کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی

پرینکا گاندھی … کانگریس کا ماسٹر اسٹروک
بی جے پی خائف … لوک سبھا چناؤ میں ای وی ایم برقرار
رشیدالدین

’’اچھے دن آئیں گے ‘‘ 2014 ء لوک سبھا انتخابی مہم اور پھر حکومت کی تشکیل کے بعد نریندر مودی عام جلسوں میں عوام سے یہ نعرہ لگواتے رہے۔ عوام نے اچھے دن کی امید میں یہ نعرہ لگایا۔ گزشتہ ساڑھے چار برسوں میں عوام کے اچھے دن نہیں آئے۔ کسے پتہ تھا کہ نریندر مودی دراصل کانگریس کے اچھے دنوں کی پیش قیاسی کر رہے تھے۔ لوک سبھا انتخابات سے عین قبل کانگریس کو بی جے پی زیر اقتدار تین ریاستوں میں کامیابی حاصل ہوئی جوکہ شائد اچھے دن کا آغاز تھا۔ نہرو۔اندرا خاندان کی اہم رکن پرینکا گاندھی کے عملی سیاست میں قدم رکھنے کے اعلان نے کانگریس میں نئی جان ڈال دی ہیں۔ 2014 ء لوک سبھا چناؤ کی شکست کے بعد سے مختلف ریاستوں میں کانگریس کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ۔ راہول گاندھی کو خاندان سے مضبوط سہارے کی ضرورت تھی ۔ کیڈر بھی پرینکا کے عملی سیاست میں حصہ لینے کا بے چینی سے انتظار کر رہا تھا ۔ مودی اور امیت شاہ نے اقتدار کے نشہ میں اپوزیشن کو حقیر سمجھنا شروع کردیا تھا ۔ ایسے میں ان کے لئے بری خبر آگئی ۔ سیاسی مبصرین کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ صدر کانگریس راہول گاندھی ماسٹر اسٹروک کے ذریعہ مخالفین کے ہوش اڑا دیں گے ۔ سیاست میں صحیح وقت پر صحیح فیصلہ ہی کامیابی کی ضمانت ہوتا ہے ۔ انتخابات سے عین قبل کانگریس نے جو ٹرمپ کارڈ کھیلا ہے وہ پارٹی کے دوبارہ اقتدار کی ضمانت بن سکتا ہے۔ مرکز میں بی جے پی کو شکست دینے کیلئے اتحاد کی کوششوں میں بعض پارٹیاں کانگریس پر اپنے شرائط مسلط کرنا چاہتی تھیں۔ بعض علاقائی جماعتوں نے ان کی ریاستوں میں کانگریس کو مساوی موقف دینے سے انکار کیا لیکن راہول گاندھی کے ماسٹر اسٹروک کے بعد وہ جماعتیں بھی سوچنے پر مجبور ہوچکی ہیں۔ چناؤ سے عین قبل عوامی تائید حاصل کرنے کیلئے اعلیٰ طبقات کو 10 فیصد تحفظات کا اعلان کیا گیا۔ بی جے پی نے کہا کہ چناؤ سے عین قبل اس طرح کے اور بھی اعلانات ہوں گے ۔ وزیر قانون روی شنکر پرساد نے کہا کہ ٹوئنٹی 20 میچ میں جس طرح آخری اوور میں چھکے لگائے جاتے ہیں ، اسی طرح کئی اعلانات ابھی باقی ہیں۔ انہیں کیا پتہ تھا کہ کانگریس ٹیم کے آخری اوور کے گیند باز خود راہول گاندھی جنہوں نے چھکوں کے بجائے بی جے پی کی ساری ٹیم کو نئی گیند سے ڈھیر کردیا ۔ پرینکا کو پا رٹی کا جنرل سکریٹری مقرر کرتے ہوئے راہول گاندھی نے اپنی سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کیا ہے ۔ کل تک انہیں پپو اور امول بیبی کہنے والوں کو کرارا جواب دیا ہے ۔ کسی بھی شعبہ میں تجربہ کے ساتھ پس منظر یعنی بیاک گراؤنڈ کی اہمیت ہوتی ہے۔ راہول گاندھی نے ایسے گھرانے میں آنکھ کھولی جس نے ملک کو تین وزیر اعظم دیئے ۔ دو وزرائے اعظم والد اور دادی نے ملک پر جان نچھاور کردی۔ ایسے خاندان کا کچھ تو اثر ضرور آئے گا ۔ مودی ۔ امیت شاہ جوڑی نے کانگریس کو پریوار پار ٹی کا نام دیا لیکن راہول نے اس الزام کی پر واہ کئے بغیر پرینکا کو اہم ذمہ داری دی ہے ۔ وہ بی جے پی کے پروپگنڈہ سے مرعوب نہیں ہوئے۔ حالیہ ریاستوں کے نتائج اور پرینکا کے سیاست میں داخلہ سے ثابت ہوتا ہے کہ راہول گاندھی کے مشیر سیاست کی نبض سے بخوبی واقف ہیں۔ پرینکا گاندھی عملی سیاست میں حصہ لینے والی نہرو گاندھی خاندان کی 11 ویں شخصیت ہیں۔ موتی لعل نہرو سے اس خاندان کے سیاسی سفر کا آغاز ہوا ۔ پنڈت نہرو ، فیروز گاندھی ، اندرا گاندھی ، سنجے گاندھی ، راجیو گاندھی ، منیکا گاندھی ، سونیا گاندھی ، راہول گاندھی اور ورون گاندھی کے بعد اب پرینکا اس خاندان کی 11 ویں رکن ہیں۔ یہ محض اتفاق ہے کہ موتی لعل نہرو کے 1919 ء میں صدر کانگریس کے عہدہ پر فائز ہونے کے ٹھیک 100 سال بعد پرینکا نے جنرل سکریٹری حیثیت سے سیاست میں قدم رکھا ہے ۔ خاندانی پس منظر کی اہمیت سے کون انکار کرسکتا ہے۔ انہیں اس کی اہمیت کا کیا اندازہ ہوگا جن کا کوئی خاندانی پس منظر نہ ہو ۔ پریوار پارٹی کہنے والے نریندر مودی خود پریوار سے محروم ہیں۔ ان کے لئے بیوی ، بچے پریوار نہیں بلکہ سنگھ پریوار ہی سب کچھ ہے۔ جس نے شریک حیات کو اپنے ساتھ زندگی میں شریک رکھنے کے بجائے بے سہارا چھوڑ دیا ، وہ خاندان ، بچوں اور نسل کی اہمیت کیا جانے ۔ مودی ۔ امیت شاہ کے آبا و اجداد کی ملک کیلئے کوئی قربانیاں اور کارنامے تھوڑے ہیں جن کے سبب انہیں خاندانی پس منظر کی اہمیت کا اندازہ ہو۔ عملی سیاست میں حصہ لینے سے قبل پرینکا گاندھی نے سیاست داں ہونے کا ثبوت دے دیا تھا ۔ اپریل 2014 ء کو رائے بریلی میں پرینکا نے کہا تھا کہ ’’یہ بھارت دیش ہے ، اسے چلانے کیلئے 56 انچ کا سینہ کی ضرورت نہیں بلکہ اسے چلانے کیلئے دریا جیسا دل چاہئے‘‘۔
پرینکا گاندھی کو اگرچہ مشرقی اترپردیش کا انچارج مقرر کیا گیا ہے لیکن سیاست میں ان کے قدم رکھنے کا اثر ملک بھر میں دیکھا جائے گا ۔ ہوسکتا ہے کہ کانگریس پارٹی انہیں دیگر ریاستوں میں انتخابی مہم میں شامل کرے گی ، اسی لئے انہیں سارے اترپردیش کی ذمہ داری نہیں دی گئی۔ 32 لوک سبھا نشستوں پر مشتمل مشرقی اترپردیش میں نریندر مودی کی وارناسی اور یوگی ادتیہ ناتھ کی گورکھپور لوک سبھا نشست بھی شامل ہے۔ مغربی اترپردیش میں 32 لوک سبھا نشستوں کی ذمہ داری نوجوان قائد جیوتر ادتیہ سندھیا کو دی گئی ۔ دونوں عوامی مقبول قائدین کو اترپردیش کی ذمہ داری دیئے جانے سے ایک طرف بی جے پی تو دوسری طرف ایس پی ۔ بی ایس پی اتحاد کے ہوش اُڑ چکے ہیں۔ بی جے پی کو لوک سبھا انتخابات میں سیکولر ووٹ کی تقسیم کا یقین تھا کیونکہ ایس پی اور بی ایس پی نے کانگریس کو محض دو نشستیں الاٹ کرتے ہوئے اتحاد کرلیا تھا ۔ پرینکا گاندھی کے اترپر دیش میں قدم رکھتے ہی صورتحال تبدیل ہوجائے گی اور ایس پی اور بی ایس پی کو کانگریس سے اتحاد کیلئے مجبور ہونا پرے گا۔ گجرات سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم اور صدر بی جے پی اگر اترپردیش میں کیمپ بھی کرلیں تو کانگریس کے بڑھتے قدموں کو روکنا آسان نہیں۔ پرینکا کی آمد سے راہول گاندھی کو ملک کی دیگر ریاستوں میں مہم چلانے میں سہولت ہوگی۔ امکان ہے کہ پرینکا اپنی ماں سونیا گاندھی کی لوک سبھا نشست رائے بریلی سے مقابلہ کریں گی۔ دوسری طرف ملک میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر جاری تنازعہ نے شدت اختیار کرلی ہے۔ اندرون ملک اعتراضات جاری تھے لیکن اب تو ملک کے باہر بھی بعض سائبر اکسپرٹ مشینوں میں الٹ پھیر کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر نے لوک سبھا انتخابات میں مشینوں کو استعمال کا اعلان کیا اور واضح کردیا کہ بیالٹ پیپرس کی طرف واپسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ویسے بھی الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں اگرچہ بعض خامیاں ضرور ہوں گی لیکن انہیں مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ حالیہ تین ریاستوں کے نتائج کے بعد کانگریس پارٹی کو مشینوں کی مخالفت ترک کردینی چاہئے ۔ اگر مشینوں کو ہیک کیا جاسکتا تو پھر برسر اقتدار بی جے پی تینوں ریاستوں میں کچھ بھی کرسکتی تھی لیکن نتائج تو کانگریس کے حق میں آئے۔ کیا کانگریس نے مشینوں کو ہیک کیا تھا ؟ انتخابی شکست کے بعد سیاسی جماعتیں کوئی نہ کوئی بہانہ تلاش کرتی ہیں اور اب الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں دھاندلی اور الٹ پھیر کا نیا بہانہ مل چکا ہے ۔ ہندوستان میں آج بھی انتخابات آزادانہ اور منصفانہ ہیں جبکہ دیگر ممالک میں بڑے پیمانہ پر دھاندلیاں دیکھی جاتی ہیں۔ مشینوں کی کارکردگی پر شبہات کا اظہار کرنا دراصل جمہوریت اور رائے دہی کے طریقہ کار پر حرف زنی ہے۔ جو لوگ ناچ کے ماہر ہوتے ہیں ، ان کے لئے آنگن کوئی مسئلہ نہیں ہوتا اور وہ اعتراض کرتے ہیں جو ناچ سے واقف نہ ہوں۔ کانگریس زیر قیادت اپوزیشن پارٹیوں کو مشینوں پر اعتراض کے بجائے عوام سے رجوع ہوتے ہوئے تائید حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ غیر ضروری مسائل میں الجھنے سے فائدہ بی جے پی کا ہوگا۔ پرینکا کے سیاست میں داخلہ پر کانگریس کیڈر کے جذبات اس شعر کی طرح ہیں ؎
دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی
کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی

TOPPOPULARRECENT