہ اور بیگم بازار پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا۔ کانگریس اور اتحادی پارٹیوں کے قائدین نے پولیس اسٹیشن میں احتجاج جاری رکھا۔ قائدین کی شام میں رہائی عمل میں آئی ۔ انڈیا الائنس نے گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے قومی سطح پر جمہوریت بچاؤ مہم کا آغاز کیا ہے۔ ملک بھر میں احتجاجی پروگرام منظم کئے جارہے ہیں اور حیدرآباد میں کانگریس اور حلیف جماعتوں کی جانب سے یہ اب تک کا سب سے بڑا احتجاج ہے جس میں وزراء اور سرکردہ قائدین کو گرفتار کیا گیا۔ کانگریس ، سی پی آئی اور جنا سمیتی کے کارکن اپنی اپنی پارٹی کا پرچم تھامے ہوئے گیانیش کمار کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے لوک بھون کی طرف بڑھ رہے تھے۔ پولیس نے لوک بھون کے راستے اور اطراف کے علاقوں میں غیر معمولی انتظامات کئے جس کے نتیجہ میں احتجاجیوں کو لوک بھون پہنچے سے روک دیا گیا۔ چلو لوک بھون احتجاج کے نتیجہ میں اطراف کے علاقوں میں ٹریفک میں خلل پڑا۔ کانگریس اور حلیف پارٹیوں کے قائدین نے اعلان کیا کہ گیانیش کمار کی گرفتاری تک احتجاج جاری رہے گا۔ سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری کے سامبا سیوا راؤ ، سی پی ایم کے ریاستی سکریٹری جان ویسلی اور پروفیسر کودنڈا رام احتجاج میں شریک ہوئے جنہیں پولیس نے حراست میں لے لیا۔ قائدین کی گرفتاری کے بعد پولیس نے کارکنوں کو منتشر کردیا۔ احتجاجی ریالی جیسے ہی راج بھون کے قریب پہنچے ماحول اس وقت کشیدہ ہوگیا جب کارکنوں نے پولیس کا حصار توڑ کر راج بھون کی طرف پیشقدمی کی کوشش کی۔ پولیس عہدیداروں نے وزراء سے اپیل کی کہ وہ امتناعی احکام کی خلاف ورزی سے گریز کریں۔ وزراء اور قائدین نے لوک بھون کے قریب دھرنا منظم کرتے ہوئے مودی حکومت اور گیانیش کمار کے خلاف نعرہ بازی کی۔ پولیس کی جانب سے رکاوٹوں پر کانگریس قائدین نے برہمی کا اظہار کیا اور انہیں لوک بھون تک جانے کی اجازت کا مطالبہ کیا۔1/k
پارٹی کے ارکان اسمبلی اور دیگر عوامی نمائندوں نے پولیس بیریکیٹس پر چڑھ کر نعرہ بازی کی۔ تقریباً دو گھنٹے تک نکلس روڈ سے لوک بھون کے راستے پر احتجاج کا ماحول رہا۔ وزراء پی سرینواس ریڈی اور پونم پربھاکر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی کارکردگی میں شفافیت نہیں ہے۔ ووٹ چوری کو بے نقاب کرنے والے قائد اپوزیشن راہول گاندھی کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے ریاستی وزراء نے کہا کہ عوام کے دستوری حق کی بحالی کیلئے کانگریس پارٹی ملک بھر میں احتجاج کر رہی ہے۔ عوامی ناراضگی کے سبب گیانیش کمار کے استعفیٰ کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔1/k