کونڈا سریکھا کو مستعفی ہوجانے ہائی کمان کی مہلت، ریاستی وزیر آمادہ نہیں

   

حیدرآباد۔25۔اگسٹ(سیاست نیوز) کانگریس ہائی کمان کونڈا سریکھا کو برطرف کرے گی یا کونڈا سریکھا ریاستی کابینہ سے مستعفی ہوجائیں گی!ذرائع کے مطابق کانگریس اعلیٰ کمان نے تلنگانہ میں ریاستی وزیر کونڈا سریکھا کے معاملہ میں قطعی فیصلہ کرتے ہوئے تنازعہ کو ختم کرنے کے لئے کونڈا سریکھا کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے عہدہ سے مستعفی ہوجائیں جبکہ کونڈا سریکھا نے واضح کردیا ہے کہ وہ ریاستی کابینہ سے مستعفی نہیں ہونے والی ہیں۔ بتایاجاتاہے کہ اگر کونڈا سریکھا کابینہ سے مستعفی نہیں ہوتی ہیں تو ایسی صورت میں کانگریس پارٹی ہائی کمان انہیں برطرف کرنے کے اقدامات کرسکتی ہے۔پارٹی حلقوں میں کئے جانے والے دعوے کے مطابق پارٹی ہائی کمان نے نلگنڈہ سے تعلق رکھنے والے سینیئر منسٹر کے ذریعہ کونڈا سریکھا کو پارٹی اعلیٰ کمان کا پیغام پہنچادیا ہے اور ان کو 26 اگسٹ سے قبل مستعفی ہونے کا موقع فراہم کیا گیا ہے اگر وہ 26 اگسٹ تک اپنے عہدہ سے از خود مستعفی نہیں ہوتی ہیں تو ایسی صورت میں پارٹی قیادت ان کے مستقبل کے متعلق سخت فیصلہ کرنے پر مجبور ہوجائے گی۔بتایاجاتاہے کہ ریاستی وزیر کونڈا سریکھا اپنے ابتدائی موقف پر قائم ہیں اور ان کا کہناہے کہ انہوں نے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کے خلاف کوئی ریمارک نہیں کیا ہے اور نہ ہی کوئی بیان دیا ہے اسی لئے ان کے خلاف کاروائی کا کوئی جواز ہی نہیں پیدا ہوتا۔ کونڈا سریکھا ابتداء میں صدرپردیش کانگریس مسٹر مہیش کمار گوڑ پر یہ واضح کرچکی ہیں کہ ان کی دختر کونڈاسشمیتا کے ریمارکس سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے اور انہوں نے ان کے بات چیت کرنے والے سینیئر وزیر کوبھی یہی کہا ہے۔ انہو ںنے واضح کردیا ہے کہ وہ ریاستی کابینہ سے مستعفی ہونے والی نہیں ہیں اور نہ ہی وہ معذرت خواہی کریں گی کیونکہ انہوں نے کوئی ریمارک نہیں کیا ہے ۔ریاستی وزیر نے واضح کردیا ہے کہ پارٹی ہائی کمان کو اختیار ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق جو کاروائی کرنی ہے کرے لیکن ان کی جانب سے مکتوب استعفیٰ روانہ نہیں کیا جائے گا۔پارٹی ذرائع کے مطابق انچارج پارٹی امور محترمہ میناکشی نٹراجن نے کونڈا سریکھا معاملہ میں پارٹی ہائی کمان کو 3صفحات پر مشتمل جامع رپورٹ روانہ کی ہے اور پارٹی ہائی کمان صدرپردیش کانگریس کمیٹی مہیش کمار گوڑ کے علاوہ پارٹی کے ریاستی امور کی انچارج محترمہ میناکشی نٹراجن کی رپورٹس کا جائزہ لے رہی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ پارٹی کے اراکین اسمبلی نے محترمہ میناکشی نٹراجن سے کئے گئے تبادلہ خیال کے دوران کہا کہ اب اسمبلی انتخابات کے لئے محض 2برس رہ گئے ہیں اور اگر پارٹی کی جانب سے کوئی سخت موقف اختیار کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں آئندہ اسمبلی انتخابات کے دوران پارٹی کو سخت مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔بتایاجاتاہے کہ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی مسٹر مہیش کمار گوڑ‘ صدرنشین تادیبی کمیٹی مسٹر ملو روی کے علاوہ محترمہ میناکشی نٹراجن نے اس معاملہ میں علحدہ علحدہ رپورٹس پارٹی ہائی کمان کو روانہ کرچکے ہیں۔3/k/i
اور محترمہ کونڈا سریکھا نے گذشتہ یوم محترمہ میناکشی نٹراجن سے 3مرتبہ فون پر رابطہ کرتے ہوئے انہیں اپنے موقف سے واقف کروایا علاوہ ازیں وہ دیگر سینیئر قائدین سے بھی رابطہ کی کوشش کر رہی ہیں۔3