Tuesday , August 20 2019

کتھوا عصمت ریزی او رقتل کا معاملہ۔ متوفی بچی کے والدین جو میلوں دور پہاڑوں میں رہتے ہیں ’وہ بار بار یاد آتی ہے‘

ان کی بیٹی10جنوری2018جو غائب ہوگئی تھی‘ اور اس کی نعش ایک ہفتہ بعد جنگل سے ملی۔ والد نے کہاکہ ”ایسا کوئی دن نہیں جس روز میں اس کے متعلق سونچتانہیں ہوں۔وہ ہمیشہ میری آنکھوں میں ہے۔ وہ مجھے بار بار یادآتی ہے“

کتھوا۔جب پٹھان کورٹ کی عدالت میں ایک اٹھ سال کی معصوم کے ساتھ جموں کشمیر کے کتھوا میں پیش ائے اجتماعی عصمت ریزی اور قتل کے کیس میں چھ لوگوں کو سزائے سنائی جارہی تھی‘

اس وقت متوفی کے والدین دور پہاڑوں میں جوکارگل میں واقع ہے اپنی زندگی روزہ مرہ کی زندگی کی جدوجہد کررہے تھے‘سال میں دو مرتبہ قبائیلی بکروالوں کے سفر کی شروعات ہوتی ہے۔

ان کی بیٹی10جنوری2018جو غائب ہوگئی تھی‘ اور اس کی نعش ایک ہفتہ بعد جنگل سے ملی۔ والد نے کہاکہ ”ایسا کوئی دن نہیں جس روز میں اس کے متعلق سونچتانہیں ہوں۔وہ ہمیشہ میری آنکھوں میں ہے۔

وہ مجھے بار بار یادآتی ہے“۔وہ جانتے تھے کہ پیر روز فیصلہ آنے والا ہے۔ انہوں نے کہاکہ فیصلے کے لئے”باربار ان ہی باتوں کو دہرایاجارہا ہے جس کو عدالت میں رہ کر سننے میرے لئے ناقابل برداشت ہے۔

انہیں احسا س تھا کہ کیس کے تمام ملزمین قصور وار قرارنہیں دئے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ ”کافی وقت لگا مگر تسلی نہیں ہوئی۔

سب کو سزا ملنی چاہئے“۔انہوں نے کہاکہ میری بیٹی کے اغوا‘ عصمت ریزی او رقتل ہونے کے مہینوں بعد وہ واپس اس علاقے میں گئے تاکہ متوفی کی قبر میں دعاء کرسکیں۔

انہوں نے کہاکہ ایک بے قصور بچی کو بلاوجہہ قتل کردیاگیا اور ”ان تمام ملازمین کو جنھوں نے ہماری بچی ہم سے دور کردی وہ سزا کے مستحق ہیں تب ہی انصاف ہوگا“۔

مذکورہ ماں غمزدہ تھیں ”مجھے میری بیٹی کے ساتھ انصاف چاہئے جو اس وقت ہی پورا ہوسکتا ہے جب تمام ملزمین کو پھانسی کی سزا ملے“۔

ما ں نے کہاکہ ”دو ماہ قبل ہم اس کی قبر پر گئے تھے’’بہت یادآتی ہے‘ ہم اب بھی رورہے ہیں“۔ بھائی کی بیٹی کو ا س وقت گود لیاتھا جب ایک بس حادثے میں ان کے دونوں بچوں کی موت ہوگئی تھی۔

متوفی کے والدین بکروال قبائیلی ہیں‘ جو جموں کشمیر کی بارہ درج فہرست قبائیلی طبقات میں ہیں جس کی آبادی محض 60,000کی ہے۔

وہ اپنی زندگی پہاڑوں کے ہائی وے اور جنگلی علاقوں میں بسر کرتے ہیں۔ اس مقام پر رک جاتے ہیں جہاں پر ڈیرہ ڈالنے کا انہیں موقع مل جاتا ہے وہ سال میں چار ماہ گھاس والے میدان کی تلاش میں چلتے ہیں

TOPPOPULARRECENT