ٹیلی فون ٹیاپنگ کو ویب سیریز کی طرح چلایا جارہا ہے ، بی آر ایس سوشیل میڈیا کنوینر کرشنک کا الزام
حیدرآباد ۔ 8 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز) : بی آر ایس پارٹی سوشیل میڈیا کنوینر ایم کرشنک نے کانگریس حکومت پر سابق چیف منسٹر کے سی آر کو بدنام کرنے کے لیے 100 کروڑ روپئے خرچ کرنے کا الزام عائد کیا ہے ۔ آج تلنگانہ بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کرشنک نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے 100 کرور روپئے خرچ کرتے ہوئے تکوگوڑہ میں ایک جلسہ عام منعقد کیا ہے ۔ اس جلسہ عام کا ایجنڈہ صرف بی آر ایس کے سربراہ کے سی آر کو تنقید کا نشانہ بنانا تھا ۔ راہول گاندھی اور ریونت ریڈی کو کے سی آر سے کتنا ڈر و خوف ہے اس جلسہ عام سے پتہ چل گیا ہے ۔ راہول گاندھی نے انہیں تحریر کر کے دیا گیا اسکرپٹ پڑھ کر چلے گئے ۔ ورنگل میں منعقدہ ڈیکلریشن میں کسانوں کو 500 روپئے بونس دینے اور 15 ہزار روپئے معاوضہ دینے کا وعدہ کیا گیا ۔ لیکن اس پر کوئی عمل آوری نہیں کی گئی ۔ اب تکوگوڑہ میں منعقدہ جلسہ عام میں کے سی آر پرٹیلی فون ٹیاپنگ کرنے کے الزامات عائد کئے گئے ۔ کسانوں کی خود کشیاں ، خشک ہونے والی فصلوں اور کسانوں کے مطالبات کو نظر انداز کرتے ہوئے ساری توجہ فون ٹیاپنگ پر دی گئی ۔ کانگریس حکومت کی 100 دن کی کارکردگی مایوس کن ہے ۔ لوک سبھا میں ووٹ حاصل کرنے کی خاطر کانگریس حکومت فون ٹیاپنگ کو ویب سیریز کی طرح چلا رہی ہے ۔ مودی ای ڈی کے نام سے ہراساں کررہے ہیں ۔ جب کہ کانگریس حکومت اپوزیشن جماعتوں پر کیچڑ اچھال رہی ہے ۔ 10 لاکھ فونس کی ٹیاپنگ کرنے اور اس کے لیے ایک وار روم تیار کرنے کے الزامات عائد ہورہے ہیں ۔ لیکن اس کی وسیع تر تحقیقات کو نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ کرشنک نے کہا کہ جب سونیا گاندھی یو پی اے کی چیرپرسن اور راہول گاندھی رکن پارلیمنٹ تھے تب وزیراعظم کے عہدے پر فائز ڈاکٹر منموہن سنگھ نے فون ٹیاپنگ پر بیان دیتے ہوئے فون کی ٹیاپنگ کو ضروری قرار دیا تھا ۔ اس بیان پر راہول گاندھی اور ریونت ریڈی وضاحت کریں ۔۔ 2