آپ کے مسلمان بھائیوں کی حفاظت کریں۔ چیف منسٹر ممتا کی ہندوؤں سے ہنو مان جینتی کے قریب اپیل

,

   

بنرجی کا تبصرہ ا یسے وقت میں آیا جب ایک روز قبل ہولی ضلع کے ریشرا اور سیارم پور میں رام نومی جلوس کے دوران دو گروپوں میں تصادم پیش آیاتھا


کاہجوری۔مغربی بنگال کی چیف منسٹر ممتا بنرجی نے ”ہندو بھائیوں“ سے اقلیتوں کی حفاظت کا استفسار کیا اوردعوی کیاکہ جمعرات کے روز ایک اوردورکے ریاست میں تشدد کا منصوبہ اسو قت بنایا ہے جو سارا ملک ہنومان جینتی تقاریب منائے گا۔

انہوں نے دعوی کیاکہ سیاسی ورکرس تہوار کے اختتام پذیر ہوجانے کے پانچ دن بعد بھی تشدد کو بڑھا وا دینے کے لئے اقلیتی علاقوں میں ہاتھوں میں ہتھیار اور بم تھامے ہوئے جان بوجھ کر رام نومی جلوس نکال رہے ہیں۔

بنرجی کا تبصرہ ا یسے وقت میں آیا جب ایک روز قبل ہولی ضلع کے ریشرا اور سیارم پور میں رام نومی جلوس کے دوران دو گروپوں میں تصادم پیش آیاتھا۔یہ واقعات ہواڑہ کے قاضی پورہ میں 30مارچ کے روز تہوار کے روز ایک جھڑپ کے بعد پیش ائے ہیں۔

پوربا میدن پور ضلع میں ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے بنرجی نے کہاکہ ”میں اپنے ہندو بھائیوں کو یہ ذمہ داری تفویض کروں گی کہ 6اپریل (ہندو مان جینتی)کو اقلیتوں کو تشدد کا نشانہ نہ بنایاجائے“۔

بنرجی کی ہندوؤں سے اپیل بنگلہ دیش کے بانی بنگا بندھو شیخ مجیب الرحمن کے ”روکھے دارو“تحریک کی یاد دلاتی ہے جو 1964میں اس وقت کے مشرقی پاکستان میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات رونماہونے پر شروع کی گئی تھی۔

ترنمول کانگریس سربراہ نے ہندوؤں پر ایس سی اور قبائیلی طبقات کو تحفظ دینے پر بھی زوردیا۔ بنرجی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سینئر بی جے پی لیڈر راہول سنہانے زوردے کر کہاکہ ٹی ایم سی سربراہ یہ بیانات ساگر دیگھی ضمنی انتخابات میں ان کی پارٹی کی شکست کے بعد دے رہے ہیں۔

جس میں انہوں نے دعوی کیاتھا کہ ہندو او رمسلمان دونوں ان کی پارٹی سے منھ موڑ چکے ہیں۔