ٹرمپ … ایران سے ہار ماننے پر مجبور
مودی… بحران میں بھی انتخابی مہم
رشیدالدین
دنیا نے ایک ہارے ہوئے صدر کو دیکھا جو کامیابی کے دعوؤں کے درمیان اپنی ناکامی ، شکست اور بوکھلاہٹ کو چھپانے کی کوشش کر رہے تھے ۔ یہ کوئی اور نہیں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ہیں جو ایران سے جنگ کے 34 دن گزرنے کے بعد امریکی قومی سے خطاب کر رہے تھے۔ کسی بھی ملک کے صدر کے قوم سے خطاب سے قبل عوام کو اچھی خبروں کی امید ہوتی ہے۔ امریکی عوام کو توقع تھی کہ ٹرمپ ایران سے جنگ کے خاتمہ کا اعلان کریں گے تاکہ دنیا بھر میں تیل ، گیس اور معاشی بحران کا خاتمہ ہو لیکن ٹرمپ نے نہ صرف اپنی قوم بلکہ ساری دنیا کو مایوس کردیا۔ ٹرمپ کے خطاب میں کوئی نئی بات نہیں تھی۔ گزشتہ چار ہفتوں سے وہ جن باتوں کو کہہ رہے تھے ، وہی باتیں قوم سے خطاب میں دہرادی گئیں۔ دنیا کی بڑی طاقت یعنی سپر پاور ملک کے صدر اپنے دعوؤں کے ذریعہ شکست کو چھپانا چاہتے تھے لیکن ان کی باڈی لینگویج اور الفاظ کی ادائیگی کا انداز چھپی مایوسی اور خوف کو بیان کر رہا تھا ۔ جنگ کے بارے میں امریکی عوام کو مطمئن کرنے سے زیادہ ٹرمپ کا خطاب اسرائیل کو خوش کرنے کی کوشش دکھائی دے رہا تھا ۔ ایسا محسوس ہوا کہ ٹرمپ دراصل نتن یاہو کا لکھا بیان پڑھ رہے ہیں۔ دنیا نے وائیٹ ہاؤز کا یہ تماشہ شائد پہلی مرتبہ دیکھا اور امریکی تاریخ میں ایک ناکام صدر کو بھی پہلی بار دیکھا گیا۔ ٹرمپ کے خطاب کو سننے کے بعد ماہرین نفسیات کی رائے یاد آگئی جس میں کہا گیا کہ سیاستدانوں کے لئے ریٹائرمنٹ کی عمر کا لازمی طور پر تعین ہونا چاہئے کیونکہ عمر کے ایک دور کے بعد دماغ ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔ کچھ یہی حال ٹرمپ کا ہے اور صدارت کی دوسری میعاد میں ان کے بیانات کو دیکھیں تو محسوس ہوگا جیسے کوئی دماغی طور پر معذور شخص ہو ، جو عرف عام میں سٹھیا گیا ہو۔ پاکستان کے خلاف ہندوستان کے آپریشن سندور سے لے کر آج تک ٹرمپ کے بیانات دنیا کیلئے مذاق کا موضوع بن چکے ہیں۔ اب تو دنیا نے ٹرمپ کے بیانات کو سنجیدہ لینا اور توجہ دینا بند کردیا ہے۔ دنیا کے سپر پاور کی حالت قابل رحم ہوچکی ہے اور موجودہ صورتحال کیلئے ٹرپ ذمہ دار ہیں۔ نریندر مودی اور ان کے گڈ فرینڈ ٹرمپ کی عادات و اطوار میں یکسانیت ہے۔ جس طرح مودی دنیا کے حالات سے بے پرواہ ہوکر انتخابی مہم میں مصروف ہیں ، اسی طرح ٹرمپ بھی تضادات پر مبنی بیانات اور دعوؤں کے ذریعہ مذاق کا موضوع بن چکے ہیں۔ امریکی صدر نے 19 منٹ کے اپنے خطاب میں کوئی نئی بات نہیں کہی اور ا پنی باتوں اور دعوؤں کو دہرایا۔ دراصل امریکی عوام کی جنگ کے خلاف بڑھتی ناراضگی سے بچنے کیلئے ٹرمپ نے خطاب کا فیصلہ تو کرلیا لیکن ان کے پاس کہنے کیلئے کچھ نہیں تھا۔ ضابطہ کی تکمیل کے طور پر انہوں نے لکھا ہوا بیان پڑھ تو دیا لیکن ان کے اندر کا خوف اور مایوسی صاف جھلک رہی تھی۔ ایک طرف جنگ میں کامیابی کا دعویٰ اور دوسری طرف مزید تین ہفتے سخت حملوں کا اعلان، ایک طرف ایران میں اقتدار کی تبدیلی کا دعویٰ تو دوسری طرف سمجھوتے کی امید۔ جب ایران میں قیادت ہی ختم ہوگئی تو سمجھوتہ کس سے کریں گے؟ ناٹو ممالک اور خلیجی ممالک سے بھی ٹرمپ نے اپنا پلہ جھاڑتے ہوئے کہہ دیا کہ ہر ملک اپنے طور پر فیصلہ کرلیں۔ آبنائے ہرمز پر دھمکیوں کی ناکامی کے بعد ٹرمپ نے کہہ دیا کہ امریکہ کو اس راستہ کی ضرورت نہیں ہے اور جن کو یہ راستہ چاہئے وہ اپنا معاملہ طئے کرلیں۔ امریکی صدر کے خطاب سے قبل ایران کے صدر نے امریکی عوام کے نام پیام جاری کرتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جنگ مسلط کئے جانے اور شہریوں کو نشانہ بنانے کی تفصیلات سے واقف کرایا۔ ٹرمپ اپنے خطاب سے پہلے کم از کم ایرانی صدر کا پیام پڑھ لیتے تو بہتر ہوتا۔ ٹرمپ جب ایران کی تباہی ، میزائلس اور ڈرون کے خاتمہ کا دعویٰ کر رہے تھے، اسی وقت ایران نے 100 میزائیلس کے ذریعہ اسرائیل پر تابڑ توڑ حملے کئے۔ ایسا محسوس ہوا کہ ایران امریکی صدر کے خطاب پر 100 میزائلس کی سلامی دی ہو۔ ٹرمپ جب خلیجی ممالک کو تحفظ فراہم کرنے کا دعویٰ کر رہے تھے ، اسی وقت ایران نے کئی عرب ممالک کے امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے ٹرمپ کے دعویٰ کا مذاق اڑایا۔ ٹرمپ کے تمام دعوؤں کا ایران نے طاقت کے مظاہرہ کے ذریعہ نہ صرف جواب دیا بلکہ ٹرمپ کی دھمکی اور پتھر کے دور میں واپس بھیجنے کے اعلان پر ایران نے کہا کہ 100 سال تک جنگ کے لئے تیار ہے۔ جب ایران کی فوج ، بحریہ اور فضائیہ کی طاقت ختم ہوچکی ہے تو پھر اسرائیل پر میزائیلس کہاں سے آرہے ہیں؟ ٹرمپ دراصل اسرائیل کی محبت میں جنگ میں اس طرح پھنس چکے ہیں کہ باہر نکلنے کا راستہ دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ ٹرمپ ، نتن یاہو اور مودی نے سمجھا تھا کہ ایک دو ہفتے میں معاملہ نمٹ جائے گا۔ اسی امید میں مودی نے علی خامنہ ای کی موت پر تعزیت تک نہیں کی لیکن جب امریکہ اور اسرائیل کی پسپائی ہوئی تو مودی تیل اور گیس کی مدد کے لئے ایران سے رجوع ہونے پر مجبور ہوگئے ۔ ایران نے بھی روایتی دوستی کا بھرم رکھتے ہوئے تیل اور گیس کے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے دی ۔ اتنا ہی نہیں ہندوستان کو ایران سے تیل خریدنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ ٹرمپ کے خطاب کے وقت امریکہ میں رات کے 9 اور ایران میں صبح کے 4 بج رہے تھے اور اسی وقت ایران نے طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسرائیل اور خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا۔ جنگ کے میدان میں ایران کو جھکانے میں ناکامی کے بعد وائیٹ ہاؤز پر سے دنیا کا بھروسہ ٹوٹنے لگا ہے۔ دنیا بھر میں امریکہ کا سپر پاور کا بھرم بھی ٹوٹ گیا۔ تاریخ میں امریکہ کبھی اس قدر کمزور نہیں دیکھا گیا جب ایک طرف جنگی شکست سے دنیا میں ساکھ متاثر ہوئی تو دوسری طرف اندرون ملک سوالات کا سامنا ہے۔ آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول اور گرفت کو آخرکار ٹرمپ نے تسلیم کرلیا۔ انہوں نے شکست تسلیم کرنے کے انداز میں کہہ دیا کہ جب جنگ ختم ہوگی تو آبنائے ہرمز خود کھل جائے گا۔ تیل کے ذخائر میں دنیا میں نمبر ون ونیزویلا پر کنٹرول کے بعد ٹرمپ کی نظر ایران کے ذخائر پر تھی ۔ ایک اخباری انٹرویو میں ٹرمپ نے دل کی بات زبان پر لائی جس میں انہوں نے کہا کہ ایران کے تیل میں انہیں دلچسپی ہے۔ دنیا بھر میں بے عزتی اور مایوسی کا یہ عالم ہے کہ ٹرمپ نے گزشتہ 10 دنوں میں 25 متضاد بیانات دیئے ۔ دو دن میں 9 مرتبہ ایران کی شکست کا اعلان کیا گیا ۔ آبنائے ہرمز کے بارے میں ایران کو پہلے 48 گھنٹے کی مہلت دی گئی ، پھر اچانک 10 دن کی توسیع کی گئی ۔ ٹرمپ اب کہہ رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز کی ضرورت نہیں جس کو ضرورت ہے ، وہ فیصلہ کریں۔ بار بار بدلتا موقف جنگی جنون کا نتیجہ یا پھر شکست کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے ۔
’’گاؤں جلے ہنومان باہر‘‘ وزیراعظم نریندر مودی کا حال کچھ اسی طرح ہے جو مغربی ایشیاء کی جنگ کے ہندوستان پر اثرات کے باوجود انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح ہندوستان میں بھی تیل اور گیس کا بحران پیدا ہوا لیکن مرکزی حکومت اس بحران کو قبول کرنے تیار نہیں۔ اگر جنگ طوالت اختیار کرتی ہے تو ہندوستان میں صورتحال سنگین ہوجائے گی جس کا ماہرین معاشیات نے واضح طور پر اشارہ دیا ہے۔ نریندر مودی کو گزشتہ 12 برسوں کے دوران کبھی بھی عوامی مسائل کی فکر نہیں رہی ۔ انہوں نے سیاسی فائدہ کو ہمیشہ ترجیح دی۔ 100 دن میں مہنگائی کا خاتمہ اور ہر سال دو کروڑ روزگار فراہم کرنے کا وعدہ فراموش کردیا گیا۔ غیر بی جے پی ریاستوں میں عدم استحکام کے ذریعہ بی جے پی حکومتوں کو قائم کرنا نریندر مودی کی اولین ترجیح رہی۔ مودی ان دنوں کیرالا ،آسام اور مغربی بنگال کی انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔ ممتا بنرجی بی جے پی کے نشانہ پر ہیں اور الیکشن کمیشن کی مدد سے بنگال میں بی جے پی حکومت کی تشکیل کی تیاریاں ہیں۔ اس بات کا اندیشہ ہے کہ الیکشن سے قبل بنگال میں لاء اینڈ آرڈر کے نام پر صدر راج نافذ کیا جائے گا۔ کیرالا میں بی جے پی کے اقتدار کا کوئی امکان نہیں لیکن بی جے پی اہم اپوزیشن کا موقف حاصل کرنا چاہتی ہے۔ نریندر مودی آسام میں بی جے پی کے اقتدار کی واپسی کیلئے اپنی طاقت جھونک چکے ہیں۔ کیرالا میں بائیں بازو اتحاد کو کانگریس زیر قیات یو ڈی ایف اتحاد سے سخت مقابلہ درپیش ہے۔ تین ریاستوں میں کانگریس قیادت بالخصوص راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی کی مقبولیت کا نتائج سے بخوبی اندازہ ہوجائے گا ۔ کیرالا میں کمیونسٹ پارٹیوں کی آزمائش ہے جبکہ بنگال میں ممتا بنرجی کو اپنے قلعہ کی حفاظت کرنی ہے ۔ نریندر مودی اور امیت شاہ کی مقبولیت کے گراف میں اضافہ ہوا یا پھر کمی ، اس کا اندازہ تین ریاستوں کے نتائج سے ہوگا۔ مجموعی طور پر تینوں ریاستوں میں سیکولر بنام فرقہ پرست طاقتیں مقابلہ درپیش ہے۔ جنگ کی صورتحال پر معراج فیض آبادی کا یہ شعر صادق آتا ہے ؎
ہم نے توڑا ہے غلامی کی فصیلوں کا غرور
اب یہ جیتی ہوئی بازی نہ پلٹنے دیں گے