نئی دہلی، 13 ستمبر (یو این آئی) چین کے صدر شی جن پنگ نے اتوار کو ہندوستان اور دیگر برکس ممالک کے لیے ایک واضح اور مثبت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ چین کا 15واں پانچ سالہ منصوبہ (2026-2030) عالمی سطح پر گہری شراکت داری کا ذریعہ بنے گا۔ اس منصوبے میں ملک کے اندر اعلیٰ معیار کی ترقی پر توجہ دینے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے ممالک، خصوصاً گلوبل ساؤتھ کے ساتھ تعاون کے نئے مواقع پیدا کرنے پر زور دیا جائے گا۔نئی دہلی میں برکس سربراہی اجلاس کے دوسرے روز خطاب کرتے ہوئے شی جن پنگ نے کہا کہ چین اس منصوبے کے ذریعے اعلیٰ معیار کی اوپننگ اپ کو وسعت دے گا، عالمی ترقیاتی اقدام پر عمل درآمد کرے گا اور اعلیٰ معیار کی بیلٹ اینڈ روڈ شراکت داری کو آگے بڑھائے گا۔ان کے بیان سے واضح ہوا کہ نیا پانچ سالہ منصوبہ بیجنگ کی وسیع تر اقتصادی اور سفارتی حکمت عملی کا اہم مرکز ہے ۔ چین اقتصادی ترقی کو برقرار رکھنے ، تکنیکی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور عالمی معیشت کے ایک بڑے محرک کی حیثیت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ ان کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیجنگ نئے منصوبہ بندی کے دور کو نہ صرف اپنی داخلی معیشت کی تشکیل نو بلکہ بین الاقوامی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے ایک موقع کے طور پر دیکھ رہا ہے ۔چین کے 2026 کے ‘دو اجلاسوں’ کے دوران منظور کیا گیا یہ منصوبہ 2030 تک ملک کی ترقیاتی ترجیحات کا تعین کرتا ہے ۔ یہ 2035 تک بنیادی جدید کاری حاصل کرنے اور 2049 تک قومی احیا کے بیجنگ کے طویل مدتی عزائم کا بھی حصہ ہے۔
اس منصوبے کا بنیادی مقصد چین کو ایسی اقتصادی ساخت سے مزید دور لے جانا ہے جو سرمایہ کاری اور کم لاگت والی مینوفیکچرنگ پر انحصار کرتی ہے ، اور اسے تکنیکی جدت، جدید صنعت، داخلی کھپت اور زیادہ پیداواری صلاحیت پر مبنی معیشت میں تبدیل کرنا ہے ۔ مصنوعی ذہانت کو خاص اہمیت دی گئی ہے اور منصوبے میں مینوفیکچرنگ، خدمات اور دیگر شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو تیز کرنے کے لیے ‘اے آئی’ مہم چلانے پر زور دیا گیا ہے ۔